وہ جھوٹ بول رہا تھا وفا کے لہجے میں

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

وہ جھوٹ بول رہا تھا دعا کے لہجے میں
میں ڈوبتا ہی گیا تھا وفا کے لہجے میں

کھلے تو بعد میں سب راز اُس کی باتوں کے
وہ ظلم ڈھانپ رہا تھا حیا کے لہجے میں

عجیب طور سے اس نے مرا یقیں لوٹا
سوال کرتا رہا تھا رضا کے لہجے میں

میں اُس کے لفظوں کی خوشبو میں کھو گیا ورنہ
چھپا ہوا تھا ارادہ جفا کے لہجے میں

جو اپنے آپ کو کہتا تھا رہبرِ منزل
بھٹک گیا وہ بھی آخر خطا کے لہجے میں

کبھی جو دل کی عدالت میں پیش ہو گا وہ
تو جرم مانے گا شاید قضا کے لہجے میں

ہم نے تو بات بھی شہزاد شچ کہی لیکن
جہاں نے اس کو سنا ناروا کے لہجے میں

Rate it:
Views: 0
27 Jun, 2026
More Love / Romantic Poetry