اب دل میں وہ پہلی سی محبت نہیں دیکھ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلااب دل میں وہ پہلی سی محبت نہیں دیکھی
آنکھوں کے سمندر میں قیامت نہیں دیکھی
ذہنوں پہ ہیں چھائے ہوئے ابہام کے سائے
اور سامنے کچھ اس کی وضاحت نہیں دیکھی
تعبیر نظر آنے لگی خواب کی صورت
پر خواب میں پہلی سہ بشارت نہیں دیکھی
ہر آئینہ بے عکس ہوا جاتا ہے کیوں کہ
اس میں جو کہیں کوئی شباہت نہیں دیکھی
کیا جانے خفا ہم سے وہ کیوں رہتے ہیں اکثر
ہر چند کوئی ان میں عدادت نہیں دیکھی
گم گشتہ تعلق سہی، کچھ پاس تو رکھ لیں
پر لوگوں میں اتنی بھی مروت نہیں دیکھی
دن رات ترے عشق میں ہم غرق ہوئے ہیں
اور لب پہ کوئی حرفِ شکائت نہیں دیکھی
یہ عشق کے شعلے بھی عجب چیز ہیں وشمہ
اس دل میں وداؤں کی علامت نہیں دیکھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






