ﮐﺒﮭﯽ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﯿﺖ
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinﮐﺒﮭﯽ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﯿﺖ
ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﮯ ﺑﺲ
ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﯾﮧ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﯽ
ﻭﺍﺭﺩﺍﺕ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﯿﺘﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺩﺍﺩ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﻮﮞ
ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﻧﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺟﻮ ﻧﮑﻠﺘﮯ
ﺍﻧﮑﺎ ﻋﮑﺲ ﺳﺠﺎ ﻛﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮔﺮﺗﮯ
ﺳﻨﺒﮭﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﻮﺝ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﭽﻠﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﮑﺲ ﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻤﺲ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮐﺒﮭﯽ
ﺧﯿﺎﻝ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﻨﻮﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﺳﻢ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ، ﮐﺲ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﺎ ﺣﺎﻝ ﺗﮭﺎ
ﺍﭘﻨﺎ ﯾﮧ ﺩِﻝ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﮐﻤﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ
ﺍﭘﻨﯽ ﺟﯿﺖ ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﯿﺖ
ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﯿﺖ ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺎﺅﮞ
ﮐﯽ ﮨﺮﯾﺎﻟﯽ ﻣﯿﮟ ﺁ ﻛﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﻠﻮﮞ ﻛﮯ
ﺣﻞ ﭼﻼ ﻛﮯ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ
ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﺁ ﻛﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺩِﻝ ﺑﯿﮩﻼﺗﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﻮﺍﻟﮯ ﻛﮯ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭼﺒﺎ ﻟﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﻧﮏ ﺍﭨﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﮦ ﺩﺑﺎ ﻟﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻨﮭﺎ ﻣﻨﮭﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﻪ ﺑﻨﺎ ﻛﮯ ﮔﯿﺖ
ﻏﺰﻟﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺗﮭﮯ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﭙﻨﮯ
ﺳﺎﺭﮮ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﮌﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺋﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺟﮕﺎ
ﮐﺮ ﮐﻮﺭﺍ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﯿﻦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ
ﺩﮬﯿﺎﻥ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﻛﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﻛﮯ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﻛﮯ ﭘﯿﭽﮭﯽ ﺑﯿﭩﮫ
ﻛﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺞ ﻣﻨﺞ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭺ ﺳﻤﺠﮫ ﻛﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮯﺗﺮﺗﯿﺐ ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮬﻢ
ﺑﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﮯ ﮔﯿﺖ ﺗﮭﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






