میکسیکو کی آنڈریا میزا مس یونیورس2021

آنڈریا میزا نے اتوار کے روز امریکا کے فلوریڈا میں ہالی ووڈ میں منعقد تقریب میں دنیا بھر کی ستر سے زیادہ حسیناوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے  سن 2021 کے مس یونیورس کا خطاب حاصل کر لیا۔ مس میانمار نے اس موقع کا استعمال اپنے ملک میں خونریز فوجی بغاوت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے کیا۔

حسینہ کائنات کے اس مقابلے میں برازیل اور پیرو کی حسینائیں بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔ ٹیلی ویزن پر نشر کی گئی اس رنگا رنگ تقریب کی میزبانی امریکی اداکار میریو لوپیز اور ٹیلی ویزن کی شخصیت اولیوا کپلو نے کی۔ سابقہ مس یونیورس مقابلوں میں شامل چیزلی کرائسٹ، پاولینا ویگا اور ڈیمی لیہ ڈیبو(جوسن2017 میں مس یونیورس منتخب ہوئی تھیں) نے تجزیہ کار اور کمنٹیٹر کا کردار کیا جبکہ آٹھ خواتین پر مشتمل جیوری نے فاتح کا فیصلہ کیا۔

مس یونیورس کے طور پر نام کا اعلان ہوتے ہی سرخ ایوننگ گاون میں ملبوس میزا کے آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔ انہوں نے اسٹیج پر موجود مقابلے کی دیگر شرکاء کو گلے لگا یا۔ انہوں نے 70سے زائد شرکاء کو شکست دے کر مس یونیورس کا اعزاز حاصل کیا۔

توجہ کا مرکز مس میانمار

فائنل مقابلے کے انعقاد سے چند دن قبل چوٹی کی 21 امیدواروں میں پہنچنے والی مس میانمار تھوزار ونٹ لوین اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں جب انہوں نے اس موقع کا استعمال اپنے ملک میں ہونے والی فوجی بغاوت کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے کیا۔

اپنے ویڈیو، جس میں وہ بغاوت مخالف مظاہرین کے ساتھ شریک نظر آ رہی تھیں، میں انہوں نے کہا ”ہمارے شہری مر رہے ہیں اور فوج ہر روز انہیں گولیاں مار رہی ہے۔ اس لیے میں ہر ایک سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میانمار کے بارے میں آواز بلند کریں۔"

مس میانمار نے بہترین نیشنل کاسٹیوم کا ایوارڈ بھی جیتا۔ انہوں نے روایتی برمی پیٹرن والا لباس پہن رکھا تھا اور ہاتھوں میں ایک تختی اٹھارکھی تھی جس پر لکھا تھا”میانمار کے لیے دعا کریں۔"

یکم فروری کو میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں اب تک تقریباً آٹھ سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ چار ہزار سے زیادہ افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

42