ڈر کے مارے صبح کو کھولتے نہیں آنکھیں

Poet: johar mumtazBy: johar mumtaz, Lahore

ڈر کے مارے صبح کو کھولتے نہیں آنکھیں
ملا ہے جو خواب میں کھو نہ جائے کہیں

تیرے پردے کی خاطر ملتا نہیں کسی سے
حُسن دنیا میں تیرا رسوا ھو نہ جائے کہیں

شبِ ہجر میں تیرے ملنے کے ہر وعدہ کا
دلاتےہیں یقین دل کو، سونہ جائے کہیں

ہم شبِ وصل میں اُنکی باںہوں میں مر گئے
اِک بہانہ یہی سُوجھا تھا کہ وہ نہ جائے کہیں

دیکھا اگر دل نےاُسے تو دل گنوا بیٹھیں گئے
نکلتے نہیں باہر کہ سامنا ہو نہ جائے کہیں
 

Rate it:
Views: 347
10 Mar, 2014