تمہیں اُس شب بہت سوچا
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodhaتمہیں اُس شب بہت سوچا
کہ جب بادل بھی چھائے تھے
بڑی ہی تیز بارش تھی
ہوا بارش کے قطروں سے
بڑی اَٹھکیاں کر کے
میرے کمرے کی کھڑی سی
ٹکرا کر بہت ہی شور کرتی تھی
چمکتی بجلیاں بھی تو
اُسی کھڑی کے رستے سے
ذرا سی دیر رُک رُک کر
مجھے ہی جانکتیں تھیں بس
ہوا کے تیز جھونکے بھی چکے سے
دبے پاؤں ہی آتے تھے
میری ٹیبل پہ رکھے
کاغذوں کو بھی اُڑاتےتھے
اُنہیں اراوق پہ لکھی
تری نظمیں بھی تھیں شاید
جنہیں خون ِجگر سے لکھ کر
ابھی ٹیبل پہ رکھا تھا
ہوا سے اُڑ گئے ایسے
وہ سارے لفظ بھی جیسے
ساحل کی ریت پر لکھ کر
لکھا جیسے نہیں ہوتا
کوئی زندگی میں مل کر بھی
ملا جیسے نہیں ہوتا
محبت خواب تھی سوچا
یا اک سراب تھی سوچا
گئے بادل گئی بارش
ہوا بھی تھم گئی لیکن
تمہیں اُس شب بہت سوچا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






