غزل
Poet: محمد اسدؔ علی By: M Asad ali, Sargodhaتری یادوں نے مجھ کو اتنا ستایا
بہت تڑپے ہم پر تو ملنے نہ آیا
یہ دل بھی ہے کہتا ،نکل جاؤں گا میں
جو مجھ کو نہ محبوب میرا دکھایا
جھگڑنے لگا میں جو دل سے، یہ کہتا
میں تیرا نہیں اب ، ہوا میں پرایا
جو بھی عشق میں مبتلا ہے ہوا یار
اُسی کا ہے اس نے تماشا بنایا
کریں عشق ہم تو گنہگار ٹھہرے
کیا تو تُو نے بھی اے میرے خدایا
جو بھی عشق میں ڈوب جاتا تھا عاشق
اُسے موت نے آ گلے ہے لگایا
که مر جائے گا یہ اسدؔ بیٹھے بیٹھے
جو مجھ کو نہ دیدار اپنا کرایا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






