خوش نصیب
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas چہرے کا ان کے نظارہ مل گیا
زحے نصیب پر نور شرارا مل گیا
بیشتر نراش تھے زندگی سی اپنی
اب جینے کا راستہ دھارا مل گیا
دل کی گٹہری محبت سے بھر گئی
پھر سے محبت کا بھنڈارا مل گیا
تصدیق ہو گئی مہر وفا کی اپنے
جانب سے انکی جب اشارا مل گیا
مایوسئوں سے اپنی اکتا چکے تھے
اچھا ہوا جو قسمت کا ستارا مل گیا
وہ کیا ملا ہم کو جان مسیحا
رنج و الم سے اپنے چھٹکارا مل گیا
کب کے بھٹک رہے تھے دیار غیر میں
شکر ھے خدا کا کوئی سہارا مل گیا
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جہان میں
جنکو پیار زندگی اسد دوبارہ مل گیا
More Love / Romantic Poetry






