ﮐﺒﮭﯽ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﺒﺶ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinﮐﺒﮭﯽ ﺟﺬﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﺒﺶ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ
ﻟﻄﻒ ﮐﻮ ﺗﻦ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻼﻝ
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺣﻖ
ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻏﻢ ﺳﮯ ﻧﺎ ﮨﻮ ﺭﻧﺞ ﻣﺠﮭﮯ
ﻣﺮﻧﮯ ﺩﮮ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﺎ ﺑﮍﮬﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﺎ ﻋﻄﺎ
ﮐﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﭘﮭﻨﺴﺎ ﮨُﻮﺍ ﺗﯿﺮﺍ
ﺣﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﺏ ﮐﮭﻼ ﮨُﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ
ﺧﺒﺮ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻄﺎ ﮐﺮ ﺗﯿﺮﯼ
ﺷﮩﺮﺕ ﮐﮯ ﺷﺎﮨﺪ ﺳﺘﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺗﺮﯼ ﮨﻮﺋﮯ
ﯾﮧ ﻏﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮ ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﮨﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ
ﺁﻧﮑﮫ ﻧﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺮﻧﮯ ﭘﮧ ﯾﮧ ﻏﻢ
ﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﮨُﻮﺍ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﺏ ﻧﺎ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﺎﻡ
ﮨﻮﺋﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﻼ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ
ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺻﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ
ﻟﻤﺤﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻮﮞ ﻧﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮ
ﺍﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ ﺍﺷﮏ ﺁﻧﻜﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎ
ﺟﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻭﺿﺎﺣﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ
ﮐﭽﮫ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﮔﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﺣﺴﺎﻥ
ﺟﺘﺎ ﮐﺮ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺍﺱ ﺁ
ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺍُﺩﺍﺱ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺨﺸﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺘﻢ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺰﯾﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺘﺎ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ ﻣﯿﺮﮮ
ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﺠﺮ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺍﮞ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ
ﻣﻨﻈﺮ ﺟﻮ ﮈﮬﻞ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ
ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮨﯽ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﮐﺮ ﺍﺏ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﺭﺗﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮒ ﻧﺎ ﯾﻮﮞ ﺣﺎﻝ ﻧﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺮﺍ ﺑﻨﺎ ﻣﯿﺮﮮ
ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﺷﻤﻊ ﺑﺠﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﺗﻮ
ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮ ﮨﺎﺋﮯ ! . ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﺣﺴﻦ
ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﮨُﻮﺍ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺟﺎﻥ
ﺟﺎﮞ ﺍﺏ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﺘﺎﮐﺮ
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






