یہ محبت قضا نہ ہو جائے
Poet: Sheikh Huma Ali By: Sheikh Huma Ali, Karachiیہ محبت قضا نہ ہو جائے
وہ کہیں بےوفا نہ ہو جائے
میری اک عمر کی ریاضت ہے
اے خدا وہ جدا نہ ہو جائے
وہ محبت قضا نہ ہو جائے
وہ جسے میں نے ٹوٹ کر چاہا
وہ کسی اور کا نہ ہوجائے
اس سے کم کم میں بات کرتی ہوں
کہ کہیں وہ خفا نہ ہو جائے
یہ محبت قضا نہ ہو جائے
وہ تو دنیا سے مختلف ہے ابھی
دوسروں کی طرح نہ ہوجائے
دل کی ہر بات جان لیتا ہے
وہ کہیں دیوتا نہ ہوجائے
یہ محبت قضا نہ ہو جائے
سوچتی ہوں یہ محبت میری
زندگی کی خطا نہ ہو جائے
اسکو پانے کی آرزو میں کہیں
زندگی ہی خفا نہ ہوجائے
یہ محبت قضا نہ ہو جائے
کل تلک ہاتھ تھام کر میرا
ہر قدم ساتھ ساتھ چلتا تھا
ڈر رہی ہوں کہ آنکھ کھلنے پر
وہ کوئی دوسرا نہ ہو جائے
یہ محبت قضا نہ ہو جائے
میں نے چاہا ہے جس کا قرب سدا
دور جا کر کھڑا نہ ہوجائے
یہ محبت قضا نہ ہو جائے
وہ بےوفا نہ ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






