bbc-new

لیسٹر: ہندو مسلم تنازعے کی آگ بھڑکانے میں سوشل میڈیا کا کیا کردار رہا؟

برطانیہ کے شہر لیسٹر میں حالیہ پرتشدد واقعات نے جہاں صدمے اور غم و غصے کو جنم دیا ہے تو وہیں درجنوں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ مگر اس تشدد کو ہوا دینے میں انٹرنیٹ پر شائع کی گئی گمراہ کُن معلومات کا کتنا کردار تھا؟

برطانیہ کے شہر لیسٹر میں حالیہ پرتشدد واقعات نے جہاں صدمے اور غم و غصے کو جنم دیا ہے تو وہیں درجنوں گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ مگر اس تشدد کو ہوا دینے میں انٹرنیٹ پر شائع کی گئی گمراہ کُن معلومات کا کتنا کردار تھا؟

ہم گذشتہ ہفتے سے لیسٹر سے متعلق کچھ جھوٹے دعوؤں کو پرکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہمنے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ یہ بدامنی سے پہلے اور اس کے بعد کس قدر وسیع پیمانے پر پھیلے۔

عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے بی بی سی ٹو کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا تباہ کُن استعمال کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش دیکھنے میں آئی۔

لیسٹر کے میئر سر پیٹر سولزبی نے بھی گُمراہ کُن آن لائن معلومات پر الزام دھرا اور کہا کہ ورنہ اس سب کی 'کوئی واضح مقامی وجہ نہیں تھی۔‘ اس بدامنی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کم از کم ایک شخص نے سوشل میڈیا سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

جب ہم نے لیسٹر میں لوگوں بشمول مقامی برادریوں کے رہنماؤں یا اس بدامنی کی زد میں آنے والوں سے بات کی تو اُنھوں نے کئی مخصوص گمراہ کن معلومات کی نشاندہی کی جنھوں نے 17 سے 18 ستمبر کی ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر ہونے والے بدترین تشدد سے پیشتر اشتعال کو ہوا دی تھی۔

ایک جعلی خبر کا حوالہ تو کئی مرتبہ دیا گیا تھا۔

فیس بک پر مبینہ طور پر ایک فکرمند والد نے پوسٹ کی:’آج میری 15 سالہ بیٹی تقریباً اغوا ہی ہو گئی تھی۔ تین انڈین لڑکوں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہے۔ اس نے اثبات میں جواب دیا تو ایک لڑکے نے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔`

ٹوئٹر پر ایک مقامی سماجی کارکن ماجد فریمین نے 13 ستمبر کو اس خاندان کی کہانی شیئر کی۔ اُنھوں نے پولیس کا بھی ایک پیغام ساتھ میں شیئر کیا جس میں ان کے مطابق 'گذشتہ روز (12 ستمبر) کو ہونے والے واقعے کی تصدیق` کی گئی۔

مگر اغوا کی کوئی کوشش نہیں ہوئی تھی۔ ایک دن بعد لیسٹرشائر پولیس نے تفتیش کے بعد ایک اور بیان جاری کیا اور کہا کہ ’یہ واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔`

ماجد فریمین نے اپنی پوسٹس ڈیلیٹ کر دیں اور کہا کہ اغوا کی کوئی کوشش نہیں ہوئی اور ان کا ابتدائی مؤقف صرف الزام عائد کرنے والے خاندان سے ہونے والی بات چیت پر مبنی تھا۔

مگر نقصان تب تک ہو چکا تھا اور اغوا کا یہ جعلی دعویٰ دیگر پلیٹ فارمز پر بھی پھیلتا رہا۔

https://twitter.com/Majstar7/status/1570123622399852551

واٹس ایپ پر کئی مرتبہ فارورڈ ہونے والے پیغامات کو سچ تصور کیا گیا۔ انسٹاگرام پر ہزاروں لاکھوں فالوورز والی پروفائلز نے اصل پوسٹ کے سکرین شاٹ شیئر کیے اور مبینہ طور پر ایک ہندو شخص پر ’ناکام اغوا‘ کے پیچھے ہونے کا الزام عائد کیا۔

مگر لوگوں کے نجی حلقوں میں یہ بات کتنی پھیلی، اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔ اور جہاں تک عوامی سطح پر پوسٹس کی بات ہے تو ہم نے کراؤڈ ٹینگل نامی ایک ٹول کا استعمال کیا اور اغوا کی کوشش کا ایک اور دعویٰ تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

ہو سکتا ہے کہ پوسٹس ڈیلیٹ کر دی گئی ہوں اور یہ دعوے اب بھی نجی گروپوں میں گردش کر رہے ہوں۔

لیسٹر میں موجود کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ کئی میڈیا رپورٹس نے ایشیا کپ کے دبئی میں 28 اگست کو ہونے والے میچ میں انڈیا کی پاکستان پر ڈرامائی فتح کے بعد ہونے والے ایک واقعے کو نمایاں کیا ہے۔

اور بڑی تعداد میں گمراہ کُن معلومات کی موجودگی کے باعث آگے جو ہوا وہ مکمل طور پر من گھڑت واقعات کے بجائے مسخ شدہ حقائق کے باعث تھا۔

ایک واقعہ ہوا۔ اس رات کی ایک ویڈیو میں مردوں کے ایک گروپ کو دیکھا جا سکتا ہے جن میں سے کئی نے انڈین کٹس پہن رکھی ہیں۔ وہ لیسٹر میں میلٹن روڈ پر چل رہے ہیں اور ’پاکستان مردہ باد` کے نعرے لگا رہے ہیں۔ بالآخر ہاتھا پائی ہو جاتی ہے اور پولیس موقع پر پہنچ جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی موجود تھی جس میں مبینہ طور پر ایک مسلمان شخص کو مجمع تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے مگر بعد میں کئی لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ شخص ایک سکھ تھا۔

لیسٹر میں کچھ لوگ ہیں جن کے نزدیک یہ بدامنی اس سے بھی زیادہ پرانی ہے وہ اس کا تعلق اتوار 22 مئی کے ایک واقعے سے جوڑتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی رہی ہے جس میں ایک گروہ ایک 19 سالہ مسلمان شخص کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس پوسٹ میں ان لوگوں کو ’ہندو انتہاپسند` قرار دیا گیا۔ دیگر پوسٹس میں ہندوتوا کا تذکرہ کیا گیا جو انڈیا میں دائیں بازو کے قوم پرستوں کا نظریہ تصور کیا جاتا ہے۔

ویڈیو میں بذاتِ خود زیادہ کچھ نظر نہیں آ رہا، اس کی کوالٹی خراب ہے اور یہ بلیک اینڈ وائٹ میں ہے۔ اس میں صرف ایک گروہ کو سڑک پر بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد ہاتھا پائی ہو جاتی ہے۔ یہ پتا لگانا مشکل ہے کہ یہ لوگ کون تھے اور ان کے پس منظر کیا ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایک نقصِ امن کی ایک اطلاع کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اُنھوں نے ایک 28 سالہ شخص سے پوچھ گچھ کی ہے، مگر یہ تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ متاثرہ شخص کے مذہب کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

ویسے تو اس واقعے کی حقیقت ابھی بھی جانچی جا رہی ہے مگر سوشل میڈیا پوسٹس کا یہ بھرپور دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ مذہبی وجوہات کی بنا پر پیش آیا۔

چنانچہ یہ واضح طور پر پتا لگانا انتہائی مشکل ہے کہ سوشل میڈیا پر مسخ شدہ حقائق اور گمراہ کن معلومات نے اس بدامنی کو کس قدر ہوا دی ہے۔

سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے واقعات میں سے یہ صرف تین ہیں مگر 17 اور 18 ستمبر کو ہونے والی بدامنی میں سب سے زیادہ انہی واقعات کا حوالہ دیا گیا۔

لیسٹر میں ہونے والے واقعات اور اچانک قومی میڈیا پر تناؤ اور بدامنی کو ملنی والی توجہ سے سوشل میڈیا پوسٹس میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

بی بی سی مانیٹرنگ نے برینڈ واچ نامی ایک ٹول کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً پانچ لاکھ ایسی ٹویٹس کی نشاندہی کی جن میں حالیہ تنازعے کے سیاق و سباق میں لیسٹر کا تذکرہ تھا۔

دو لاکھ ٹویٹس کے سیمپل میں بی بی سی مانیٹرنگ نے پایا کہ نصف سے زیادہ مینشنز ان اکاؤنٹس نے کیے تھے جن کی لوکیشن اس ٹول کے مطابق انڈیا تھی۔ انڈین اکاؤنٹس نے گذشتہ ہفتے جو ہیش ٹیگز سب سے زیادہ استعمال کیے ان میں Leicester، #HindusUnderAttack# اور HindusUnderAttackinUK# شامل ہیں۔

بی بی سی کو یہ تین ہیش ٹیگز استعمال کرنے والے اکاؤنٹس کی جانب سے بہت سی گڑبڑ کے اشارے ملے۔

لیسٹر
BBC

ان ہیش ٹیگز کا سب سے زیادہ استعمال کرنے والے اکاؤنٹ کی لوکیشن انڈیا تھی، اس پر کوئی پروفائل پکچر نہیں تھی اور یہ اکاؤنٹ رواں ماہ کی شروعات میں ہی بنایا گیا تھا۔

یہ 'جعلی سرگرمی' یعنی اپنا بیانیہ پھیلانے کے لیے متعدد اکاؤنٹس بنانے کا ایک اہم اشارہ ہے۔

بی بی سی نے ان ٹاپ 30 لنکس کا جائزہ لیا جو یہ ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہویے شیئر کیے گئے تھے۔ ان میں سے 11 لنکس نیوز ویب سائٹ opindia.com کے مضامین کے تھے جو خود کو 'انڈیا کا درست مؤقف' پیش کرنے والا ادارہ قرار دیتی ہے۔

کئی ممکنہ جعلی اکاؤنٹس کے علاوہ یہ مضامین ہزاروں لاکھوں فالوورز رکھنے والے کئی حقیقی اکاؤنٹس نے بھی شیئر کیے تھے۔

اوپ انڈیا کے ایک آرٹیکل میں ہینری جیکسن سوسائٹی کی محقق شارلٹ لٹل وڈ کا بھی حوالہ دیا گیا جنھوں نے جی بی نیوز کو بتایا کہ کئی ہندو خاندان مسلمانوں کی جانب سے تشدد کی دھمکیوں کے بعد لیسٹر چھوڑ گئے تھے۔

یہ مضمون تقریباً 2500 مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔ لیسٹر پولیس نے کہا ہے کہ اُنھیں کسی بھی خاندان کے لیسٹر چھوڑنے پر مجبور ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ 17 سے 18 ستمبر کو شدید بدامنی پھوٹ پڑنے سے قبل بہت زیادہ ٹویٹس نہیں کی گئی تھیں۔ اس بدامنی کے باعث برطانیہ میں سوشل میڈیا سرگرمی کی جو لہر اٹھی اس میں یہ دعوے بھی کیے گئے کہ بسیں بھر کر ہندو کارکنوں کو لیسٹر لایا جا رہا ہے تاکہ تنازعے کو ہوا دی جا سکے۔

ہمیں صرف گرفتار ہونے والے لوگوں کی شناختیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 23 ستمبر تک اُنھوں نے 47 افراد گرفتار کیے تھے جن میں سے آٹھ پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 36 افراد لیسٹر سے تھے، ایک مارکیٹ ہاربرو سے، آٹھ برمنگھم سے اور صرف دو لندن سے تھے۔ جن آٹھ افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ تمام لیسٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔

کچھ پوسٹس میں الزام لگایا گیا کہ لندن کی ایک مخصوص ٹرانسپورٹ کمپنی کو ہندو کارکنوں کو لانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

واٹس ایپ اور ٹوئٹر پر 18 ستمبر سے پھیلنے والی ایک ویڈیو میں لندن کے ایک مندر کے باہر ایک بس کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک آواز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بس ابھی لیسٹر سے واپس آئی ہے۔ اگلے دن انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس کوچ کمپنی کے مالک نے کہا کہ 'بہت سے لوگ مجھے بلاوجہ کال کر کے دھمکا رہے ہیں اور گالیاں دے رہے ہیں۔`

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ میں ان کی کوئی بھی کوچ لیسٹر نہیں گئی ہے اور ثبوت کے طور پر اُنھوں نے ویڈیو میں دکھائی جانے والی بس کے جی پی ایس ٹریکر کا ڈیٹا بھی دکھایا جس میں نظر آ رہا تھا کہ بس 17 سے 18 ستمبر کے درمیان جنوب مشرقی انگلینڈ میں ہی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیسٹر میں ہندو مسلم کشیدگی: ایک کرکٹ میچ کے بعد بات اتنی آگے کیسے پہنچی؟

ایشیا کپ تنازع: لیسٹر میں انڈین اور پاکستانی باشندوں میں کشیدگی، 15 افراد گرفتار

لیسٹر کے بعد برمنگھم میں ایک مندر کے باہر بھی احتجاج

اس کے علاوہ پیر 19 ستمبر کو برمنگھم میں لگنے والی ایک آگ کے بارے میں بھی جعلی دعوے گردش کرتے رہے۔ ٹوئٹر پر ہزاروں مرتبہ دیکھی جانے والی پوسٹس میں بغیر کسی ثبوت کے ’مسلم انتہاپسندوں` پر آتش زنی کا الزام عائد کیا جاتا رہا۔

ویسٹ مڈلینڈز فائر سروس نے اس آگ کی تحقیقات کیں اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ یہ اس وقت حادثاتی طور پر لگی جب عمارت کے باہر کچرے میں لگائی گئی آگ عمارت تک پھیل گئی۔

اس کا مقصد بالکل بھی یہ نہیں ہے کہ اس بدامنی کے بعد سامنے والی ساری پوسٹس یا تو گمراہ کُن یا مسخ شدہ تھیں۔

سب سے زیادہ گردش کرنے والی ویڈیوز میں سے ایک میں ماسک پہنے ہندو افراد کو لیسٹر کے ایک علاقے گرین لین روڈ پر مارچ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے۔ یہ افراد یہاں جے شری رام کے نعرے لگا رہے تھے۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک مسلم شخص ایک مندر کے باہر موجود ہندو زعفرانی پرچم اتار رہا ہے۔ واقعتاً سنیچر 17 ستمبر کو لیسٹر کے علاقے بیلگریو روڈ پر ایک مندر سے پرچم اتارا گیا تھا اور پولیس نے اس پر تحقیقات کی ہیں۔

تاہم مذکورہ شخص کی شناخت اب بھی واضح نہیں ہے۔ ہندو اور مسلم دونوں ہی برادریوں کے افراد نے اس تنازعے کو ہوا دینے والے جھوٹے دعوؤں اور اشتعال انگیز پوسٹس کی مذمت کی ہے۔

https://twitter.com/WestMidsFire/status/1572192186069925888

کئی دہائیوں سے اس شہر میں جنوبی ایشیائی آبادی موجود ہے جو انڈیا اور مشرقی افریقہ سے یہاں آ بسی ہے۔ یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں اور ایک ساتھ برابر کے حقوق کی جدوجہد کی ہے۔

کچھ لوگوں نے اس بدامنی اور اس پر آنے والے ردِ عمل کا تعلق ہندوتوا نظریے سے جوڑا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ انڈین سیاست اس شہر میں درآمد کی جا رہی ہے مگر اب تک بی بی سی کو اس بدامنی میں ایسے گروہوں کا براہِ راست تعلق نہیں ملا ہے۔

ایک اور بیانیہ یہ ہے کہ ایک قدامت پسند خیالات کی حامل ایک مخصوص اور چھوٹی جنوبی ایشیائی برادری نے یہ تناؤ شروع کیا۔ جن ہندوؤں اور مسلمانوں سے ہم نے بات کی ان کا یہی خیال ہے۔ مگر اس دعوے کے حق میں یا اس کی مخالفت میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔

یہ نشاندہی کرنا بہت مشکل ہے کہ اس پرتشدد بدامنی کی وجہ کیا ہے مگر ایک بات واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر مزید تقسیم پیدا کرنے کا محرک بننے کا الزام ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.