جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتی

Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachi

جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتی
دوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتی

زندگی اگر چاہو فاقہ مست بن جاؤ
روغنی نوالوں سے زندگی نہیں ملتی

مسلک فقیری میں جو خوشی میسر ہے
تخت بادشاہی پر وہ خوشی نہیں ملتی

ادھ کھلی کلی شاید باغباں نے پھر توڑی
کیوں گلوں کے چہروں پر تازگی نہیں ملتی

ان کو کوئی سمجھائے اپنا جائزہ لے لیں
جن کو اپنے سجدوں میں چاشنی نہیں ملتی

دل مرا اندھیرے میں آج بھی بھٹکتا ہے
روشنی کی دنیا میں روشنی نہیں ملتی

زرد زرد چہرے ہیں خوف مرگ سے عالمؔ
اب تو کوئی بھی صورت چاند سی نہیں ملتی
 

Rate it:
Views: 211
12 Mar, 2025