زیرِ آہ ِ عشق
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATشیخِ عشق، نہ وہ شاہِ عشق
وہ فقیر ادنیٰ ... ... براہِ عشق
کرتا تھا عشق کی مزاحمت
آیا خود بھی اب زیرِ آہ ِ عشق
مدت سے رقصاں انگاروں پر
ہے وہ مستِ جامِ نگاہ عشق
پھر خلوص حضرت بلال سا
یوں چمکا جیسے ہو ماہ عشق
درویشی صورت میں بیٹھ کر
وہ کہتا ہے خود کو سیاہِ عشق
وہ بچھڑتے وقت .. بتا گیا
کچھ اصولِ راہِ نباہِ عشق
نہیں چلتی اس در پہ مرضیاں
یہاں سب ہے پابند ِخواہِ عشق
نہیں تذکرہ یہاں تیرا میرا
چلتی ہے بس ایک چاہ عشق
تیرا زادِ راہ .... "دردِ سفر"
منزل تیری.... "درگاہ عشق"
تیری خیر ہو.... میرے دوستا
سنبھل کے چل! یہ ہے راہ عشق
مسافر بنا کر وہ عشق کا
مجھے دے گیا از پناہ عشق
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






