کچھ لکھ دیا کرو
Poet: hukhan By: hukhan, karachiہر روز وہ ضد کرتا ہے کچھ لکھ دیا کرو
میرے نیند کا ہے سامان کر دیا کرو
کچھ لفظ آپس میں اچھے سے جوڑ دیا کرو
لفظوں سے خواب آنکھوں کے لیے بنا دیا کرو
نہیں ہوتی ہماری صبح کچھ لکھ دیا کرو
بھول جاتے ہیں خود کو کچھ لکھ دیا کرو
موسم ہے گلابی کچھ لکھ دیا کرو
خان مان جاؤ ہاں کچھ لکھ دیا کرو
More Love / Romantic Poetry






