Poetries by عبداسلام عارف
اس کا سایہ تو میری چھت پر نظر آتا ہے دل کی کریں باتیں تو منکر نظر آتا ہے
ہر شخص مجھے تو پتھر نظر آتا ہے
اک پل کو بھی دل سے بھلایا نہیں جسکو
وہ میری طلب کا ساگر نظر آتا ہے
رہبر ہو عدو کا تو منزل کی خبر کیا
مجھ کو تو میرا رستہ بنجر نظر آتا ہے
داستانیں لکھی ہیں ہر چہر ے پہ لیکن
ہر چہرا فسوں کا خوگر نظر آتا ہے
تھوڑا سا اندھیر ے کو چھٹ تو جانے دو
یہ سفر تو وسیلہء ظفر نظر آتا ہے
گزری ہوئی یادوں کو میں کیسے بھلا دوں
اس کا سایہ تو میری چھت پر نظر آتا ہے
وہ مڑ کر مجھے اب دیکھتے ہیں یارو
کچھ تو میر ے شعروں میں اثر نظر آتا ہے
دنیا ہے تماشا اور ہر فرد یہاں عارف
چہر ے بدلتا ہوا جوکر نظر آتا ہے
ا ے ایس عارف
ہر شخص مجھے تو پتھر نظر آتا ہے
اک پل کو بھی دل سے بھلایا نہیں جسکو
وہ میری طلب کا ساگر نظر آتا ہے
رہبر ہو عدو کا تو منزل کی خبر کیا
مجھ کو تو میرا رستہ بنجر نظر آتا ہے
داستانیں لکھی ہیں ہر چہر ے پہ لیکن
ہر چہرا فسوں کا خوگر نظر آتا ہے
تھوڑا سا اندھیر ے کو چھٹ تو جانے دو
یہ سفر تو وسیلہء ظفر نظر آتا ہے
گزری ہوئی یادوں کو میں کیسے بھلا دوں
اس کا سایہ تو میری چھت پر نظر آتا ہے
وہ مڑ کر مجھے اب دیکھتے ہیں یارو
کچھ تو میر ے شعروں میں اثر نظر آتا ہے
دنیا ہے تماشا اور ہر فرد یہاں عارف
چہر ے بدلتا ہوا جوکر نظر آتا ہے
ا ے ایس عارف
درد عشق ہے کہ جیون کا جنوں عارف آئے ہو تو درد عشق کی دوا کر جانا
تم نصیب جان ہو دو پل زرا ٹھہر جانا
دور سورج کے ندیا میں ڈوبنے سے پہلے
تم میری روح کے سرابوں میں اتر جانا
راہ عشق کے رنگ بھی عجب نرالے ھیں
عشق جاناں میں کبھی جاں سے گزر جانا
ٹھٹھرتی شام کی آغوش میں سمٹے ہو ئے
نئی صبح کے لئے رات بھر میں سنور جانا
صبا نے دیکھا نہیں مڑ کر کبھی آتے جاتے
کسی کے شر سے پھولوں کا یوں بکھر جانا
رواج عشق یہ نہیں کہ دو پل گراں گزر ے
لطف عشق میں تو صدیوں کا بھی اثر جانا
یادش بخیر
وہ لب کہ تراشے ہوئے ہیروں کی طر ح
وہ زلفیں کہ گھٹاؤں کا سماں لگنا
لو دیتے ہوئے عارض کی سرخیوں کا اثر
مہکتے پھو لوں کا سر اٹھا کے حیراں لگنا
وہ آنکھیں کہ خوابوں میں ڈوبے ہوئےنگینے
وہ چشم کہ آہو کا جنگل میں پریشاں لگنا
درد عشق ہے کہ جیون کا جنوں عارف
ہر شے میں تر ے سایوں کا گماں لگنا
ا ے ایس عارف
تم نصیب جان ہو دو پل زرا ٹھہر جانا
دور سورج کے ندیا میں ڈوبنے سے پہلے
تم میری روح کے سرابوں میں اتر جانا
راہ عشق کے رنگ بھی عجب نرالے ھیں
عشق جاناں میں کبھی جاں سے گزر جانا
ٹھٹھرتی شام کی آغوش میں سمٹے ہو ئے
نئی صبح کے لئے رات بھر میں سنور جانا
صبا نے دیکھا نہیں مڑ کر کبھی آتے جاتے
کسی کے شر سے پھولوں کا یوں بکھر جانا
رواج عشق یہ نہیں کہ دو پل گراں گزر ے
لطف عشق میں تو صدیوں کا بھی اثر جانا
یادش بخیر
وہ لب کہ تراشے ہوئے ہیروں کی طر ح
وہ زلفیں کہ گھٹاؤں کا سماں لگنا
لو دیتے ہوئے عارض کی سرخیوں کا اثر
مہکتے پھو لوں کا سر اٹھا کے حیراں لگنا
وہ آنکھیں کہ خوابوں میں ڈوبے ہوئےنگینے
وہ چشم کہ آہو کا جنگل میں پریشاں لگنا
درد عشق ہے کہ جیون کا جنوں عارف
ہر شے میں تر ے سایوں کا گماں لگنا
ا ے ایس عارف
عشق دیوانہ. ( مزاحیہ ) کر کے تھیا تھیا ناچ نچائے عشق دیوانہ
سمجھ کی سمجھ میں دہی جمائے عشق دیوانہ
آنکھیں میچے بھول بھولا کے چپکے چپکے
اور دلربا سے ہوش اڑوائے عشق دیوانہ
اس کے رستے اپنے رستے کس کے رستے
بس ایک ہی راستہ یاد کرائے عشق دیوانہ
رات کو جاگے تار ے گن کے دن کو سوئے
اور خوابوں میں بھی الو بنائے عشق دیوانہ
کالی کلوٹی' کرمہ جوگی ' بھاگ بھری تھی
پر " کمو " آگے دل دھڑکائے عشق دیوانہ
سب کو چھوڑ ے بھاگے اسکے دم کے پیچھے
جگ میں رہ کے جگ ہنسائے عشق دیوانہ
عشق کیا ہے عشق کریں گے اور مریں گے
مجنوں بن کے مجرا کرائے عشق دیوانہ
گلی میں اس کے چکر لگوائے شام سویر ے
آتے جاتے کتے سے بھی یاری کرائے عشق دیوانہ
رفتہ رفتہ گلے میں ایسے بانہیں پڑی تھیں
اور وہ ہنس رھا تھا منہ چھپائے عشق دیوانہ
اک دن ہم بھی پوچھ رہے تھے عارف اس سے
کیوں بیچ سڑک میں چپت لگوائے عشق دیوانہ ا ے اییس عارف
سمجھ کی سمجھ میں دہی جمائے عشق دیوانہ
آنکھیں میچے بھول بھولا کے چپکے چپکے
اور دلربا سے ہوش اڑوائے عشق دیوانہ
اس کے رستے اپنے رستے کس کے رستے
بس ایک ہی راستہ یاد کرائے عشق دیوانہ
رات کو جاگے تار ے گن کے دن کو سوئے
اور خوابوں میں بھی الو بنائے عشق دیوانہ
کالی کلوٹی' کرمہ جوگی ' بھاگ بھری تھی
پر " کمو " آگے دل دھڑکائے عشق دیوانہ
سب کو چھوڑ ے بھاگے اسکے دم کے پیچھے
جگ میں رہ کے جگ ہنسائے عشق دیوانہ
عشق کیا ہے عشق کریں گے اور مریں گے
مجنوں بن کے مجرا کرائے عشق دیوانہ
گلی میں اس کے چکر لگوائے شام سویر ے
آتے جاتے کتے سے بھی یاری کرائے عشق دیوانہ
رفتہ رفتہ گلے میں ایسے بانہیں پڑی تھیں
اور وہ ہنس رھا تھا منہ چھپائے عشق دیوانہ
اک دن ہم بھی پوچھ رہے تھے عارف اس سے
کیوں بیچ سڑک میں چپت لگوائے عشق دیوانہ ا ے اییس عارف
بخدا کیا جمال رکھا ہے میں نے درد کو سنبھال رکھا ہے
تیر ے لئے سوال رکھا ہے
تھام کر وفاؤں کی رسی
تر ے رستے میں جال رکھا ہے
جو آنکھوں کو خیرہ کر د ے
بخدا کیا جمال رکھا ہے
کہتے ہو بے وفا مجھ کو
دل کو باہر نکال رکھا ہے
سمجھ کر تری امانت ہر دم
خود اپنا خیال رکھا ہے
ڈھونڈتے ہو کیا میر ے اندر
زندگی بھر کا ملال رکھا ہے
مجھ سے پو چھو نہ حال یارو
میرا ماضی میں حال رکھا ہے
راستے سے ہٹ جاؤ عارف
رستے میں انکا مال رکھا ہے
ا ے ایس عارف
تیر ے لئے سوال رکھا ہے
تھام کر وفاؤں کی رسی
تر ے رستے میں جال رکھا ہے
جو آنکھوں کو خیرہ کر د ے
بخدا کیا جمال رکھا ہے
کہتے ہو بے وفا مجھ کو
دل کو باہر نکال رکھا ہے
سمجھ کر تری امانت ہر دم
خود اپنا خیال رکھا ہے
ڈھونڈتے ہو کیا میر ے اندر
زندگی بھر کا ملال رکھا ہے
مجھ سے پو چھو نہ حال یارو
میرا ماضی میں حال رکھا ہے
راستے سے ہٹ جاؤ عارف
رستے میں انکا مال رکھا ہے
ا ے ایس عارف
تیر ے وجود سے ا ے میر ے من کے تاجدار محبت میں آ گئی ہے شدت نہ جانے کیوں
ہونے لگی ہے خود سے وحشت نہ جانے کیوں
دل کے جنوں نے رنگ دیکھائے نہ تھے کبھی
اشکوں میں ڈھل گئ ہے صورت نہ جانے کیوں
تجھ سے دور ہو کے یہ میں نا جان سکا
ہر وقت رہ رہی ہے ضرورت نہ جانے کیوں
تیر ے وجود سے ا ے میر ے من کے تاجدار
ترس رہی ہے آس خلوت نہ جانے کیوں
باد صبا تو کب کی شبستاں سے گزر گئی
پھولوں میں بس گئی ہے نزاکت نہ جانے کیوں
بربادیوں کے تحفے لے کر چلے تھے ہم
پھر بھی دیکھا رہے ہیں شرافت نہ جانے کیوں
سب کے لئے تو وہ نظر آتے ہیں مہرباں
میر ے لئے ہے باقی عداوت نہ جانے کیوں
عارف ان سے آج ملنے کے باوجود
پھر بھی مچل رہی ہے طبعیت نہ جانے کیوں
ا ے ایس عارف
ہونے لگی ہے خود سے وحشت نہ جانے کیوں
دل کے جنوں نے رنگ دیکھائے نہ تھے کبھی
اشکوں میں ڈھل گئ ہے صورت نہ جانے کیوں
تجھ سے دور ہو کے یہ میں نا جان سکا
ہر وقت رہ رہی ہے ضرورت نہ جانے کیوں
تیر ے وجود سے ا ے میر ے من کے تاجدار
ترس رہی ہے آس خلوت نہ جانے کیوں
باد صبا تو کب کی شبستاں سے گزر گئی
پھولوں میں بس گئی ہے نزاکت نہ جانے کیوں
بربادیوں کے تحفے لے کر چلے تھے ہم
پھر بھی دیکھا رہے ہیں شرافت نہ جانے کیوں
سب کے لئے تو وہ نظر آتے ہیں مہرباں
میر ے لئے ہے باقی عداوت نہ جانے کیوں
عارف ان سے آج ملنے کے باوجود
پھر بھی مچل رہی ہے طبعیت نہ جانے کیوں
ا ے ایس عارف
کہتے ہو بزم میں برا مجھ کو زندگی کی یہ ہی حقیقت ہے
مجھے آپ سے محبت ہے
یارو اب کسی سے کیا ڈرنا
جان دینا تو اپنی عادت ہے
کہتے ہو بزم میں برا مجھ کو
یہ بھی کوئی بھلا شرافت ہے
مجھ پر اور التفات دنیا کا
سر بسر آپ کی عنایت ہے
تم تو بچھڑ ے ہو تمھیں کیا معلوم
اپنی ہر سانس اک قیامت ہے
پیاس سے یہ کھلا عارف
پیار تو صحرا کی تمازت ہے
ا ے ایس عارف
مجھے آپ سے محبت ہے
یارو اب کسی سے کیا ڈرنا
جان دینا تو اپنی عادت ہے
کہتے ہو بزم میں برا مجھ کو
یہ بھی کوئی بھلا شرافت ہے
مجھ پر اور التفات دنیا کا
سر بسر آپ کی عنایت ہے
تم تو بچھڑ ے ہو تمھیں کیا معلوم
اپنی ہر سانس اک قیامت ہے
پیاس سے یہ کھلا عارف
پیار تو صحرا کی تمازت ہے
ا ے ایس عارف
نرغے سے رہبروں کے تنہا نکل کے چل قسمت کو آزمانے پھر سے سنبھل کے چل
دنیا کے سامنے اب چہرا بدل کے چل
پائے گا خود کو اپنی منزل کے پاس اک دن
نرغے سے رہبروں کے تنہا نکل کے چل
ہے آگ زندگانی یہ بات تو سمجھ لے
انگاروں پر تو اسکے ائے دوست جل کے چل
روکی ہوئی ہیں راہیں دنیا نے منزلوں کی
رخسار پر تو اپنے اشکوں میں ڈھل کے چل
منزل کے راستے میں بیٹھے ہوئے ہیں رہزن
ائے شوق آرزو اپنی راہیں بدل کے چل
دل جو بھٹک گیا ہے اس کا سبب یہ ہی ہے
کس نے کہا تھا تجھ سے تو یوں مچل کے چل
رستے کی سختیوں کی مت فکر کر تو عارف
پتھر سے موم بن جا اور تو پگھل کے چل
ا ے ایس عارف
دنیا کے سامنے اب چہرا بدل کے چل
پائے گا خود کو اپنی منزل کے پاس اک دن
نرغے سے رہبروں کے تنہا نکل کے چل
ہے آگ زندگانی یہ بات تو سمجھ لے
انگاروں پر تو اسکے ائے دوست جل کے چل
روکی ہوئی ہیں راہیں دنیا نے منزلوں کی
رخسار پر تو اپنے اشکوں میں ڈھل کے چل
منزل کے راستے میں بیٹھے ہوئے ہیں رہزن
ائے شوق آرزو اپنی راہیں بدل کے چل
دل جو بھٹک گیا ہے اس کا سبب یہ ہی ہے
کس نے کہا تھا تجھ سے تو یوں مچل کے چل
رستے کی سختیوں کی مت فکر کر تو عارف
پتھر سے موم بن جا اور تو پگھل کے چل
ا ے ایس عارف
ہر قطرہ اشک کو میر ے چشم میں ڈ ال دو وہ حسن تیرا بے کراں یونہی سدا جواں رھے
بہار بن کے آشیاں میں تیر ے لئے خزاں رھے
ہر خوشی میسر ھو ہر طرب سے آشنا
مہکتی وہ فضا رھے ترا وجود جہاں رھے
وہ تیری حدت بنی رھے وہی رخ تاباں رھے
پلکوں پہ سجا کہ اک جہاں تیر ے لئے جہاں رھے
مشکلوں سے دور ھو آسائشو ں میں گھر ے ھوئے
اور رحمتیں لئے ھوئے سایہ فگن آسماں رھے
ہر قطرہ اشک کو میر ے چشم میں ڈ ال دو
میں محو نالہ فغاں رھوں تو محفلوں کی جاں رھے
یہ بھی ادائے ناز ھے یا ھے غرور حسن کا
بنا دیا ھے مجھ کو یوں کہ جیسے آستاں رھے
عارف دنیا کی بھیڑ میں فاصلے بن گئے بہت
وہ شاد رھے جہاں رھے بس الله نگہباں رھے
ا ے ایس عارف
بہار بن کے آشیاں میں تیر ے لئے خزاں رھے
ہر خوشی میسر ھو ہر طرب سے آشنا
مہکتی وہ فضا رھے ترا وجود جہاں رھے
وہ تیری حدت بنی رھے وہی رخ تاباں رھے
پلکوں پہ سجا کہ اک جہاں تیر ے لئے جہاں رھے
مشکلوں سے دور ھو آسائشو ں میں گھر ے ھوئے
اور رحمتیں لئے ھوئے سایہ فگن آسماں رھے
ہر قطرہ اشک کو میر ے چشم میں ڈ ال دو
میں محو نالہ فغاں رھوں تو محفلوں کی جاں رھے
یہ بھی ادائے ناز ھے یا ھے غرور حسن کا
بنا دیا ھے مجھ کو یوں کہ جیسے آستاں رھے
عارف دنیا کی بھیڑ میں فاصلے بن گئے بہت
وہ شاد رھے جہاں رھے بس الله نگہباں رھے
ا ے ایس عارف
ہر قطرہ اشک کو میر ے چشم میں ڈ ال دو New Page 1وہ حسن تیرا بے کراں یونہی سدا جواں رھے
بہار بن کے آشیاں میں تیر ے لئے خزاں رھے
ہر خوشی میسر ھو ہر طرب سے آشنا
مہکتی وہ فضا رھے ترا وجود جہاں رھے
وہ تیری حدت بنی رھے وہی رخ تاباں رھے
پلکوں پہ سجا کہ اک جہاں تیر ے لئے جہاں رھے
مشکلوں سے دور ھو آسائشو ں میں گھر ے ھوئے
اور رحمتیں لئے ھوئے سایہ فگن آسماں رھے
ہر قطرہ اشک کو میر ے چشم میں ڈ ال دو
میں محو نالہ فغاں رھوں تو محفلوں کی جاں رھے
یہ بھی ادائے ناز ھے یا ھے غرور حسن کا
بنا دیا ھے مجھ کو یوں کہ جیسے آستاں رھے
عارف دنیا کی بھیڑ میں فاصلے بن گئے بہت
وہ شاد رھے جہاں رھے بس الله نگہباں رھے
ا ے ایس عارف
بہار بن کے آشیاں میں تیر ے لئے خزاں رھے
ہر خوشی میسر ھو ہر طرب سے آشنا
مہکتی وہ فضا رھے ترا وجود جہاں رھے
وہ تیری حدت بنی رھے وہی رخ تاباں رھے
پلکوں پہ سجا کہ اک جہاں تیر ے لئے جہاں رھے
مشکلوں سے دور ھو آسائشو ں میں گھر ے ھوئے
اور رحمتیں لئے ھوئے سایہ فگن آسماں رھے
ہر قطرہ اشک کو میر ے چشم میں ڈ ال دو
میں محو نالہ فغاں رھوں تو محفلوں کی جاں رھے
یہ بھی ادائے ناز ھے یا ھے غرور حسن کا
بنا دیا ھے مجھ کو یوں کہ جیسے آستاں رھے
عارف دنیا کی بھیڑ میں فاصلے بن گئے بہت
وہ شاد رھے جہاں رھے بس الله نگہباں رھے
ا ے ایس عارف
بہت مشکل ھے آسیب یار سے بچنا بہت مشکل ھے
زندہ زندان سے نکلنا بہت مشکل ھے
اسکی یادوں سے بنا زھر ھو یا امرت
گھونٹ گھونٹ کر پینا بہت مشکل ھے
عشق کا انجام جو ھے سب کو معلوم
رات بھر ستارے گننا بہت مشکل ھے
پاؤں میں لرزا ھے اور دل بے قابو
اسکے کوچے سے گزرنا بہت مشکل ھے
یار کے ھوتے ھوئے ا ے میر ے رب
حاصل تیری رضا کرنا بہت مشکل ھے
کھوئے سحاب سے پوچھو کے کیا گزری
انجان صحرا میں برسنا بہت مشکل ھے
خوشبو خوشبو کو لئے بکھرتی ھے
جگ میں یکتا جینا بہت مشکل ھے
لے کر سنیاس اس دنیا سے عارف
کسی کے نام کی مالا جپنا بہت مشکل ھے
ا ے ایس عارف
زندہ زندان سے نکلنا بہت مشکل ھے
اسکی یادوں سے بنا زھر ھو یا امرت
گھونٹ گھونٹ کر پینا بہت مشکل ھے
عشق کا انجام جو ھے سب کو معلوم
رات بھر ستارے گننا بہت مشکل ھے
پاؤں میں لرزا ھے اور دل بے قابو
اسکے کوچے سے گزرنا بہت مشکل ھے
یار کے ھوتے ھوئے ا ے میر ے رب
حاصل تیری رضا کرنا بہت مشکل ھے
کھوئے سحاب سے پوچھو کے کیا گزری
انجان صحرا میں برسنا بہت مشکل ھے
خوشبو خوشبو کو لئے بکھرتی ھے
جگ میں یکتا جینا بہت مشکل ھے
لے کر سنیاس اس دنیا سے عارف
کسی کے نام کی مالا جپنا بہت مشکل ھے
ا ے ایس عارف
ایک مسافر وہ سرد رات
اور خاموشی کا ھر سو پہرہ
لرزتے کانپتے پاؤں سے
ایک مسافر
سائیں سائیں کرتی
ھواؤں کے دوش پر
منزلوں سے دور کہیں
زندگی سے تھکے ھوئے
ایک دوشیزہ کے نازک
وجود کا سہارہ لئے
آج پہنچا ھے آخری سانس پر
اور وہ سوچتا ھے کیا کیا اس نے
اور کیا نہ کیا
اور خود کی تلاش میں
خود کو ھی بھول بیٹھا
وہ اپنی خامیوں سے الجھ کر رہ گیا
اور خوبیوں میں بٹھکتا رہ گیا
اب کیا وہ اور کیا اسکی حسرتیں
کیا امنگیں اور کیا نفرتیں
کیا محبتیں اور کیا وصیتیں
وہ تو پیا سا تھا پیاسا رہ گیا
مگر اس دنیا کو دنیا د ے گیا
وہ اپنے پیچھے نام لیواء
چھوڑ گیا
وہ ایک سلسلے کو
جوڑ گیا
اس کا جیون رائیگاں تو نہ تھا
ا ے ایس عارف
اور خاموشی کا ھر سو پہرہ
لرزتے کانپتے پاؤں سے
ایک مسافر
سائیں سائیں کرتی
ھواؤں کے دوش پر
منزلوں سے دور کہیں
زندگی سے تھکے ھوئے
ایک دوشیزہ کے نازک
وجود کا سہارہ لئے
آج پہنچا ھے آخری سانس پر
اور وہ سوچتا ھے کیا کیا اس نے
اور کیا نہ کیا
اور خود کی تلاش میں
خود کو ھی بھول بیٹھا
وہ اپنی خامیوں سے الجھ کر رہ گیا
اور خوبیوں میں بٹھکتا رہ گیا
اب کیا وہ اور کیا اسکی حسرتیں
کیا امنگیں اور کیا نفرتیں
کیا محبتیں اور کیا وصیتیں
وہ تو پیا سا تھا پیاسا رہ گیا
مگر اس دنیا کو دنیا د ے گیا
وہ اپنے پیچھے نام لیواء
چھوڑ گیا
وہ ایک سلسلے کو
جوڑ گیا
اس کا جیون رائیگاں تو نہ تھا
ا ے ایس عارف
نہا کر اک پری نکلی تھی جیسے آبشاروں سے افق کی سرخیوں میں ڈو بے ھوئے ستاروں سے
کبھی تم بھی نکل آتے زمانے کے حصاروں سے
محبت ڈھونڈتی پھرتی ھے اپنی کھوئی ھوئی منزل
مگر بچنا بہت مشکل ھے اپنے ھی شراروں سے
کبھی بے بس تڑپنا ھے کہیں بے زور رھنا ھے
نبرد آزما ھے یہ جیون اپنے شہ سواروں سے
کوئی اک برس کا زکر ھو تو عرض کر دیں گے
یہاں تاریخ مرتب ھے کھوئی ھوئ بہاروں سے
ناصیح نے نصیت کی کہ کچھ کر دیکھاؤ الفت میں
آبلہ پا تو سب ھی نکلتے ھیں ریگزاروں سے
وہ حسن کا جوبن تھا کہ جلوہ گر ھوئے ایسے
نہا کر اک پری نکلی تھی جیسے آبشاروں سے
جنون وقت نے کس کو کہاں سے کھو دیا دیکھو
چل پائیں گے اور کتنا ھم اوروں کے سہاروں سے
خلقت امڈ آئی کے دیکھیں مجنوں کی ھئیت کو
ھم باتیں کر رھے تھے کل اپنے گھر کی دیواروں سے
بہت تگ و دد میں عارف یوں ھلکان بیٹھے ھیں
بہت محدود ھے دنیا مگر لا حاصل کناروں سے
ا ے ایس عارف
کبھی تم بھی نکل آتے زمانے کے حصاروں سے
محبت ڈھونڈتی پھرتی ھے اپنی کھوئی ھوئی منزل
مگر بچنا بہت مشکل ھے اپنے ھی شراروں سے
کبھی بے بس تڑپنا ھے کہیں بے زور رھنا ھے
نبرد آزما ھے یہ جیون اپنے شہ سواروں سے
کوئی اک برس کا زکر ھو تو عرض کر دیں گے
یہاں تاریخ مرتب ھے کھوئی ھوئ بہاروں سے
ناصیح نے نصیت کی کہ کچھ کر دیکھاؤ الفت میں
آبلہ پا تو سب ھی نکلتے ھیں ریگزاروں سے
وہ حسن کا جوبن تھا کہ جلوہ گر ھوئے ایسے
نہا کر اک پری نکلی تھی جیسے آبشاروں سے
جنون وقت نے کس کو کہاں سے کھو دیا دیکھو
چل پائیں گے اور کتنا ھم اوروں کے سہاروں سے
خلقت امڈ آئی کے دیکھیں مجنوں کی ھئیت کو
ھم باتیں کر رھے تھے کل اپنے گھر کی دیواروں سے
بہت تگ و دد میں عارف یوں ھلکان بیٹھے ھیں
بہت محدود ھے دنیا مگر لا حاصل کناروں سے
ا ے ایس عارف
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے ( حصہ دوم ) یادوں سے بھری شام کو حسیں بناتا ھے
محبوب کی کھوئی قربت کی یاد دلاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ لبوں کی نرم لرزش کو
حیا میں ڈوبی بند ش کو
آمادہ کراتی لغزش کو
اسکی رسیلی باتوں میں گویا چھپاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
سرمائی آنکھوں میں انتظار لے کر
مرمریں بانہوں کا ھار لے کر
معطر گیسؤوں کا وار لے کر
وہ دریچے کا منظر کبھی یاد کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
کھنکتی چوڑیوں کی جھنکار میں کیا تھا
بدلتی ھوئی تپش رخسار میں کیا تھا
وہ اقرار میں چھپی انکار میں کیا تھا
میری نگاہ یاس کو بہت پر نم بناتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ گزرا وقت پھر سے آ جاتا
اس بہت اپنے کو میں اپنا جاتا
شاید خود کو کہیں میں پا جاتا
یہ خود گزرتا ھے مجھے بھی گزار جاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ا ے ایس عارف
محبوب کی کھوئی قربت کی یاد دلاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ لبوں کی نرم لرزش کو
حیا میں ڈوبی بند ش کو
آمادہ کراتی لغزش کو
اسکی رسیلی باتوں میں گویا چھپاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
سرمائی آنکھوں میں انتظار لے کر
مرمریں بانہوں کا ھار لے کر
معطر گیسؤوں کا وار لے کر
وہ دریچے کا منظر کبھی یاد کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
کھنکتی چوڑیوں کی جھنکار میں کیا تھا
بدلتی ھوئی تپش رخسار میں کیا تھا
وہ اقرار میں چھپی انکار میں کیا تھا
میری نگاہ یاس کو بہت پر نم بناتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ گزرا وقت پھر سے آ جاتا
اس بہت اپنے کو میں اپنا جاتا
شاید خود کو کہیں میں پا جاتا
یہ خود گزرتا ھے مجھے بھی گزار جاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ا ے ایس عارف
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ایک سال کے کھونے کا احساس دلاتا ھے
محبوب کےعارض کی سرخیوں کو تھوڑا سا
چھپتے چھپاتے سے مدھم سا کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
لبوں کے پیالے میں اگر رس کو ناپو تو
کچھ فرق کا پیمانہ ابھر کے آتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
اسکی آنکھوں کی تپش کو محسوس تو کرتےھیں
مگر ترکش کے وہ خم کو ابھار کے لاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
کہتے تھے کہ حسن کا ثانی نہیں کوئی
اب تھوڑا سا خیالات کو تبدیل کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
خدوخال تو ممکن ھے سنجیدہ ھو ے لیکن
میرے محبوب کو ھزاروں میں جداگانہ بناتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ سدا کا حسیں ھے حسیں ھی رھیگا.
یہ میرا آئینہ ھے جو میرا منہ چڑاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
اس سال کی گرد نے کیا اشر دیکھایا ھے
سرد ھو ے جزبات کو سردی میں جلاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ایک سال کے کھونے کا احساس دلاتا ھے
ا ے ایس عارف
ایک سال کے کھونے کا احساس دلاتا ھے
محبوب کےعارض کی سرخیوں کو تھوڑا سا
چھپتے چھپاتے سے مدھم سا کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
لبوں کے پیالے میں اگر رس کو ناپو تو
کچھ فرق کا پیمانہ ابھر کے آتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
اسکی آنکھوں کی تپش کو محسوس تو کرتےھیں
مگر ترکش کے وہ خم کو ابھار کے لاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
کہتے تھے کہ حسن کا ثانی نہیں کوئی
اب تھوڑا سا خیالات کو تبدیل کراتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
خدوخال تو ممکن ھے سنجیدہ ھو ے لیکن
میرے محبوب کو ھزاروں میں جداگانہ بناتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
وہ سدا کا حسیں ھے حسیں ھی رھیگا.
یہ میرا آئینہ ھے جو میرا منہ چڑاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
اس سال کی گرد نے کیا اشر دیکھایا ھے
سرد ھو ے جزبات کو سردی میں جلاتا ھے
یہ دسمبر کا مہینہ مجھے خوب ستاتا ھے
ایک سال کے کھونے کا احساس دلاتا ھے
ا ے ایس عارف
وہ چاند سا چہرا حجاب میں اکھڑا اکھڑا چشم بدور حسن سے مزین زلفوں میں گھرا مکھڑا چشم بدور
میری نبض کو بخوبی جس نے ھے پکڑا چشم بدور
میر ے گلشن میں تو جانے عجب ھلچل سی مچی ھے
ایک گلاب کی خاطر تتلیوں کا ھے جھگڑا چشم بدور
اسکے رخسار کی لالیاں سلجھا رھی ھیں پہیلیاں
وہ ہمہ تن گوش ھو کر سن رھے ھیں دکھڑا چشم بدور
اسکے تصور میں تو جیسے ھم تخت نشیں ھوے ھیں
دل ھے بہت شاھی چاہیے بس روکڑا چشم بدور
خیالات ھو کہ آہیں لرزاں نظر آتی ھیں سانسیں
مکڑی کے جال نے کس کس کو ھے جکڑا چشم بدور
شاید زمانے کی گرد نے اپنا اثر دیگھا دیا ھے
وہ چاند سا چہرا حجاب میں اکھڑا اکھڑا چشم بدور
رقصاں ھیں فضائیں گنگنا رھی ھیں ھوائیں
میر ے گیتوں کا بس تو ھی تو ھے مکھڑا چشم بدور
ا ے ایس عارف
میری نبض کو بخوبی جس نے ھے پکڑا چشم بدور
میر ے گلشن میں تو جانے عجب ھلچل سی مچی ھے
ایک گلاب کی خاطر تتلیوں کا ھے جھگڑا چشم بدور
اسکے رخسار کی لالیاں سلجھا رھی ھیں پہیلیاں
وہ ہمہ تن گوش ھو کر سن رھے ھیں دکھڑا چشم بدور
اسکے تصور میں تو جیسے ھم تخت نشیں ھوے ھیں
دل ھے بہت شاھی چاہیے بس روکڑا چشم بدور
خیالات ھو کہ آہیں لرزاں نظر آتی ھیں سانسیں
مکڑی کے جال نے کس کس کو ھے جکڑا چشم بدور
شاید زمانے کی گرد نے اپنا اثر دیگھا دیا ھے
وہ چاند سا چہرا حجاب میں اکھڑا اکھڑا چشم بدور
رقصاں ھیں فضائیں گنگنا رھی ھیں ھوائیں
میر ے گیتوں کا بس تو ھی تو ھے مکھڑا چشم بدور
ا ے ایس عارف
چلنا ھے انگاروں پر پاؤں بچا کے ھم نے سیکھا زندگی سے عمر گنوا کے
کیسے اڑتے ھیں طیور مخالف ھوا کے
زھن تو رھا آزاد شومئی قسمت
بند کمر ے میں ھے قیدی پابند سزا کے
غنچہ ہستی سے ھو گئے ھیں غافل
بہار آتی ھے کبھی کیسے پاؤں دبا کے
ٹوٹے ھوئے پتوں سے یہ جانا ھم نے
خزاں سے بھلا کیا چاھیں امید بنا کے
کچھ تسکین ملی تھی دریا کنار ے
اشکوں سے مگر اپنی پیاس بجھا کے
تم آو گے جلد ھی خشبویں کہتی ھیں
منادی کرا دی ھے شہر کو سجا کے
وہ لیتے ھیں شب بھر کا امتحان ھمارہ
ھم لیٹیں گے کانٹوں کے بچھونے بچھا کے
مجھ کو مجھ سے ھی سدا کا مسئلہ ھے
ڈبو دینگیں سمندر میں اپنا ھیولا بنا کے
کیسی ھے جیون کی بساط یہ عارف
چلنا ھے انگاروں پر پاؤں بچا کے
ا ے ایس عارف
کیسے اڑتے ھیں طیور مخالف ھوا کے
زھن تو رھا آزاد شومئی قسمت
بند کمر ے میں ھے قیدی پابند سزا کے
غنچہ ہستی سے ھو گئے ھیں غافل
بہار آتی ھے کبھی کیسے پاؤں دبا کے
ٹوٹے ھوئے پتوں سے یہ جانا ھم نے
خزاں سے بھلا کیا چاھیں امید بنا کے
کچھ تسکین ملی تھی دریا کنار ے
اشکوں سے مگر اپنی پیاس بجھا کے
تم آو گے جلد ھی خشبویں کہتی ھیں
منادی کرا دی ھے شہر کو سجا کے
وہ لیتے ھیں شب بھر کا امتحان ھمارہ
ھم لیٹیں گے کانٹوں کے بچھونے بچھا کے
مجھ کو مجھ سے ھی سدا کا مسئلہ ھے
ڈبو دینگیں سمندر میں اپنا ھیولا بنا کے
کیسی ھے جیون کی بساط یہ عارف
چلنا ھے انگاروں پر پاؤں بچا کے
ا ے ایس عارف
برسات کی رت اور بارش سے تھا اک جگ بھیگا تم ھو کہ اپنے گھر سے میر ے دل میں سمونے نکلے
اپنے ھاتھوں سے مالا مر ے سانسوں کی پرونے نکلے
برسات کی رت اور بارش سے تھا اک جگ بھیگا
ھم اسکے تر دامن سے اپنی آنکھوں کو بھیگونے نکلے
میکد ہ دور تھا اسکے کوچے میں ذرا ٹہر کر دیکھا
وہ سمجھے کہ میر ے در پر شب بھر کو سونے نکلے
انکی آنکھوں میں جو دیکھا مر ے جزبات نے آگے بڑھ کر
ٹوٹے ھوئے بکھرئے ھوئے ہر سو مٹی کے کھلونے نکلے
تجھ کو پانے کی طلب نہ باقی رھا ارمانوں کا شعور
ا ے صنم رھو بے فکر ھم خود کو خود سے کھونے نکلے
غم عاشقی کا ھوا اعلان جب دیر سمے اس روز
کتنے ھی سیانے تھے مر ے ساتھ گھر سے رونے نکلے
محبت لا حاصل ھے نہ سوچا تھا نہ سوچیں گے عارف
فرش کے باسی ھیں غافل ھیں عرش کو چھونے نکلے
ا ے ایس عارف
اپنے ھاتھوں سے مالا مر ے سانسوں کی پرونے نکلے
برسات کی رت اور بارش سے تھا اک جگ بھیگا
ھم اسکے تر دامن سے اپنی آنکھوں کو بھیگونے نکلے
میکد ہ دور تھا اسکے کوچے میں ذرا ٹہر کر دیکھا
وہ سمجھے کہ میر ے در پر شب بھر کو سونے نکلے
انکی آنکھوں میں جو دیکھا مر ے جزبات نے آگے بڑھ کر
ٹوٹے ھوئے بکھرئے ھوئے ہر سو مٹی کے کھلونے نکلے
تجھ کو پانے کی طلب نہ باقی رھا ارمانوں کا شعور
ا ے صنم رھو بے فکر ھم خود کو خود سے کھونے نکلے
غم عاشقی کا ھوا اعلان جب دیر سمے اس روز
کتنے ھی سیانے تھے مر ے ساتھ گھر سے رونے نکلے
محبت لا حاصل ھے نہ سوچا تھا نہ سوچیں گے عارف
فرش کے باسی ھیں غافل ھیں عرش کو چھونے نکلے
ا ے ایس عارف
میرا احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا چاندی بالوں میں کیا سمائی عجب ھو گیا
احساس محرومیوں کا تازہ سبب ھو گیا
فرصت کے لمہے بس یہی سوچتے ھیں
ایک زمانہ ادھر سےادھر کب ھو گیا
بے کلی کی انتہاء اظراب کی سازشیں
میرا احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا
ھم سخن ھم نواء کس کو کہیں آخر
یگانگت کا سایہ آفزوں جب ھو گیا
کا نٹوں کی سیج پر خوشیاں بس گئیں
خفا ھم سے جانے کیوں رب ھو گیا
یاروں کی دوستیاں پیاروں کی صحبتیں
وہ حسیں وقت میرا باعث کرب ھو گیا
دل بے قرار کچھ کھونے کے خوف سے
پریشاں نہ تھا کبھی جو اب ھو گیا
جزبہ تھا بے کراں عارف کے زوق میں
پر دنیا داریوں میں کہیں جزب ھو گیا
ا ے ایس عارف
احساس محرومیوں کا تازہ سبب ھو گیا
فرصت کے لمہے بس یہی سوچتے ھیں
ایک زمانہ ادھر سےادھر کب ھو گیا
بے کلی کی انتہاء اظراب کی سازشیں
میرا احساس شوق دنیا جاں بلب ھو گیا
ھم سخن ھم نواء کس کو کہیں آخر
یگانگت کا سایہ آفزوں جب ھو گیا
کا نٹوں کی سیج پر خوشیاں بس گئیں
خفا ھم سے جانے کیوں رب ھو گیا
یاروں کی دوستیاں پیاروں کی صحبتیں
وہ حسیں وقت میرا باعث کرب ھو گیا
دل بے قرار کچھ کھونے کے خوف سے
پریشاں نہ تھا کبھی جو اب ھو گیا
جزبہ تھا بے کراں عارف کے زوق میں
پر دنیا داریوں میں کہیں جزب ھو گیا
ا ے ایس عارف
دھوپ چھاؤں کے کھیل کھیل میں کیسے خوابوں کے بندھن بنا گئے ھو
یہ رشتہ دل کی چبھن بنا گئے ھو
اپنی سلجھی ھوئی شخصیت کو
میری زندگی کی الجھن بنا گئے ھو
تنہائیاں خواب حسرتیں
بند دیواروں میں انجمن بنا گئے ھو
کبھی مڑ کر تو دیکھتے ساتھی
ھمیں عادی شعر و سخن بنا گئے ھو
پتھروں کے شہر میں نازک
کرچیوں کا بدن بنا گئے ھو
دل کی دوا تو کیا کرتے
لرزتی کانپتی دھڑکن بنا گئے ھو
دھوپ چھاؤں کے کھیل کھیل میں
طوفانوں کو سایہ فگن بنا گئے ھو
حصول اشیاء گراں میں دوست
ھمیں بھی اپنا دھن بنا گئے ھو
ا ے ایس عارف
یہ رشتہ دل کی چبھن بنا گئے ھو
اپنی سلجھی ھوئی شخصیت کو
میری زندگی کی الجھن بنا گئے ھو
تنہائیاں خواب حسرتیں
بند دیواروں میں انجمن بنا گئے ھو
کبھی مڑ کر تو دیکھتے ساتھی
ھمیں عادی شعر و سخن بنا گئے ھو
پتھروں کے شہر میں نازک
کرچیوں کا بدن بنا گئے ھو
دل کی دوا تو کیا کرتے
لرزتی کانپتی دھڑکن بنا گئے ھو
دھوپ چھاؤں کے کھیل کھیل میں
طوفانوں کو سایہ فگن بنا گئے ھو
حصول اشیاء گراں میں دوست
ھمیں بھی اپنا دھن بنا گئے ھو
ا ے ایس عارف
قبول نہ ھوا سوئے ھوئے نصیب کو جگانا قبول نہ ھوا
میری زیست کو شاید زمانہ قبول نہ ھوا
یہ پژ مردہ سا ھے خاموش ھے
اس دل کو دل کا لگانا قبول نہ ھوا
بہت اپنائیت کے دعو ے سنتے رھے سدا
تین حرف قبولیت کے دھرانا قبول نہ ھوا
درس وفاء کی محفل تھی ھم کو اٹھا دیا
دھیر ے سے ھمارا مسکرانا قبول نہ ھوا
سرگوشیوں میں کتنے پیام بھجتے رھے
صبح کے بھولے شام کو آنا قبول نہ ھوا
اپنے ھی اندر اندر بھٹکتے رھے عارف
کبھی بھی خود کو اپنا بنانا قبول نہ ھوا ا ے ایس عارف
میری زیست کو شاید زمانہ قبول نہ ھوا
یہ پژ مردہ سا ھے خاموش ھے
اس دل کو دل کا لگانا قبول نہ ھوا
بہت اپنائیت کے دعو ے سنتے رھے سدا
تین حرف قبولیت کے دھرانا قبول نہ ھوا
درس وفاء کی محفل تھی ھم کو اٹھا دیا
دھیر ے سے ھمارا مسکرانا قبول نہ ھوا
سرگوشیوں میں کتنے پیام بھجتے رھے
صبح کے بھولے شام کو آنا قبول نہ ھوا
اپنے ھی اندر اندر بھٹکتے رھے عارف
کبھی بھی خود کو اپنا بنانا قبول نہ ھوا ا ے ایس عارف