یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے

Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachi

یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے
ہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہے

جزائے کاوش تعمیر یہ ملی ہے ہمیں
صدائے تیشہ سدا ساتھ گھر میں رہتی ہے

ہنر کسی میں ہو قسمت ہے اس کی در بدری
کہ آب و تاب گہر کب گہر میں رہتی ہے

سماعتوں کا پیمبر ہی بن سکے تو سنے
وہ داستاں جو لب چشم تر میں رہتی ہے

ہر ایک صبح پہ مقتل کا ہو رہا ہے گماں
نہ جانے کون سی سرخی خبر میں رہتی ہے
 

Rate it:
Views: 139
28 Feb, 2025