مت دیکھو ایسے ہوئی جانے کی بات ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiمت دیکھو ایسے پیار سے جانے کی بات ہے
پینے کی بات ہے نہ پلانے کی بات ہے
ہوتے خوشی غمی میں تھے شریک دوست سب
مخلص تھے سب پرانے زمانے کی بات ہے
بے لوث پیار کرتا ہوں میں بے وفا نہیں
تمھارے حسن و عشق کو پانے کی بات ہے
شاید نہ مل سکیں کبھی ہم ایسا لگتا ہے
مت دیکھو اشتیاق سے جانے کی بات ہے
رخ سے نقابِ زلف ہٹا کر آج دیکھیے
نظروں سے آج نظریں ملانے کی بات ہے
کرتے ہیں عشق ہم نے ذرا کر لیا تو کیا
جلتے لگے ہیں دوست جلانے کی بات ہے
دشوار ہے پیار کرنا تو مخلص نہیں کوئی
لمحے بدل گئے ہیں ' زمانے کی بات ہے
کرتا ہے وعدے جھوٹے کبھی آتا وہ نہیں
شہزاد وقت ساتھ نبھانے کی بات ہے
More Love / Romantic Poetry






