موسم
Poet: azharm By: azharm, dohaموسم ٹہر جا کہ اُس کا ٹہرنا بھی
تُجھ سے جُڑا ہے
ٹہر جائے گا وہ
گُلوں کی طرح ہے، تو موسم کے رہتے ہی
ملتا ہے، کھلتا ہے، مہکا سا رہتا ہے
موسم بدلتے ہی اُس پر اداسی
بسیرا کرے ہے، مسافر بنے ہے
موسم ٹہر جا کہ اُس کا ٹہرنا بھی
تُجھ سے جُڑا ہے
ٹہر جائے گا وہ
سکوں بخش ہیں اُس کی رعنائیاں سب
اداسی کے ڈیرے لگائیں نہ پھیرے
ٹہر جائے گا وہ تو رونق رہے گی
وگرنہ خزاں بڑھ کے سب چاٹ لے گی
موسم ٹہر جا کہ اُس کا ٹہرنا بھی
تُجھ سے جُڑا ہے
ٹہر جائے گا وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







