کچھ دیر کے بعد
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanممکن ہے کہ تم ہمیں بھول بھی جاؤ کچھ دیر کے بعد
اگرچہ ہم تو تیری راہوں میں پڑے رہے ہیں
صدمہ تجھ سے بچھڑنے کا جان لیوا ہے میرے لیئے
کیسے ہو احساس اُنہیں جو ہم سے خفا رہے ہیں
نہ بتاتے ہیں سزا میری نہ مجھ سے کوئی گلا کریں
وہ تو ہم سے نہ جانے کیوں انجان رہے ہیں
میری چوٹ پر اُنہیں کیا غم میری تکلیف کا
میرے زخموں پر جو ہمیشہ زخم لگاتے رہے ہیں
کب تک سہیں گے تیری بے رُخی اب چھوڑ بھی دے
اُس کے آس پاس یہی صدا لگاتے رہے ہیں
آنکھ تیری نم رہے دل تیرا بے چین رہے
مجھ کو ہمیشہ یہی بات سناتے رہے ہیں
مرنے کے اب متمنی ہیں جینے سے بے زار ہیں
وہ جو اوروں کو ہنساتے پر خود کا غم چھپاتے رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






