غزل
Poet: محمد اسدؔ علی By: M Asad ali, Sargodhaتری یادوں نے مجھ کو اتنا ستایا
بہت تڑپے ہم پر تو ملنے نہ آیا
یہ دل بھی ہے کہتا ،نکل جاؤں گا میں
جو مجھ کو نہ محبوب میرا دکھایا
جھگڑنے لگا میں جو دل سے، یہ کہتا
میں تیرا نہیں اب ، ہوا میں پرایا
جو بھی عشق میں مبتلا ہے ہوا یار
اُسی کا ہے اس نے تماشا بنایا
کریں عشق ہم تو گنہگار ٹھہرے
کیا تو تُو نے بھی اے میرے خدایا
جو بھی عشق میں ڈوب جاتا تھا عاشق
اُسے موت نے آ گلے ہے لگایا
که مر جائے گا یہ اسدؔ بیٹھے بیٹھے
جو مجھ کو نہ دیدار اپنا کرایا
More Love / Romantic Poetry






