زندہ ہیں مگر زیست کا گھر ڈھونڈ رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysiaزندہ ہیں مگر زیست کا گھر ڈھونڈ رہے ہیں
تاروں میں جو رہتا ہے قمر ڈھونڈ رہے ہیں
لے آئی ترے در پہ ہمیں بھوک ہماری
اب دیکھے جو ہم کو بھی نظر ڈھونڈ رہے ہیں
کچھ لوگ یہاں پیار کے جنگل سے گزر کر
خود شہرِ خرافات میں شر ڈھونڈ رہے ہیں
ہو جائے مکمل یہ کسی طور غزل بھی
شعروں کی کتابوں میں گہر ڈھونڈ رہے ہیں
جس سمت سے آئے تھے اُسی سمت کو چل کر
اس زیست کے کھیتوں میں ثمر ڈھونڈ رہے ہیں
اس بزم میں ہم آئے تھے کچھ سیکھنے لیکن
وہ شعروں میں بس زِیر و زَبر ڈھونڈ رہے ہیں
ہم اپنے ہی ادوار میں گم رہتے ہیں وشمہ
اک پیار مگر شام و سحر ڈھونڈ رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






