کہانی کا کوئی منظر یا پھر کردار مت سمجھو
Poet: MA Doshi By: MA Doshi, Islamabadکہانی کا کوئی منظر یا پھر کردار مت سمجھو
حقیقت کا بیاں ہیں یہ فقط اشعار مت سمجھو
محبت سے ملو گے تو، محبت سے ملوں گا میں
محبت کا میں پیکر ہوں، مجھے فنکار مت سمجھو
تماری بے وفائی پر،جو میں نے سادھ لی ہے چپ
یہ میری اعلی ظرفی ہے، مجھے لاچار مت سمجھو
کسی کے پیار کی خوشبو، ہے شامل میری سانسوں میں
مرا بھی دل دھڑکتا ہے ، مجھے بیکار مت سمجھو
ہوا کے دوش پر دوشی ، کروں گا گفتگو تم سے
تم اپنی سرحدوں کے ِاس ، یا پھر ُاس پار مت سمجھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






