شعیب اختر کا کوہلی کی کپتانی جانے کے حوالے سے بڑا انکشاف

image
بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ویراٹ کوہلی حل ہی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز گنوانے کے بعد اس فارمیٹ کی کپتانی بھی چھوڑ چکے ہیں۔ اس سے قبل، انہوں نے ستمبر میں ٹی 20 ٹیم کی کپتانی سے ہٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس کے بعد، بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے جنوبی افریقہ کے دورے پر روانہ ہونے سے ٹھیک پہلے ان سے ون ڈے کی کپتانی چھین لی تھی، اور ان کی جگہ روہت شرما کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اس کے پیچھے بورڈ نے دلیل دی تھی کہ سلیکٹرز وائٹ بال (سفید گیند) کرکٹ میں ایک ہی کپتان چاہتے ہیں، اس لئے یہ فیصلہ لیا گیا۔

اس کے بعد سے ہی بی سی سی آئی اور ویراٹ کوہلی کے درمیان کپتانی کو لے کر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔

اب پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بھی اس تنازعے پر بڑا بیان جاری کر دیا ہے۔

شعیب نے دعویٰ کیا ہے کہ ویراٹ کوہلی نے کپتانی چھوڑی نہیں، ان سے چھڑوائی گئی۔

#WATCH | Virat Kohli did not relinquish the captaincy himself. He was forced to do so… He is a great cricketer. I think he is going to come out of this: Former Pakistan fast bowler Shoaib Akhtar in Muscat, Oman pic.twitter.com/jbXU5My2bj

— ANI (@ANI) January 23, 2022

مسقط میں لیجنڈز کرکٹ لیگ میں ایشیا لائنس کی طرف سے کھیل رہے شعیب اختر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ، ’ویراٹ کوہلی نے خود کپتانی نہیں چھوڑی۔ انہیں ایسا کرنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ ان کے لئے وقت فی الحال اچھا نہیں چل رہا، لیکن وہ ذہنی طور پر مضبوط کھلاڑی ہیں۔ ان کی قابلیت پر شاید ہی کسی کو شک ہوگا۔ وہ عظیم کرکٹر ہیں، ان کے لیے بھی اچانک یہ سب ہونا کسی جھٹکے سے کم نہیں ہے۔’

شعیب اختر نے ویراٹ کوہلی کے خراب فارم کے حوالے سے کہا کہ، ’وہ باٹم ہینڈ سے زیادہ کھیلتے ہیں اور جب آوٹ آف فارم ہوتے ہیں تو یہ پریشانی زیادہ نظر آتی ہے، لیکن وہ بڑے بیٹسمین ہیں اور انہوں نے کافی کچھ حاصل کیا ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ وہ واپسی کرلیں گے۔’

شعیب اختر نے مزید کہا کہ،  ‘انہیں اب اس تنازعے کو بھلا کر صرف بلے بازی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ بڑا کھلاڑی ہی گرتا ہے۔ ان کے لیے بھی یہ موقع ہے خود کو مزید بہتر ثابت کرنے کا۔ انہیں ساری کڑواہٹ بھلاکر آگے بڑھنا چاہئے۔’

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.