ہجر چھپتا نہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہجر چھپتا نہیں آنکھوں میں نمی رہتی ہے
زندگی ختم نہیں ہوتی چلی رہتی ہے
کب ملو گے یہ ملاقات ضروری ہے اب
عشق عاشق کا ادھورا ہے کمی رہتی ہے
جینے کا سیکھ سلیقہ لو ہے جینا کیسے
ہاتھ منہ دھوتے نہیں میل جمی رہتی ہے
محو رہتا ہوں خیالوں میں غم اتنے ہیں
وقت ملتا ہی نہیں روٹی پڑی رہتی ہے
سلسلے ختم نہیں ہوتے محبت کے کبھی
زندگی ختم نہیں ہوتی جڑی رہتی ہے
پھول مر جھائے تو گر برگ شجر جاتے ہیں
باغ میں آئے خزاں شاخ ہری رہتی ہے
یہ کبھی موت سے ڈرتے نہیں ہیں دیوانے
زیست ہر وقت دیے پہرا کھڑی رہتی ہے
عشق دیوانے کو دیوانہ بنا دیتا ہے
ختم ہوتی نہیں محفل تو سجی رہتی ہے
عشق شہزاد کبھی کم نہیں ہوتا دل سے
دیکھ لو دل میں محبت تو بھری رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






