رسموں کو توڑ کے
Poet: By: Asif Muhammad Khan, dil seہونٹوں کو سی چکے ہیں شکایت نہیں کرتے
یہ بات نہیں ہے کہ محبت نہیں کرتے
نغمات لکھے ہم نے محبت کے ہمیشہ
الزام یہ ہم پر ہے عبادت نہیں کرتے
زندہ رہوں میں بھول کر تجھ کو کسی بھی پل
جذبات اتنے بھی میرے جرات نہیں کرتے
پھر جھوٹی تسلی کی دعا دے چلے ہو تم
ایسی بھی غریبوں سے شرارت نہیں کرتے
ان رسموں رواجوں نے دیا یار تجھے کیا
کیوں توڑ کر ان سب کو بغاوت نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry






