ہجر کی شب نہ چراغوں کو بجھا کر رکھنا

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

ہجر کی شب نہ چراغوں کو بجھا کر رکھنا
وصل کی دل میں سدا آس لگا کر رکھنا

کون جانے کہ کہاں کون ترے کام آئے
دوست تو دوست عدُو سے بھی بنا کر رکھنا

راہبر بن کے تجھے لوٹا ہے جس رہزن نے
اس کے غم کو نہ سدا دل سے لگا کر رکھنا

زیست بے رنگ ہوا کرتی ہے خوابوں کے بنا
اپنی آنکھوں میں کوئی خواب بسا کر رکھنا

لوٹ آئے گا وہ اک روز ، کہا تھا اُس نے
اپنے جوڑے میں سدا پھول سجا کر رکھنا

آشکارا نہ ہو اس غم کا بھرم دنیا پر
دل میں اُٹھتا ہوا طوفان دبا کر رکھنا

وہ ترا ہو کہ نہ ہو تجھ سے وہ منسوب تو ہے
اس کو دھڑکن کی طرح دل میں بسا کر رکھنا

لوٹ کر عذراؔ اسے تیرے ہی پاس آنا ہے
دل میں امید کا اک پھول کھلا کر رکھنا

Rate it:
Views: 587
23 Apr, 2013