ہو کر رہے گا
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas دل تم کو اپنا اس طرح چاہتا ھے
مرنے والا جیسے کوئی بقاء چاہتا ھے
تیرے میرے ہاتھ مانو کچھ نہیں یعنی
ہوکر رہے گا وہی جو خدا چاہتا ھے
پیار مت کیجئو میں پھر سے کہتا ہوں
دیکھ خود کا اپنے اگر تو بھلا چاہتا ھے
آہ کس کم بخت کو بتلا تو نہیں عزیز
دل تم کو دائم اپنا یار سدا چاہتا ھے
چھوڑ خود غرضی تو پیار میں اسد
وفا کے بدلے اگر تو وفا چاہتا ھے
More Love / Romantic Poetry






