تمہارے تلخ لہجے کی عنایت مار ڈالے گی
Poet: باسط ادیب By: باسط ادیب, Sadiqabadتمہارے تلخ لہجے کی عنایت مار ڈالے گی
اسی پر غور کرنے کی حمایت مار ڈالے گی
تری رسمی دعاؤں کو کبھی جو بھول جاؤں میں
تو میرے ذہن کو دل کی صداقت مار ڈالے گی
ارادہ چھوڑ جانے کا کبھی جو کر میں بیٹھوں تو
مگر مجھ کو زمانے کی سیاست مار ڈالے گی
قلم کو روک دیتا ہوں کبھی جو یاد آئے تو
مجھے اک دن محبت کی حماقت مار ڈالے گی
مجھے وہ روز کہتا ہے مگر یہ جانتا ہوں میں
محبت سے مرے دل کی بغاوت مار ڈالے گی
ترے بن گزرے لمحوں کی مجھے گر یاد آئی تو
انہی بس چار سالوں کی رفاقت مار ڈالے گی
ذرا تم سوچ کر کرنا یہاں پر ترک الفت کو
تمہیں میرے بگڑنے کی شرافت مار ڈالے گی
کہا بھی تھا تجھے باسط محبت سوچ کے کرنا
کہا تھا نا؟ رقیبوں کی عداوت مار ڈالے گی
More Love / Romantic Poetry






