کہانی کا کوئی منظر یا پھر کردار مت سمجھو
Poet: MA Doshi By: MA Doshi, Islamabadکہانی کا کوئی منظر یا پھر کردار مت سمجھو
حقیقت کا بیاں ہیں یہ فقط اشعار مت سمجھو
محبت سے ملو گے تو، محبت سے ملوں گا میں
محبت کا میں پیکر ہوں، مجھے فنکار مت سمجھو
تماری بے وفائی پر،جو میں نے سادھ لی ہے چپ
یہ میری اعلی ظرفی ہے، مجھے لاچار مت سمجھو
کسی کے پیار کی خوشبو، ہے شامل میری سانسوں میں
مرا بھی دل دھڑکتا ہے ، مجھے بیکار مت سمجھو
ہوا کے دوش پر دوشی ، کروں گا گفتگو تم سے
تم اپنی سرحدوں کے ِاس ، یا پھر ُاس پار مت سمجھو
More Love / Romantic Poetry






