مانا تعبیر کچھ نہیں لیکن
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, Kuala Lampur کیا کہوں اچھی ہوں مزے میں ہوں
جو بھی ہوں تیرے آسرے میں ہوں
مانا تعبیر کچھ نہیں لیکن
اک حسیں کےہی رتجگے میں ہوں
صرف ماں باپ کی دعائیں ملیں
لوگ کہتے ہیں سلسلے میں ہوں
عشق کو اس نے ایسے سمجھایا
آپ بھنورا ہیں اور نشے میں ہوں
اس نے بس اک سوال پوچھا تھا
اے حسن اب بھی دائرے میں ہوں
دین و مسلک ، وفا ، ، خدا ہے عشق
ساری دنیا کو آزمائے میں ہوں
بس خدا کا ہی نام یاد رہے
خواہشوں کی کوئی دعا ئے میں ہوں
خاک چھانی ہے وشمہ دنیا کی
پھر بھی سمجھی مغالطے میں ہوں
More Love / Romantic Poetry






