Poetries by waseem arbi
لوشب راحت کی آئی ہے لوشب راحت کی آئی ہے ، لو دن خوشیوں کا آیا ہے
ہلال عید نے بھی تو یہی مژدہ سنایا ہے
یہ میٹھی عید بھی دیکھو کہ کیسے تحفے لائی ہے
کسی کا شادماں دل ہے کسی نے درد پایا ہے
گلے ملتے ہیں روٹھے بھی ہمیںآ کر بھی مل جاؤ
تیرے راہوں میں بیٹھے ہیں اسی کو گھر بنایا ہے
کیوں ڈرتے ہو تم دنیا کی ان سچی جھوٹی باتوں سے
مجھے دیکھو بنا سوچے ہی تم سے دل لگایا ہے
نہ دو جھوٹی تسلی کہ ہو گی برسات خوشیوں کی
میرے سر پہ تو بادل اب بھی میرے غم کا چھایا ہے
گلہ تم سے نہیں کوئی نا ہی دنیا سے ناراضی
مجھے بس اس سے شکوہ ہے وہ جس نے دل بنایا ہے امن وسیم
ہلال عید نے بھی تو یہی مژدہ سنایا ہے
یہ میٹھی عید بھی دیکھو کہ کیسے تحفے لائی ہے
کسی کا شادماں دل ہے کسی نے درد پایا ہے
گلے ملتے ہیں روٹھے بھی ہمیںآ کر بھی مل جاؤ
تیرے راہوں میں بیٹھے ہیں اسی کو گھر بنایا ہے
کیوں ڈرتے ہو تم دنیا کی ان سچی جھوٹی باتوں سے
مجھے دیکھو بنا سوچے ہی تم سے دل لگایا ہے
نہ دو جھوٹی تسلی کہ ہو گی برسات خوشیوں کی
میرے سر پہ تو بادل اب بھی میرے غم کا چھایا ہے
گلہ تم سے نہیں کوئی نا ہی دنیا سے ناراضی
مجھے بس اس سے شکوہ ہے وہ جس نے دل بنایا ہے امن وسیم
ہے عید کا دن اور موقع بھی گلے لگ کے مٹا دو سارے غم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
میرے زخموں پہ رکھ دو مرہم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
آ دیکھوں تم کو جی بھر کر،تیری آنکھیں اور رخسار کا تل
آ سلجھاؤں تیری زلف کا خم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
تم دھیرے سے مسکائی ہو، میرے دل کو سکون سا پہنچا ہے
کاش وقت یہیں پہ جائے تھم،ہےعید کا دن اور موقع بھی
اظہارمحبت کروں تم سے،تھی کب سے یہ حسرت دل میں میرے
آج کرتا ہوں اقرار صنم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
اپنے شیریں لبوں کا بوسہ دو،اور آنکھوں سے اک جام بھرو
پھر پیار کی چھیڑو تم سرگم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
کس بات کی حلدی ہے تم کو،آئے ہو ابھی بیٹھو تو سہی
نہ جانا ابھی تمہیںمیری قسم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
تم مان لو آج اپنے دل کی بات،اور توڑ دو جگ کے رسم و رواج
ایک ہو جائیں آج تم اور ہم،ہے عید کا دن اور موقع بھی امن وسیم
میرے زخموں پہ رکھ دو مرہم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
آ دیکھوں تم کو جی بھر کر،تیری آنکھیں اور رخسار کا تل
آ سلجھاؤں تیری زلف کا خم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
تم دھیرے سے مسکائی ہو، میرے دل کو سکون سا پہنچا ہے
کاش وقت یہیں پہ جائے تھم،ہےعید کا دن اور موقع بھی
اظہارمحبت کروں تم سے،تھی کب سے یہ حسرت دل میں میرے
آج کرتا ہوں اقرار صنم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
اپنے شیریں لبوں کا بوسہ دو،اور آنکھوں سے اک جام بھرو
پھر پیار کی چھیڑو تم سرگم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
کس بات کی حلدی ہے تم کو،آئے ہو ابھی بیٹھو تو سہی
نہ جانا ابھی تمہیںمیری قسم،ہے عید کا دن اور موقع بھی
تم مان لو آج اپنے دل کی بات،اور توڑ دو جگ کے رسم و رواج
ایک ہو جائیں آج تم اور ہم،ہے عید کا دن اور موقع بھی امن وسیم
بلاوا ہو کبھی میرا بلاوا ہو کبھی میرا تیرے در پر میرے آقا
گرا دوں تیرے قدموںمیں میں اپنا سر میرے آقا
برستی گنبد خضرا پہ اک بارش نورانی ہو
اور میں بھی ایسی بارش میں ہو جاؤں تر میرے آقا
ملاقات اجل ہو سامنے نظروں کے روضہ ہو
تو میرے واسطے کچھ ایسا چارہ کر میرے آقا
سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں
کبھی روشن ہو جلوے سے میرا بھی گھر میرے آقا
مرادیں پوری کر دے یوں نہ حسرت کچھ رہے دل میں
یہ جھولی میری خالی ہے تو اس کو بھر میرے آقا
امن نامی گرامی ہے مگر گمنام تھا پہلے
بنایا تو اس ذرے کو اک گوہر میرے آقا امن وسیم
گرا دوں تیرے قدموںمیں میں اپنا سر میرے آقا
برستی گنبد خضرا پہ اک بارش نورانی ہو
اور میں بھی ایسی بارش میں ہو جاؤں تر میرے آقا
ملاقات اجل ہو سامنے نظروں کے روضہ ہو
تو میرے واسطے کچھ ایسا چارہ کر میرے آقا
سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں
کبھی روشن ہو جلوے سے میرا بھی گھر میرے آقا
مرادیں پوری کر دے یوں نہ حسرت کچھ رہے دل میں
یہ جھولی میری خالی ہے تو اس کو بھر میرے آقا
امن نامی گرامی ہے مگر گمنام تھا پہلے
بنایا تو اس ذرے کو اک گوہر میرے آقا امن وسیم
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے سر سے قرض اتار دو
میں بہت دنوں سے کنگال ہوں مجھے تھوڑے پیسے ادھار دو
کسی اور کو میرے حال پہ نہیں ترس آتا تو کیا ہوا
تمہی بکھرے کپڑے سمیٹ لو تمہی بگڑا کمرا سنوار دو
میرے درد سر کو بڑھا دیا میرے قرض خواہ کے شور نے
میرے سر کی مالش کرو ذرا میری دھڑکنوں کو قرار دو
تم سکھاؤ نئے مجھے پینترے کہ میں کھاؤں قرض بڑے بڑے
مجھے شوخ رنگوں یں رنگ دو میرے پھیکے رنگ اتار دو
تمھیں سچ میں کیسی لگی کہو میری آٹھ فٹ کی یہ کوٹھڑی
اے ون لگی!بس یہیں رہو اسے چونا کر کے نکھار دو
میرے گھر میں کونسا بیڈ بھلا کہ ہو فکر لیٹنے سونے کی
یہی مختصر سی چٹائی ہے یہیں بیٹھے رات گزار دو امن وسیم
میں بہت دنوں سے کنگال ہوں مجھے تھوڑے پیسے ادھار دو
کسی اور کو میرے حال پہ نہیں ترس آتا تو کیا ہوا
تمہی بکھرے کپڑے سمیٹ لو تمہی بگڑا کمرا سنوار دو
میرے درد سر کو بڑھا دیا میرے قرض خواہ کے شور نے
میرے سر کی مالش کرو ذرا میری دھڑکنوں کو قرار دو
تم سکھاؤ نئے مجھے پینترے کہ میں کھاؤں قرض بڑے بڑے
مجھے شوخ رنگوں یں رنگ دو میرے پھیکے رنگ اتار دو
تمھیں سچ میں کیسی لگی کہو میری آٹھ فٹ کی یہ کوٹھڑی
اے ون لگی!بس یہیں رہو اسے چونا کر کے نکھار دو
میرے گھر میں کونسا بیڈ بھلا کہ ہو فکر لیٹنے سونے کی
یہی مختصر سی چٹائی ہے یہیں بیٹھے رات گزار دو امن وسیم
رات میں نے خواب دیکھا رات میں نے خواب دیکھا
خواب میں اک عزاب دیکھا
تم کو اتنا بے تاب دیکھا
مثل ماہی بے آب دیکھا
میں نے تم کو اداس دیکھا
بے چین اور بے آس دیکھا
غموں کی چادر تھی تم نے اوڑھی
دکھوں کو تیرا لباس دیکھا
تو تپتے صحرا میں چل رہا تھا
تمہارا جوبن پگھل رہا تھا
لبوں کی خشکی تڑپ رہی تھی
اور خون جسم بھی جل رہا تھا
بجھا بجھا تھا تمہارا چہرا
اورآنکھوں میں تھا بھرا سمندر
تمہارے غم بھی تو کم نہیں تھے
بپا تھا طوفاں تمہارے اندر
پھر اچانک گھڑی وہ آئی
جو خوشیوں کا اعلان لائی
ابھی تو تھی جاں لبوں کو آئی
اور اب لبوں میں ہے جان آئی
پہلے تو یہ امید باندھی
کہ مشکل وقت اب ٹل رہا ہے
یہ کس کو معلوم تھا کہ تو تو
سرابوں کی جانب ہی چل رہا ہے
تشنگی کے پھر چھائے بادل
نظر نہ آتی تھی کوئی چھاگل
شدت پیاس نے تو آخر
کر دیا تھا تمہیں بھی پاگل
سفر کے پیمانے گھٹ رہے تھے
نہ فاصلے ہی سمٹ رہے تھے
نہ منزلوں کا پتہ تھا کوئی
نہ غم کے بادل ہی چھٹ رہے تھے
جبر کی حد ہی تو ہو گئی تھی
صبر کا پیمانہ بھر گیا تھا
تو خواب تھا یاکہ تھا حقیقت
مجھے تو حیران کر گیا تھا امن وسیم
خواب میں اک عزاب دیکھا
تم کو اتنا بے تاب دیکھا
مثل ماہی بے آب دیکھا
میں نے تم کو اداس دیکھا
بے چین اور بے آس دیکھا
غموں کی چادر تھی تم نے اوڑھی
دکھوں کو تیرا لباس دیکھا
تو تپتے صحرا میں چل رہا تھا
تمہارا جوبن پگھل رہا تھا
لبوں کی خشکی تڑپ رہی تھی
اور خون جسم بھی جل رہا تھا
بجھا بجھا تھا تمہارا چہرا
اورآنکھوں میں تھا بھرا سمندر
تمہارے غم بھی تو کم نہیں تھے
بپا تھا طوفاں تمہارے اندر
پھر اچانک گھڑی وہ آئی
جو خوشیوں کا اعلان لائی
ابھی تو تھی جاں لبوں کو آئی
اور اب لبوں میں ہے جان آئی
پہلے تو یہ امید باندھی
کہ مشکل وقت اب ٹل رہا ہے
یہ کس کو معلوم تھا کہ تو تو
سرابوں کی جانب ہی چل رہا ہے
تشنگی کے پھر چھائے بادل
نظر نہ آتی تھی کوئی چھاگل
شدت پیاس نے تو آخر
کر دیا تھا تمہیں بھی پاگل
سفر کے پیمانے گھٹ رہے تھے
نہ فاصلے ہی سمٹ رہے تھے
نہ منزلوں کا پتہ تھا کوئی
نہ غم کے بادل ہی چھٹ رہے تھے
جبر کی حد ہی تو ہو گئی تھی
صبر کا پیمانہ بھر گیا تھا
تو خواب تھا یاکہ تھا حقیقت
مجھے تو حیران کر گیا تھا امن وسیم
مجھے جس کی تمنا ہے مجھے جس کی تمنا ہے وہ راہوں پر نہیں ملتا
ہے ڈھونڈھا جس کو برسوں سے مجھے وہ در نہیں ملتا
یہ دنیا تو ہے چھوٹی سی یہاں ملتے ہیں بچھڑے بھی
مجھے لاکھوں ملے ہیں پر میرا دلبر نہیں ملتا
بڑی مشکل سے پہنچا ہوں میں تیرے شہر میں سنگدل
میں ہر کوچے سے گزرا ہوں پہ تیرا گھر نہیں ملتا
میں سنتا ہوں کہ غیروں سے گلے لگ لگ کے ملتا ہے
بڑابے درد قاتل ہے ہمیں آ کر نہیں ملتا
تم سمجھو یا نہیں سمجھو مگر ہے کھیل قسمت کا
کبھی کھو کر بھی مل جائے کبھی پا کر نہیں ملتا
امن اس دور میں دیکھو محبت ریزہ ریزہ ہے
محبت پہ جو کٹ جائے اب ایسا سر نہیں ملتا امن وسیم
ہے ڈھونڈھا جس کو برسوں سے مجھے وہ در نہیں ملتا
یہ دنیا تو ہے چھوٹی سی یہاں ملتے ہیں بچھڑے بھی
مجھے لاکھوں ملے ہیں پر میرا دلبر نہیں ملتا
بڑی مشکل سے پہنچا ہوں میں تیرے شہر میں سنگدل
میں ہر کوچے سے گزرا ہوں پہ تیرا گھر نہیں ملتا
میں سنتا ہوں کہ غیروں سے گلے لگ لگ کے ملتا ہے
بڑابے درد قاتل ہے ہمیں آ کر نہیں ملتا
تم سمجھو یا نہیں سمجھو مگر ہے کھیل قسمت کا
کبھی کھو کر بھی مل جائے کبھی پا کر نہیں ملتا
امن اس دور میں دیکھو محبت ریزہ ریزہ ہے
محبت پہ جو کٹ جائے اب ایسا سر نہیں ملتا امن وسیم
عاشق ہوں میں تمہارا-گیت عاشق ہوں میں تمہارا کر لو مجھے گوارا
بن ٹھن کے جا رہی ہو کس موج میں او رانی
مجھ پہ بھی آج کر دو تھوڑی سی مہربانی
نظر کرم ہی کر دو دیکھو ادھر خدارا
تم خوشبوئے چمن ہو تم رنگ انجمن ہو
تم گوہر نایاب تم ہی بہار بن ہو
تم ہو گلاب و عنبر تم ہو گگن کا تارا
تم حسن میں محبت اک تم ہو میری چاہت
تم میرے دل کا چینا تم آنکھوں کی ہو راحت
میں ہوں اگر سمندر تم ہو میرا کنارا
پوچھو نہ حال میرا تنہائیوں نے گھیرا
غم کا لگا ہے میلا دکھ درد کا ہے ڈیرا
میرا جگر چھلنی چھلنی میرا دل ہے پارا پارا
جب باغ میں تم آئے بادل امڈ کے چھائے
گانے لگی ہوا بھی اور پھول مسکرائے
میں نے بھی آج دیکھا کیا خوب تھا نظارہ امن وسیم
بن ٹھن کے جا رہی ہو کس موج میں او رانی
مجھ پہ بھی آج کر دو تھوڑی سی مہربانی
نظر کرم ہی کر دو دیکھو ادھر خدارا
تم خوشبوئے چمن ہو تم رنگ انجمن ہو
تم گوہر نایاب تم ہی بہار بن ہو
تم ہو گلاب و عنبر تم ہو گگن کا تارا
تم حسن میں محبت اک تم ہو میری چاہت
تم میرے دل کا چینا تم آنکھوں کی ہو راحت
میں ہوں اگر سمندر تم ہو میرا کنارا
پوچھو نہ حال میرا تنہائیوں نے گھیرا
غم کا لگا ہے میلا دکھ درد کا ہے ڈیرا
میرا جگر چھلنی چھلنی میرا دل ہے پارا پارا
جب باغ میں تم آئے بادل امڈ کے چھائے
گانے لگی ہوا بھی اور پھول مسکرائے
میں نے بھی آج دیکھا کیا خوب تھا نظارہ امن وسیم
تو ہک وار ی میکوں تو ہک وار ی میکوں چا دل نال سڈیندا
تاں میں وی ایویں رس کے پرے نہ ویندا
نہ لبھدا میکوں کوئی وی نکلن دا رستہ
جے دل آپنے دی توں جیل اچ رکھیندا
جے سک ہائی ملن دی ذرا تیرے دل وچ
یا میکوں سڈیندا یاتو آپ آ ویندا
جے انصاف کرن دی جچ تیکوں ہوندی
تاں میڈی وی سنڑدا تے اپنی سنڑیندا
محبت جو سچی ہوندی تیرے دل وچ
تاں ول حال دل دا توں میکوں ہی ڈیندا
نادان غیراں دے آکھے تو لگ کے
نہ ایویں میرے سر وچ مٹیاں سٹیندا
کریندا نہ تو بے وفائی جو دلبر
امن میں نہ رو رو کے اکھیں سجیندا امن وسیم
تاں میں وی ایویں رس کے پرے نہ ویندا
نہ لبھدا میکوں کوئی وی نکلن دا رستہ
جے دل آپنے دی توں جیل اچ رکھیندا
جے سک ہائی ملن دی ذرا تیرے دل وچ
یا میکوں سڈیندا یاتو آپ آ ویندا
جے انصاف کرن دی جچ تیکوں ہوندی
تاں میڈی وی سنڑدا تے اپنی سنڑیندا
محبت جو سچی ہوندی تیرے دل وچ
تاں ول حال دل دا توں میکوں ہی ڈیندا
نادان غیراں دے آکھے تو لگ کے
نہ ایویں میرے سر وچ مٹیاں سٹیندا
کریندا نہ تو بے وفائی جو دلبر
امن میں نہ رو رو کے اکھیں سجیندا امن وسیم
تم نے کب مجھ سے ملنا گوارا کیا تم نے کب مجھ سے ملنا گوارا کیا
میں نے جب کبھی تم کو اشارہ کیا
پہلی بار ہی ہنس کر مخاطب کیا
تم نے کب یہ کرم پھر دوبارہ کیا
تیری مدح سرائی میں زلفوں کو شب
اور آنکھوں کو تیری ستارہ کیا
خود ہی چھوڑا ہمیں اس رہ عشق پر
نام بدنام بھی پھر ہمارا کیا
مجھ کو تیری وفا نے نکما کیا
بے وفائی نے مجھ کو آوارہ کیا
تیرے کہنے پہ ہی تو اے قاتل میرے
اس دنیا سے میں نے کنارہ کیا
نیند بھی ساتھ چھوڑنے لگی جب میرا
تیری یادوں کو ہی پھر سہارا کیا
روبرو میرے چشم تصور میں تم
چلو دل نے تو تیرا نظارہ کیا
امن ہمدم کو ئی جب مجھے نہ ملا
اپنےآپ میں ہی پھر گزارا کیا امن وسیم
میں نے جب کبھی تم کو اشارہ کیا
پہلی بار ہی ہنس کر مخاطب کیا
تم نے کب یہ کرم پھر دوبارہ کیا
تیری مدح سرائی میں زلفوں کو شب
اور آنکھوں کو تیری ستارہ کیا
خود ہی چھوڑا ہمیں اس رہ عشق پر
نام بدنام بھی پھر ہمارا کیا
مجھ کو تیری وفا نے نکما کیا
بے وفائی نے مجھ کو آوارہ کیا
تیرے کہنے پہ ہی تو اے قاتل میرے
اس دنیا سے میں نے کنارہ کیا
نیند بھی ساتھ چھوڑنے لگی جب میرا
تیری یادوں کو ہی پھر سہارا کیا
روبرو میرے چشم تصور میں تم
چلو دل نے تو تیرا نظارہ کیا
امن ہمدم کو ئی جب مجھے نہ ملا
اپنےآپ میں ہی پھر گزارا کیا امن وسیم
عمران(مرحوم)کے نام (جگری یار کی پہلی برسی پر)
جو میرے وہم و گماں میں رہتا ہے
جانے وہ کس جہاں میں رہتا ہے
جنت الفردوس اس کی منزل ہو
دل اس دعا کی گرداں میں رہتا ہے
اس کو گزرے بھی کئی دن گزرے
پھر بھی دور رواں میں رہتا ہے
زندہ اب بھی وہ مجھ کو لگتا ہے
ذکر جو دوستاں میں رہتا ہے
خلوص اس کے نے کئی دل جیتے
وہ ہر دل مہرباں میں رہتا ہے
دن میں تو دل کو بہلا ہی لیتا ہوں
شب میں تو غم کنعاں میں رہتاہے
باہر جانے کا جس میں رستہ نہیں
دل کے خانہ نہاں میں رہتا ہے
میری باتوں میں اس کی باتیں ہیں
وہ میرے جسم و جاں میں رہتا ہے امن وسیم
جو میرے وہم و گماں میں رہتا ہے
جانے وہ کس جہاں میں رہتا ہے
جنت الفردوس اس کی منزل ہو
دل اس دعا کی گرداں میں رہتا ہے
اس کو گزرے بھی کئی دن گزرے
پھر بھی دور رواں میں رہتا ہے
زندہ اب بھی وہ مجھ کو لگتا ہے
ذکر جو دوستاں میں رہتا ہے
خلوص اس کے نے کئی دل جیتے
وہ ہر دل مہرباں میں رہتا ہے
دن میں تو دل کو بہلا ہی لیتا ہوں
شب میں تو غم کنعاں میں رہتاہے
باہر جانے کا جس میں رستہ نہیں
دل کے خانہ نہاں میں رہتا ہے
میری باتوں میں اس کی باتیں ہیں
وہ میرے جسم و جاں میں رہتا ہے امن وسیم
ہو میسر زمیں یا کہ زیر زمیں ہو میسر زمیں یا کہ زیر زمیں
میں بنوں گا بس تیرے شہر کا مکیں
پھول سے بھی تو نازک ہے اے نازلیں
ہاتھ ہیں مرمریں اور بدن ہے زریں
چاند کہہ نہ سکوں چاند میں داغ ہے
میں نے دیکھی نہیں تم میں کوئی کمی
خوبیاں تجھ میں دیکھی ہیں میں نے بہت
میں کیسے کہوں تم کو صرف اک حسیں
میری یادوں کا محور تمہی ہو صنم
میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری مہ جبیں
زندگی سے بھی زیادہ چاہوں گا تمہیں
نہ تو انکار کر بن میری ہم نشیں
تیرے اک اشارے پہ جاں وار دے
کہیں امن کے سوا کوئی ہو گا نہیں امن وسیم
میں بنوں گا بس تیرے شہر کا مکیں
پھول سے بھی تو نازک ہے اے نازلیں
ہاتھ ہیں مرمریں اور بدن ہے زریں
چاند کہہ نہ سکوں چاند میں داغ ہے
میں نے دیکھی نہیں تم میں کوئی کمی
خوبیاں تجھ میں دیکھی ہیں میں نے بہت
میں کیسے کہوں تم کو صرف اک حسیں
میری یادوں کا محور تمہی ہو صنم
میری آنکھوں کی ٹھنڈک میری مہ جبیں
زندگی سے بھی زیادہ چاہوں گا تمہیں
نہ تو انکار کر بن میری ہم نشیں
تیرے اک اشارے پہ جاں وار دے
کہیں امن کے سوا کوئی ہو گا نہیں امن وسیم
ہے زندگی سانپ اور سیڑھی ہے زندگی سانپ اور سیڑھی سی
دو گام چلے پھر رک جائے
کبھی چلتے چلتے دوڑ پڑے
جب خوشی کی سیڑھی سامنے ہو
یہ آگے بڑھے اور سیڑھی چڑھے
کوئی غم کا سانپ اسے ڈس جائے
تو چار قدم نیچے آئے
کبھی اترتی اور کبھی چڑھتی سی
ہے زندگی سانپ اور سیڑھی سی
کبھی یوں الجھن میں پھنستی ہے
نہ روشن ہو اک نقطہ بھی
بس ہر سو گھنا اندھیرا ہو
تب کوئی دیپ جلاتی ہے
دل میں امید جگاتی ہے
پھر آگے بڑھنے کی خواہش
ہمیں سو کے قریب لے آتی ہے
اب منزل اپنے سامنے ہے
پر موت بھی اپنا منہ کھولے
ہے ڈسنے کو تیار یہاں
معلوم نہیں کیا ہو گا کب
یہ کھیل اسی کے ہاتھ میں ہے
بازی گر ہے جو قسمت کا
وہی جانتا ہے کیا ہو گا اب
نہیں زندگی کسی کی مرضی کی
ہے زندگی سانپ اور سیڑھی سی امن وسیم
دو گام چلے پھر رک جائے
کبھی چلتے چلتے دوڑ پڑے
جب خوشی کی سیڑھی سامنے ہو
یہ آگے بڑھے اور سیڑھی چڑھے
کوئی غم کا سانپ اسے ڈس جائے
تو چار قدم نیچے آئے
کبھی اترتی اور کبھی چڑھتی سی
ہے زندگی سانپ اور سیڑھی سی
کبھی یوں الجھن میں پھنستی ہے
نہ روشن ہو اک نقطہ بھی
بس ہر سو گھنا اندھیرا ہو
تب کوئی دیپ جلاتی ہے
دل میں امید جگاتی ہے
پھر آگے بڑھنے کی خواہش
ہمیں سو کے قریب لے آتی ہے
اب منزل اپنے سامنے ہے
پر موت بھی اپنا منہ کھولے
ہے ڈسنے کو تیار یہاں
معلوم نہیں کیا ہو گا کب
یہ کھیل اسی کے ہاتھ میں ہے
بازی گر ہے جو قسمت کا
وہی جانتا ہے کیا ہو گا اب
نہیں زندگی کسی کی مرضی کی
ہے زندگی سانپ اور سیڑھی سی امن وسیم
میرادل بس خدا سے دعا یہ کرے میرادل بس خدا سے دعا یہ کرے
کوئی تم کو کبھی رسوا نہ کرے
نہ بھٹکے تیرے پاس کوئی بھی غم
کوئی خوشیاں بھی تجھ سے جدا نہ کرے
چاند تارے تیرے رہگزر جب بنیں
پھول کلیاں تیرے سر پہ چادر تنیں
حسن تیرے پہ آئے کبھی نہ زوال
تو سارے جہاں میں رہے بے مثال
تیری خوشیوں کا سورج کبھی نہ ڈھلے
شوخ و چنچل رہے تو یونہی عمر بھر
سدا بہار گلستاں میں ہو تیرا گھر
تیری معصومیت ہو یا چالاکیاں
تیرا شرمیلا پن ہو یا بے باکیاں
تیرے ہر روپ میں اک الگ پن ملے
تیرا شیریں دہن اور سنہرا بدن
تو رہے تا قیامت بس رنگ چمن
رات کو جب بھی خوابوں کی جانب چلے
چاند سنگ سنگ محافظ کی مانند چلے
غم کا سایا بھی تجھ پہ کبھی نہ پڑے
تیری باتوں کی ہو ہر طرف باز گشت
گلستاں ہو کوئی چاہے ہو کوئی دشت
نور چہرے پہ تیرے سلامت رہے
تیری شوخی ہی تیری علامت رہے
تجھے کچھ ہو کبھی یہ خدا نہ کرے
کوئی تجھ کو ہر پل چاھنے والا ملے
نہ ہی شکوے کرے نہ کرے وہ گلے
پھول بن کر تو اس کے صحن میں کھلے
وہ نچھاور کرے پیار کے سلسلے
تمہیں کسی موڑ پر بھی خفا نہ کرے
میرا دل بس خدا سے دعا یہ کرے امن وسیم
کوئی تم کو کبھی رسوا نہ کرے
نہ بھٹکے تیرے پاس کوئی بھی غم
کوئی خوشیاں بھی تجھ سے جدا نہ کرے
چاند تارے تیرے رہگزر جب بنیں
پھول کلیاں تیرے سر پہ چادر تنیں
حسن تیرے پہ آئے کبھی نہ زوال
تو سارے جہاں میں رہے بے مثال
تیری خوشیوں کا سورج کبھی نہ ڈھلے
شوخ و چنچل رہے تو یونہی عمر بھر
سدا بہار گلستاں میں ہو تیرا گھر
تیری معصومیت ہو یا چالاکیاں
تیرا شرمیلا پن ہو یا بے باکیاں
تیرے ہر روپ میں اک الگ پن ملے
تیرا شیریں دہن اور سنہرا بدن
تو رہے تا قیامت بس رنگ چمن
رات کو جب بھی خوابوں کی جانب چلے
چاند سنگ سنگ محافظ کی مانند چلے
غم کا سایا بھی تجھ پہ کبھی نہ پڑے
تیری باتوں کی ہو ہر طرف باز گشت
گلستاں ہو کوئی چاہے ہو کوئی دشت
نور چہرے پہ تیرے سلامت رہے
تیری شوخی ہی تیری علامت رہے
تجھے کچھ ہو کبھی یہ خدا نہ کرے
کوئی تجھ کو ہر پل چاھنے والا ملے
نہ ہی شکوے کرے نہ کرے وہ گلے
پھول بن کر تو اس کے صحن میں کھلے
وہ نچھاور کرے پیار کے سلسلے
تمہیں کسی موڑ پر بھی خفا نہ کرے
میرا دل بس خدا سے دعا یہ کرے امن وسیم
سنو میرے غم کی کہانی سنو سنو میرے غم کی کہانی سنو
جو بیتی وہ میری زبانی سنو
آدھی رات سر میں اٹھی کھلبلی
جو دیکھا تو فوج جوؤں کی چلی
جوئیں خون کی میری پیاسی پھریں
اورحیران و ہلکان مجھ کو کریں
لہو میرا پی پی کے موٹی ہوئیں
یونہی خواہ مخواہ میرے سر ہو گئیں
سمجھ میں نہ آتا تھا میں کیا کروں
اکیلا تھا میں اور وہ تھیں سینکڑوں
دونوں ہاتھوں سے سر کھجاتا رہا
اور ساتھ میں عقل بھی لڑاتا رہا
دنگل ہوا جوؤں سے ساری رات
جوؤں کا چلا منہ چلا میرا ہاتھ
پھر ناخن پہ رکھ رکھ کے مارا انہیں
یوں جیتا تھا میں اور ہاریں جوئیں
(بابائے مزاح جعفر زٹلی سے متاثر ہو کر) امن وسیم
جو بیتی وہ میری زبانی سنو
آدھی رات سر میں اٹھی کھلبلی
جو دیکھا تو فوج جوؤں کی چلی
جوئیں خون کی میری پیاسی پھریں
اورحیران و ہلکان مجھ کو کریں
لہو میرا پی پی کے موٹی ہوئیں
یونہی خواہ مخواہ میرے سر ہو گئیں
سمجھ میں نہ آتا تھا میں کیا کروں
اکیلا تھا میں اور وہ تھیں سینکڑوں
دونوں ہاتھوں سے سر کھجاتا رہا
اور ساتھ میں عقل بھی لڑاتا رہا
دنگل ہوا جوؤں سے ساری رات
جوؤں کا چلا منہ چلا میرا ہاتھ
پھر ناخن پہ رکھ رکھ کے مارا انہیں
یوں جیتا تھا میں اور ہاریں جوئیں
(بابائے مزاح جعفر زٹلی سے متاثر ہو کر) امن وسیم
کون پھر تیرا غم بٹائے گا کون پھر تیرا غم بٹائے گا
کون تجھ کو گلے لگائے گا
میرا ہر زخم یاد آئے گا
ایسی اک چوٹ تو بھی کھائے گا
جس طرح میرا دل دکھایا ہے
کوئی تیرا بھی دل دکھائے گا
میرے دل کاسکوں جو چھینا ہے
تو کہیں بھی سکوں نہ پائے گا
مجھ کو صحرامیں چھوڑنے والے
تو تو گلشن میں جھلس جائے گا
دل دکھانا نہیں کسی کا کبھی
کو بہ کو مجنوں بن کے گائے گا
جب تجھے وہ بھی چھوڑ جائے گی
تو اسے یہ غزل سنائے گا امن وسیم
کون تجھ کو گلے لگائے گا
میرا ہر زخم یاد آئے گا
ایسی اک چوٹ تو بھی کھائے گا
جس طرح میرا دل دکھایا ہے
کوئی تیرا بھی دل دکھائے گا
میرے دل کاسکوں جو چھینا ہے
تو کہیں بھی سکوں نہ پائے گا
مجھ کو صحرامیں چھوڑنے والے
تو تو گلشن میں جھلس جائے گا
دل دکھانا نہیں کسی کا کبھی
کو بہ کو مجنوں بن کے گائے گا
جب تجھے وہ بھی چھوڑ جائے گی
تو اسے یہ غزل سنائے گا امن وسیم
کہہ دو کہ یہ سب جھوٹ ہے کہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے
بھلا یہ کس طرح ممکن
کہ جس سے پیار کرتے ہوں
اسی کو چھوڑ کر جائیں
کہ جس کے بن نہ جیتے ہوں
کوئی لمحہ کوئی بھی پل
اسی سے پھر ہمیشہ کیلیے
منہ موڑ کر جائیں
وہی تو ہے کہ جس نے پیار کا احساس
میرے دل میں جگایا تھا
مجھے جینا سکھایا تھا
اور میرےدل کے کھنڈر کو
اسی نے گھر بنایا تھا
اس نے تو ساتھ رہنے کی
اکٹھے جینے مرنے کی
بہت سی قسمیں کھائی تھیں
وہ کیسے بھول سکتا ہے
ان قسموں کو اور وعدوں کو
بھلا کیسے جلائے گا
وہ اپنے آشیانے کو
میں کیسے مان لوں اس کو
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
وہ مجھ کو چھوڑ کر تنہا
اس دنیا سے کبھی بھی جا نہیں سکتا
کہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے امن وسیم
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے
بھلا یہ کس طرح ممکن
کہ جس سے پیار کرتے ہوں
اسی کو چھوڑ کر جائیں
کہ جس کے بن نہ جیتے ہوں
کوئی لمحہ کوئی بھی پل
اسی سے پھر ہمیشہ کیلیے
منہ موڑ کر جائیں
وہی تو ہے کہ جس نے پیار کا احساس
میرے دل میں جگایا تھا
مجھے جینا سکھایا تھا
اور میرےدل کے کھنڈر کو
اسی نے گھر بنایا تھا
اس نے تو ساتھ رہنے کی
اکٹھے جینے مرنے کی
بہت سی قسمیں کھائی تھیں
وہ کیسے بھول سکتا ہے
ان قسموں کو اور وعدوں کو
بھلا کیسے جلائے گا
وہ اپنے آشیانے کو
میں کیسے مان لوں اس کو
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
وہ مجھ کو چھوڑ کر تنہا
اس دنیا سے کبھی بھی جا نہیں سکتا
کہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے امن وسیم
خوشی خوشی جب خوشی خوشی جب میرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
بہت سےلوگ ہیں جو دیکھ دیکھ جلتے ہیں
تپش ہے حسن میں ان کی شمار سے آگے
کہ ان کو دیکھ کر پتھر سے دل پگھلتے ہیں
سجے ہیں مانگ میں ان کی ستارے ایسے کہ
فلک کےتارے انہیں دیکھ کر ہی ڈھلتے ہیں
قریب آتے ہیں کچھ اس ادا سے وہ ظالم
کہ دل کے سوئے ہوئے ارماں سبھی مچلتے ہیں
ہمارے پیار نے بھر دی ہے ان میں شیرینی
وہ جب بھی بولیں تو منہ سے شہد اگلتے ہیں
ہوئی ہے جب سے ہماری منگنی ان کے ساتھ امن
ہمارے پیارے رقیب بیٹھے ہاتھ ملتے ہیں امن وسیم
بہت سےلوگ ہیں جو دیکھ دیکھ جلتے ہیں
تپش ہے حسن میں ان کی شمار سے آگے
کہ ان کو دیکھ کر پتھر سے دل پگھلتے ہیں
سجے ہیں مانگ میں ان کی ستارے ایسے کہ
فلک کےتارے انہیں دیکھ کر ہی ڈھلتے ہیں
قریب آتے ہیں کچھ اس ادا سے وہ ظالم
کہ دل کے سوئے ہوئے ارماں سبھی مچلتے ہیں
ہمارے پیار نے بھر دی ہے ان میں شیرینی
وہ جب بھی بولیں تو منہ سے شہد اگلتے ہیں
ہوئی ہے جب سے ہماری منگنی ان کے ساتھ امن
ہمارے پیارے رقیب بیٹھے ہاتھ ملتے ہیں امن وسیم
راتیں ہیں چاندنی راتیں ہیں چاندنی جوبن پہ ہے بہار
بارش کی ہے رم جھم چمن پہ ہے نکھار
گلشن کا ہر گلاب لگے ایسا دلنشیں
دلہن کوئی جیسے کیے بیٹھی ہو سنگھار
تارے بھی مسکرانے لگے ان کو دیکھ کر
اس دلکشی پہ چاند کو آنے لگا ہے پیار
گلے ملتے ہیں سب پھول جب چلتی ہے ہوا
اک میں ہوں کہ تیرے ملنے کو بے قرار
کلیاں نہا کے اوس کے قطروں میں کھل اٹھیں
اور میں کہ تیری یاد میں بیٹھا ہوں سوگوار
شجر بھی سنگ ہوا کے ہیں محو گفتگو
پر میں خموش ہوں مجھے تیرا انتظار
بن تیرے یہ سماں خزاں ہی لگے امن
آئے گی تب بہار کراؤ گے جب دیدار امن وسیم
بارش کی ہے رم جھم چمن پہ ہے نکھار
گلشن کا ہر گلاب لگے ایسا دلنشیں
دلہن کوئی جیسے کیے بیٹھی ہو سنگھار
تارے بھی مسکرانے لگے ان کو دیکھ کر
اس دلکشی پہ چاند کو آنے لگا ہے پیار
گلے ملتے ہیں سب پھول جب چلتی ہے ہوا
اک میں ہوں کہ تیرے ملنے کو بے قرار
کلیاں نہا کے اوس کے قطروں میں کھل اٹھیں
اور میں کہ تیری یاد میں بیٹھا ہوں سوگوار
شجر بھی سنگ ہوا کے ہیں محو گفتگو
پر میں خموش ہوں مجھے تیرا انتظار
بن تیرے یہ سماں خزاں ہی لگے امن
آئے گی تب بہار کراؤ گے جب دیدار امن وسیم
لتاں توڑ ڈیساں-سرائیکی میں تیریاں لتاں توڑ ڈیساں جے میکوں پیار کریسیں نہ
میں تیریاںاکھاں پھوڑڈیساں جے اکھاں چار کریسیں نہ
بھاویں ٹر پوسیں تو میرے نال پر ہامی وی تو بھرنی اے
تیکوں راہواں وچ میں رول ڈیساںجے تو اقرار کریسیں نہ
نہ چھلا بنڑامیکوں پایا ھئی نہ ونگ بنڑا چھنڑکایا ھئی
میں تیری گچی مروڑ ڈیساں جے گل دا ہار کریسیں نہ
اے ملاح پار پہنچا میکوں دیدار میں یار دا کرنا ہے
میں تیری کشتی بوڑ ڈیساں جے میکوں پار کریسیں نہ
میں راہواں کوں وی سجایا ہے آ ڈیکھ تو میرے گھر آ کے
تیکوں سر اکھیں تے چا گھنساں جے توں انکار کریسیں نہ امن وسیم
میں تیریاںاکھاں پھوڑڈیساں جے اکھاں چار کریسیں نہ
بھاویں ٹر پوسیں تو میرے نال پر ہامی وی تو بھرنی اے
تیکوں راہواں وچ میں رول ڈیساںجے تو اقرار کریسیں نہ
نہ چھلا بنڑامیکوں پایا ھئی نہ ونگ بنڑا چھنڑکایا ھئی
میں تیری گچی مروڑ ڈیساں جے گل دا ہار کریسیں نہ
اے ملاح پار پہنچا میکوں دیدار میں یار دا کرنا ہے
میں تیری کشتی بوڑ ڈیساں جے میکوں پار کریسیں نہ
میں راہواں کوں وی سجایا ہے آ ڈیکھ تو میرے گھر آ کے
تیکوں سر اکھیں تے چا گھنساں جے توں انکار کریسیں نہ امن وسیم
نظر سے نظر تم ملا کر تو دیکھو نظر سے نظر تم ملا کر تو دیکھو
ذرا تم نظر کو اٹھا کر تو دیکھو
نظر میری تم پہ ہے کب سے او پیارے
او جان نظر مسکرا کر تو دیکھو
نظریں بچھاؤں گا راہوں میں تیری
مجھے بھی نظر میں بٹھا کر تو دیکھو
نظر ہی نظر میں سمجھ جاؤں گا سب
نظر کی نظر کو سنا کر تو دیکھو
نظر میں اترنا ہے کتنا ہی آساں
نظر تا جگر راہ بنا کر تو دیکھو
نظر میں ہی رکھوں گا تیری نظر کو
نظر کو ذرا تم چھپا کر تو دیکھو
نظر کی نظر کو نظر نہ لگے گی
نظر کی نظر تم لگا کر تو دیکھو
فقط میں گراؤں گا نظروں سے تم کو
نظر پھیر کر دور جا کر تو دیکھو امن وسیم
ذرا تم نظر کو اٹھا کر تو دیکھو
نظر میری تم پہ ہے کب سے او پیارے
او جان نظر مسکرا کر تو دیکھو
نظریں بچھاؤں گا راہوں میں تیری
مجھے بھی نظر میں بٹھا کر تو دیکھو
نظر ہی نظر میں سمجھ جاؤں گا سب
نظر کی نظر کو سنا کر تو دیکھو
نظر میں اترنا ہے کتنا ہی آساں
نظر تا جگر راہ بنا کر تو دیکھو
نظر میں ہی رکھوں گا تیری نظر کو
نظر کو ذرا تم چھپا کر تو دیکھو
نظر کی نظر کو نظر نہ لگے گی
نظر کی نظر تم لگا کر تو دیکھو
فقط میں گراؤں گا نظروں سے تم کو
نظر پھیر کر دور جا کر تو دیکھو امن وسیم