کیا طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ مرچکے

image
بشکریہ افغان ذرائع ابلاغ

طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ زندہ ہیں یا مردہ ہیں اس بارے میں اب تک قیاس آرائیاں جاری ہیں، جب کہ اکتوبر میں ان کی وفات سے متعلق افواہوں کو توڑنے کیلئے جامعہ حکمیمہ میں ان کے خطاب کی اطلاعات بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں، تاہم وہ ابھی تک منظر عام پر نظر نہیں آئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے زندہ یا مردہ ہونے سے متعلق مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم منظر عام پر نہ آنے کے بعد ان کے زندہ ہونے سے معلق اسرار مزید گہرا ہوگیا ہے۔ اب بھی یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ طالبان کی قیادت کون کر رہا ہے۔

دیکھا جائے تو ہیبت اللہ اخونزادہ کی ہلاکت سے متعلق خبریں جب عروج پر تھیں تو اس دوران ہی ایسی پوسٹ سامنے آئیں، کہ جن سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ زندہ ہیں۔

منظر عام پر آنے والی اطلاعات کے مطابق “طالبان امیر” نے قندھار میں ایک مدرسے میں خطاب کیا۔ مدرسہ حکیمیہ کے مہتتم کا کہنا ہے کہ طالبان امیر کے منظر عام پر آنے کے بعد افواہیں اور پروپیگنڈا ختم ہو چکا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 3 برس قبل اپنے بھائی کے ساتھ ایک خودکش حملے میں مارے جاچکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے طالبان کے روپوش سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں پتہ لگانے کی بھرپور کوشش کی تاہم کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔

طالبان کے ترجمان کے اس دعوے کے دو ماہ بعد، کہ اخونزادہ زندہ ہیں اور قندھار میں ہیں، 30 اکتوبر کو یہ افواہ پھیل گئی کہ ” طالبان امیر ” نے قندھار کے ایک مدرسے میں خطاب کیا۔

طالبان کے عہدیداروں نے بھی حکیمیہ مدرسہ میں ان کی تقریر کی تصدیق کی اور تقریباً دس منٹ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جاری کی۔ اس آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز اخونزادہ کی ہے۔ جس میں وہ کہہ رہے ہیں ” اللہ افغانستان کے مظلوم عوام کو اجر عظیم عطا کرے جنہوں نے 20 برس تک کافروں اور ظالموں سے مقابلہ کیا۔

ماضی میں اسلامی تہواروں کے موقع پر ان کے پیغامات بالعموم تحریری شکل میں ہوتے تھے جو پڑھ کر سنائے جاتے تھے۔

رواں سال 30اکتوبر کے بعد سے ہی مدرسہ حکیمیہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ طالبان حامیوں کی بڑی تعداد اس مدرسے میں پہنچ رہی ہے۔ مدرسے کے نیلے اور سفید گیٹ کے باہر طالبان جنگجو محافظ بھی موجود ہیں۔

مدرسہ کی سیکیورٹی کے سربراہ معصوم شکر اللہ نے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا جب “امیرالمومنین” یہاں آئے تو وہ مسلح تھے اور ان کے ساتھ 3 سیکورٹی گارڈ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مدرسے میں اس وقت موبائل فون اور ساونڈ ریکارڈر بھی لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ محمد نامی ایک 19سالہ طالب علم کا کہنا تھا،”ہم سب انہیں دیکھ رہے تھے اور اشکبار تھے۔”

جب محمد پوچھا گیا کہ کیا وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ آخونزادہ ہی تھے تو اس نے کہا وہ اور اس کے ساتھ خوشی کے مارے اتنے پر جوش تھے کہ وہ “ان کا چہرہ غور سے دیکھنا بھول گئے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے طالبان کے بیشتر بڑے رہنما عوامی طورپر بہت کم سامنے آئے۔ امریکا کے اسی طرح کے ایک حملے میں اپنے پیش رو ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد آخونزادہ 2016 میں طالبان کے سپریم لیڈر بنائے گئے۔ انہوں نے جلد ہی القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی حمایت حاصل کرلی، جنہوں نے انہیں “امیرالمومنین “کا لقب دیا۔

طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران آخونزادہ کی صرف ایک تصویر جاری کی ہے، جب وہ اس عسکری تنظیم کے سربراہ کا عہدہ سنبھال رہے تھے۔ لیکن طالبان کے مطابق یہ تصویر بھی دو دہائی قبل اتاری گئی تھی۔ اس تصویر میں وہ بھورے بالوں اور سفید پگڑی میں نظر آ رہے ہیں۔

حکیمیہ مدرسہ، جہاں آخونزادہ نے مبینہ طور پر تقریر کی، کے مہتمم مولوی سعید احمد کہتے ہیں کہ “امیرالمومنین” کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کی موت کے حوالے سے “افواہیں اور پروپیگنڈہ” ختم ہو چکا ہے۔

محمد موسیٰ نامی ایک 13سالہ طالب علم، جس نے آخونزادہ کو دور سے دیکھا تھا، کہا کہ وہ بالکل ویسے ہی لگ رہے تھے جیسے کہ معروف تصویر میں دکھائی دیتے ہیں۔

کیا ہیبت اللہ اخوند مارے جا چکے ہیںافغانستان کی برطرف حکومت کے عہدیداروں اور مغربی ملکو ں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آخونزادہ کی موت کئی برس قبل ہی ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدرسے کا دورہ ایک بہترین اندازمیں ترتیب دیے گئے ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ اس کی دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان کے بانی ملا عمر کی موت 2013 میں ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود طالبان انہیں دو برس تک زندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

سابقہ افغان حکومت کے ایک سیکورٹی اہلکار نے اے ایف پی سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ آخونزادہ بھی “بہت پہلے مر چکے ہیں اور کابل پر طالبان کے قبضے میں ان کا کوئی رول نہیں تھا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آخونزادہ تقریبا ً تین برس قبل پاکستان کے کوئٹہ شہر میں ایک خود کش حملے میں اپنے بھائی کے ساتھ مارے گئے تھے۔

متعدد غیر ملکی انٹلیجنس ایجنسیاں بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس تھیوری پر یقین کرتی ہیں۔ ایک دیگر سیکورٹی افسر نے اے ایف پی سے کہا، “کوئی بھی شخص آخونزادہ کی موت کی نہ تو تصدیق کرسکتا ہے اور نہ ہی ان کی مبینہ موت کی تردید۔ دریں اثنا پینٹاگون اور سی آئی اے نے آخونزادہ کی موت کے حوالے سے تبصرہ کرنے کی اے ایف پی کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

کشش کا مرکزپاکستان میں مقیم طالبان کے ایک رکن نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آخونزادہ “پورے گروپ کو متحد رکھنے کے معاملے میں طالبان کے لیے مرکز کشش ہیں۔” سپریم لیڈر سے تین مرتبہ ملاقات کرنے کا دعوی کرنے والے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ آخونزادہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کرتے۔ وہ طالبان کے رہنماوں کے ساتھ یا تو لینڈ لائن فون کے ذریعہ یا پھر خطوط کے ذریعہ رابطہ رکھتے ہیں۔

ایک پاکستانی ذرائع کا کہنا تھا کہ کابل پر آخری حملے کی اجازت آخونزادہ نے خود دی تھی اور وہ طالبان کی پیش قدمی پر قندھار سے مسلسل نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ طالبان کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکیوں کے ساتھ جنگ ختم ہوجانے کے باوجود آخونزادہ کو ہلاک کردیے جانے کا خطرہ بہر حال برقرار ہے اس لیے وہ عوام میں سامنے نہیں آتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہیبت اللہ آخونزادہ کی اگر موت ہو بھی چکی ہے تب بھی اس خبر کو اس لیے چھپا کر رکھا گیا ہے کیونکہ ان کی موت کی خبر سے طالبان میں پھوٹ پڑسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “اگر یہ اعلان کردیا گیا کہ آخونزادہ اب نہیں رہے اور کسی نئے امیر کی تلاش ہو رہی ہے تو طالبان میں پھوٹ پڑسکتی ہے اور داعش (خراسان) اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.