Poetries by Mohammed masood
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
Mohammed Masood
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
Mohammed Masood
زخم پر زخم سہنے کے بعد دل کی بستی اُجڑ گئی سہہ جانے کے بعد
ہم نے چپ کا ہنر سیکھا، کہہ جانے کے بعد
شام ڈھلتے ہی چراغوں نے سوال کر لیا
کیوں اندھیرا بڑھ گیا ہے، رہ جانے کے بعد
ہم نے دریا سے یہ پوچھا تیری وسعت کا سبب
ہنس کے بولا، میں بڑھا ہوں بہہ جانے کے بعد
اب تو آئینے بھی ڈرتے ہیں مجھے دیکھ کر
کون پہچانے گا مجھ کو، ڈھہ جانے کے بعد
لوگ کہتے ہیں مسافر کو ٹھکانہ مل گیا
کیا خبر تھی، گھر بھی ملتے ہیں بہک جانے کے بعد
تیرا وعدہ تھا کہ پلٹیں گے اداسی کے دن
ہم نے جینا سیکھ لیا ہے، نہ آنے کے بعد
وقت کے ہاتھوں میں رکھ کر اپنی تقدیر، مسعودؔ
ہم بھی پتھر ہو گئے ہیں، پگھل جانے کے بعد Mohammed Masood
ہم نے چپ کا ہنر سیکھا، کہہ جانے کے بعد
شام ڈھلتے ہی چراغوں نے سوال کر لیا
کیوں اندھیرا بڑھ گیا ہے، رہ جانے کے بعد
ہم نے دریا سے یہ پوچھا تیری وسعت کا سبب
ہنس کے بولا، میں بڑھا ہوں بہہ جانے کے بعد
اب تو آئینے بھی ڈرتے ہیں مجھے دیکھ کر
کون پہچانے گا مجھ کو، ڈھہ جانے کے بعد
لوگ کہتے ہیں مسافر کو ٹھکانہ مل گیا
کیا خبر تھی، گھر بھی ملتے ہیں بہک جانے کے بعد
تیرا وعدہ تھا کہ پلٹیں گے اداسی کے دن
ہم نے جینا سیکھ لیا ہے، نہ آنے کے بعد
وقت کے ہاتھوں میں رکھ کر اپنی تقدیر، مسعودؔ
ہم بھی پتھر ہو گئے ہیں، پگھل جانے کے بعد Mohammed Masood
تنہائی کا جال نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی
ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی
جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی
مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی
ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی
کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی
رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی
کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی
مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی Mohammed Masood
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی
ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی
جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی
مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی
ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی
کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی
رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی
کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی
مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی Mohammed Masood
لہو لہو میرا کشمیر خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی Mohammed Masood
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی Mohammed Masood
مٹی کی خوشبو تمہاری یاد کے جگنو جو دل میں جھلملاتے ہیں
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں
بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں
وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں
دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں
وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں
چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں
سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں
Mohammed Masood
اندھیری رات میں رستے ستارے بن کے آتے ہیں
بہت پُرشور دنیا میں سکوں کی جستجو لے کر
ہم اکثر اپنے ہی اندر کہیں ٹھہر سے جاتے ہیں
وہ ہجر و وصل کے لمحے، وہ قصے بیتے برسوں کے
کسی پرانی بیاض کے گوشوں سے اب لرزتے ہیں
دیارِ غیر میں بھی ہم کو وہ مٹی پکارتی ہے
جہاں ہم نے پرندوں کی طرح دن گنوائے ہیں
وفا کی راہ میں جن کو کٹھن منزل ملی، وہ ہی
زمانے بھر کی آنکھوں میں حقیقت جگمگاتے ہیں
چلو اب بوجھ یادوں کا کہیں ساحل پہ رکھ دیں ہم
مسافر تھک بھی جائیں تو سفر کب چھوڑ پاتے ہیں
سخن کے اس گلستاں میں قلم کی آبرو رکھنا
مسعود اب حرفِ سادہ بھی دلوں میں گھر بناتے ہیں
Mohammed Masood
کمالِ محبت تیری قربت میں ہی سانسوں کو قرار آتا ہے
میرے دل کو ہر لمحہ تیرے ہونے کا خیال آتا ہے
تیری خوشبو سے مہک جاتا ہے ہر خواب میرا
رات کے بعد بھی ایک سہنا خواب سا حال آتا ہے
میں نے چھوا جو تیرے ہاتھ کو دھیرے سے کبھی
ساری دنیا سے الگ تلگ جدا سا ایک کمال آتا ہے
تو جو دیکھے تو ٹھہر جائے زمانہ جیسے
تیری آنکھوں میں عجب سا یہ جلال آتا ہے
میرے ہونٹوں پہ فقط نام تمہارا ہی رہے
دل کے آنگن میں یہی ایک سوال آتا ہے
کہہ رہا ہے یہ محبت سے دھڑکتا ہوا دل
تجھ سے جینا ہی مسعود کو کمال آتا ہے Mohammed Masood
میرے دل کو ہر لمحہ تیرے ہونے کا خیال آتا ہے
تیری خوشبو سے مہک جاتا ہے ہر خواب میرا
رات کے بعد بھی ایک سہنا خواب سا حال آتا ہے
میں نے چھوا جو تیرے ہاتھ کو دھیرے سے کبھی
ساری دنیا سے الگ تلگ جدا سا ایک کمال آتا ہے
تو جو دیکھے تو ٹھہر جائے زمانہ جیسے
تیری آنکھوں میں عجب سا یہ جلال آتا ہے
میرے ہونٹوں پہ فقط نام تمہارا ہی رہے
دل کے آنگن میں یہی ایک سوال آتا ہے
کہہ رہا ہے یہ محبت سے دھڑکتا ہوا دل
تجھ سے جینا ہی مسعود کو کمال آتا ہے Mohammed Masood
تیرا جمال رہا خزاں کا موسم گیا، بس تیرا جمال رہا
میرے خیال میں اب تک وہی جمال رہا
میں جانتا ہوں کہ دنیا قریب ہے میرے
مگر نظر میں ہمیشہ تیرا جمال رہا
یہ دل بھی کیا ہے، اسے ایک بار دیکھ لیا
تو پھر تمام ہی لمحے تیرا جمال رہا
سفر طویل تھا، منزل کو پا لیا ہے مگر
میں خود بدل گیا اور یہ جمال رہا
تجھے پکار کے دیکھے گا جب مسعود تو
یہ یہی کہے گا، زمانے پہ تیرا جمال رہا
Mohammed Masood
میرے خیال میں اب تک وہی جمال رہا
میں جانتا ہوں کہ دنیا قریب ہے میرے
مگر نظر میں ہمیشہ تیرا جمال رہا
یہ دل بھی کیا ہے، اسے ایک بار دیکھ لیا
تو پھر تمام ہی لمحے تیرا جمال رہا
سفر طویل تھا، منزل کو پا لیا ہے مگر
میں خود بدل گیا اور یہ جمال رہا
تجھے پکار کے دیکھے گا جب مسعود تو
یہ یہی کہے گا، زمانے پہ تیرا جمال رہا
Mohammed Masood
تاروں کی گونج اندھیروں میں لپٹا ہوا، اک خاموش آسمان،
جہاں تنہا چاند بھی رکھتا ہے اپنی آن۔
کروڑوں سال کی باتیں، ستاروں کی زبان میں،
کوئی سُنتا نہیں لیکن، ہے ہر سو یہ بیان۔
ہماری زندگی بھی اک پل کا ہے لمحہ،
اُسی بے کراں وسعت میں، اک ٹوٹا ہوا قطرہ۔
مگر اس قطرے میں بھی، سمندر کا ہے احساس،
کہ روحِ کائنات کا ہے ہم سے گہرا رشتہ۔
فلک سے دیکھتے ہیں جب، نیچے کی اس دنیا کو،
تو ہر بستی، ہر منزل، ہے اک بھولی ہوئی پہیلی۔
مسافر راہ میں گم ہیں، کہاں جانا، نہیں معلوم،
مگر اس جستجو میں ہی، ہر سانس ہوئی اکیلی۔
جو لمحہ آج ہے حاصل، یہی ہے اصل حقیقت،
نہ ماضی کی قید کوئی، نہ کل کی کوئی وحشت۔
خدا کے نور کی پرچھائیں، ہمارے دل میں رہتی ہے،
یہی پیغامِ فطرت ہے، یہی ہے اصل کی نُصرت۔ Mohammed Masood
جہاں تنہا چاند بھی رکھتا ہے اپنی آن۔
کروڑوں سال کی باتیں، ستاروں کی زبان میں،
کوئی سُنتا نہیں لیکن، ہے ہر سو یہ بیان۔
ہماری زندگی بھی اک پل کا ہے لمحہ،
اُسی بے کراں وسعت میں، اک ٹوٹا ہوا قطرہ۔
مگر اس قطرے میں بھی، سمندر کا ہے احساس،
کہ روحِ کائنات کا ہے ہم سے گہرا رشتہ۔
فلک سے دیکھتے ہیں جب، نیچے کی اس دنیا کو،
تو ہر بستی، ہر منزل، ہے اک بھولی ہوئی پہیلی۔
مسافر راہ میں گم ہیں، کہاں جانا، نہیں معلوم،
مگر اس جستجو میں ہی، ہر سانس ہوئی اکیلی۔
جو لمحہ آج ہے حاصل، یہی ہے اصل حقیقت،
نہ ماضی کی قید کوئی، نہ کل کی کوئی وحشت۔
خدا کے نور کی پرچھائیں، ہمارے دل میں رہتی ہے،
یہی پیغامِ فطرت ہے، یہی ہے اصل کی نُصرت۔ Mohammed Masood
کچھ ان کی اداوں کا طلبگار بہت تھا کچھ ان کی اداوں کا طبگار بہت تھا
کچھ اپنے آنسوؤں سے مجھے پیار بہت تھا
سوچا تھا پا لیں گے اسے ایک نہ ایک دن
پہلے سی ہی محبت پہ اعتبار بہت تھا
منزل کیسے نصیب ہو تیرے پیار کی
راستہ جو تیرے گھر کا پراسرار بہت تھا
اس نے کچھ اس انداز میں اظہار کیا تھا
اقرار کم اقرار میں انکار بہت تھا
مسعود کو فقط پیار میں رسوائیاں ملیں
شاہد کہ محبت کا گناہگار بہت تھا Mohammed Masood
کچھ اپنے آنسوؤں سے مجھے پیار بہت تھا
سوچا تھا پا لیں گے اسے ایک نہ ایک دن
پہلے سی ہی محبت پہ اعتبار بہت تھا
منزل کیسے نصیب ہو تیرے پیار کی
راستہ جو تیرے گھر کا پراسرار بہت تھا
اس نے کچھ اس انداز میں اظہار کیا تھا
اقرار کم اقرار میں انکار بہت تھا
مسعود کو فقط پیار میں رسوائیاں ملیں
شاہد کہ محبت کا گناہگار بہت تھا Mohammed Masood
اس کی اہمیت بتانا بھی ضروری ہے یہ بتانا تو ضروری ہے بہت کہ اس کی اہمیت کیا ہے
اگر اس سے محبت ہے تو اظہار بھی تو ضروری ہے
اب کب تک لفظوں سے کام جاری رکھیں گے ہم
آنکھوں کی طرح جھیل میں ڈوب جانا تو ضروری ہے
اپنے جذبات کو کبھی بھی اپنے دل میں نہ دبائیں
اسے دیکھ کر پیار سے مسکرانا بھی تو ضروری ہے
اسے بار ہا کہتے رہنا بھی بہت خوبصورت ہے لیکن
اس سے محبت کے گیت گانا بھی تو ضروری ہے
کسی بھی حالت میں اس کا ہاتھ نہ چھوڑیں کبھی
محبت ہو گئی ہے اسے پورا کرنا بھی تو ضروری ہے
اب محبت میں پریشان ہونا فطری ہے، لیکن مسعود
ناراض ہو جائے تو اسے سمجھانا بھی تو ضروری ہے
محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
اگر اس سے محبت ہے تو اظہار بھی تو ضروری ہے
اب کب تک لفظوں سے کام جاری رکھیں گے ہم
آنکھوں کی طرح جھیل میں ڈوب جانا تو ضروری ہے
اپنے جذبات کو کبھی بھی اپنے دل میں نہ دبائیں
اسے دیکھ کر پیار سے مسکرانا بھی تو ضروری ہے
اسے بار ہا کہتے رہنا بھی بہت خوبصورت ہے لیکن
اس سے محبت کے گیت گانا بھی تو ضروری ہے
کسی بھی حالت میں اس کا ہاتھ نہ چھوڑیں کبھی
محبت ہو گئی ہے اسے پورا کرنا بھی تو ضروری ہے
اب محبت میں پریشان ہونا فطری ہے، لیکن مسعود
ناراض ہو جائے تو اسے سمجھانا بھی تو ضروری ہے
محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
ہوئے ہیں لوگ جو لاچار ہوئے ہیں لوگ جو لاچار جھوٹ بولتے ہیں
میرے ہی آگے میرے یار جھوٹ بولتے ہیں
کسی کو ان پہ ذرا سا بھی اعتبار نہیں
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں
زمانے تیری جفاؤں کا کیا گلہ کہ یہاں
میرے تو اپنے ہی طرفدار بولتے ہیں
نہ جانے کیسا ہے پردیس کو کبھی کا گیا
ادھر سے آتے ہیں جو تار جھوٹ بولتے ہیں
ملے گاچان کو میری ہار سے نہ جانے کیا
یہ کس کے کہنے پہ اغیار جھوٹ بولتے ہیں
جو لوگ سچ کے لیے جان پہ کھیلتے ہیں
وہی لوگ آج سر دار جھوٹ بولتے ہیں محمد مسعود
میرے ہی آگے میرے یار جھوٹ بولتے ہیں
کسی کو ان پہ ذرا سا بھی اعتبار نہیں
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں
زمانے تیری جفاؤں کا کیا گلہ کہ یہاں
میرے تو اپنے ہی طرفدار بولتے ہیں
نہ جانے کیسا ہے پردیس کو کبھی کا گیا
ادھر سے آتے ہیں جو تار جھوٹ بولتے ہیں
ملے گاچان کو میری ہار سے نہ جانے کیا
یہ کس کے کہنے پہ اغیار جھوٹ بولتے ہیں
جو لوگ سچ کے لیے جان پہ کھیلتے ہیں
وہی لوگ آج سر دار جھوٹ بولتے ہیں محمد مسعود
رنج غصہ گلہ تھا میرا تھا رنج، غصہ، گلہ، تھا، میرا تھا
جو بھی اس شخص کا تھا، میرا تھا
بے وفا، بد دماغ، ہر جائی
کیا نہ تھا اور کیا تھا میرا تھا
تجھ کو کیا لینا دینا ہے واعظ
وہ صنم تھا خدا تھا میرا تھا
اس کا تھا جو لٹا دیا اس نے
اس میں جو کچھ بچا تھا میرا تھا
کاش وہ اپنی جان چھڑا لیتا
میرا جو مسلہ تھا میرا تھا
کیوں کرے کوئی طنز مجھ پر
وہ برا تھا بھلا تھا میرا تھا
محمد مسعود
جو بھی اس شخص کا تھا، میرا تھا
بے وفا، بد دماغ، ہر جائی
کیا نہ تھا اور کیا تھا میرا تھا
تجھ کو کیا لینا دینا ہے واعظ
وہ صنم تھا خدا تھا میرا تھا
اس کا تھا جو لٹا دیا اس نے
اس میں جو کچھ بچا تھا میرا تھا
کاش وہ اپنی جان چھڑا لیتا
میرا جو مسلہ تھا میرا تھا
کیوں کرے کوئی طنز مجھ پر
وہ برا تھا بھلا تھا میرا تھا
محمد مسعود
صحرا کی زمینوں کو تپش ہم سے ملی ہے صحرا کی زمینوں کو تپش ہم سے ملی ہے
تسکین مگر ہم کو تیرے غم سے ملی ہے
سلجھیں نہ اگر میرے مسائل تو عجب ہے
تقدیر میری گیسوئے برہم سے ملی ہے
تم شوق شہادت میں نکل آئے گھروں سے
یہ فوج مگر صاحب عالم سے ملی ہے
تجھے ہم کیوں نہ کہیں قوم کا معمار
توقیر مسلماں کو تیرے دم سے ملی ہے
بس ایک ہی شے ہے جو دلا سکتی ہے جنت
یہ توبہ کی عادت ہے جو آدم سے ملی ہے
Mohammed Masood
تسکین مگر ہم کو تیرے غم سے ملی ہے
سلجھیں نہ اگر میرے مسائل تو عجب ہے
تقدیر میری گیسوئے برہم سے ملی ہے
تم شوق شہادت میں نکل آئے گھروں سے
یہ فوج مگر صاحب عالم سے ملی ہے
تجھے ہم کیوں نہ کہیں قوم کا معمار
توقیر مسلماں کو تیرے دم سے ملی ہے
بس ایک ہی شے ہے جو دلا سکتی ہے جنت
یہ توبہ کی عادت ہے جو آدم سے ملی ہے
Mohammed Masood
مدتوں سے یار کی چاہ لیے ہوئے مدتوں سے یار کی چاہ لیے ہوئے
ایک بے وفا سے پیار کی جفا لیے ہوئے
پل بھر تیرا مہمان ہوں اے زندگی تو سن
صدیوں کے بودوباش کی آنا لیے ہوئے
سہہ لیے ہیں سب ستم اس لیے کہ میں
ہوں مریض عشق کی حیا لیے ہوئے
ہر ہاتھ میں ہے سنگ شاہد یہی وجہ
آیا ہوں تیرے شہر میں وفا لیے ہوئے
ہے آس تیرے گھر کی تیرا فقیر ہوں
جاؤں گا کس کے در پہ صدا لیے ہوئے Mohammed Masood
ایک بے وفا سے پیار کی جفا لیے ہوئے
پل بھر تیرا مہمان ہوں اے زندگی تو سن
صدیوں کے بودوباش کی آنا لیے ہوئے
سہہ لیے ہیں سب ستم اس لیے کہ میں
ہوں مریض عشق کی حیا لیے ہوئے
ہر ہاتھ میں ہے سنگ شاہد یہی وجہ
آیا ہوں تیرے شہر میں وفا لیے ہوئے
ہے آس تیرے گھر کی تیرا فقیر ہوں
جاؤں گا کس کے در پہ صدا لیے ہوئے Mohammed Masood
جب کبھی میری یاد آئے جب کبھی میری یاد آئے
تو نیم شب میں اپنی آرام گاہ سے آٹھ کر
دور اپنی نظریں ڈالنا
اگر کوئی چراغ جلتا ہوا دکھائی دے
تو جان لینا وہ میرا دل ہے
تمہاری نظر پڑتے ہی وہ آئے گا
اگر نہ آئے
مگر ایسا ہو ہی نہیں سکتا
کہ تم کسی پر نظر ڈالو
تو وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
جب کبھی میری یاد آئے تو
آواز کرتی ہوئی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں مہکتی ہوئی فضاؤں میں تمہیں ملوں گا
اپنے آنگن کے پھولوں میں مجھے ڈھونڈنا
میں صدف جیسے اوس قطروں میں تمہیں ملوں گا
اگر فضاؤں میں خوشبوؤں میں آسمانوں میں نہ پاو مجھے
تو اپنے قدموں کے نیچے دیکھنا
میں اسی جا خاک میں تمہیں ملوں گا
اگر کہیں پہ جلتا ہوا چراغ دیکھو
تو جانا کہ میں بھی اسی چراغ سے جل کر راکھ ہوا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اس راکھ کو دریا میں ڈال دینا
میں خاک ہو کر سمندروں میں جا ملوں گا
کسی سنسان کنارے پہ ٹھہر کے تمہارا انتظار کروں گا
اگر تم کبھی سفر کے دوران وہاں سے گزرو گے
تو آواز دے دینا میں تم سے مل کر پھر
اسی نہ ختم ہونے والے سفر پہ چلا جاوں گا
Mohammed Masood
تو نیم شب میں اپنی آرام گاہ سے آٹھ کر
دور اپنی نظریں ڈالنا
اگر کوئی چراغ جلتا ہوا دکھائی دے
تو جان لینا وہ میرا دل ہے
تمہاری نظر پڑتے ہی وہ آئے گا
اگر نہ آئے
مگر ایسا ہو ہی نہیں سکتا
کہ تم کسی پر نظر ڈالو
تو وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
جب کبھی میری یاد آئے تو
آواز کرتی ہوئی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں مہکتی ہوئی فضاؤں میں تمہیں ملوں گا
اپنے آنگن کے پھولوں میں مجھے ڈھونڈنا
میں صدف جیسے اوس قطروں میں تمہیں ملوں گا
اگر فضاؤں میں خوشبوؤں میں آسمانوں میں نہ پاو مجھے
تو اپنے قدموں کے نیچے دیکھنا
میں اسی جا خاک میں تمہیں ملوں گا
اگر کہیں پہ جلتا ہوا چراغ دیکھو
تو جانا کہ میں بھی اسی چراغ سے جل کر راکھ ہوا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اس راکھ کو دریا میں ڈال دینا
میں خاک ہو کر سمندروں میں جا ملوں گا
کسی سنسان کنارے پہ ٹھہر کے تمہارا انتظار کروں گا
اگر تم کبھی سفر کے دوران وہاں سے گزرو گے
تو آواز دے دینا میں تم سے مل کر پھر
اسی نہ ختم ہونے والے سفر پہ چلا جاوں گا
Mohammed Masood
جب کبھی میری یاد آئے تو جب کبھی میری یاد آئے
تو نیم شب میں اپنی آرام گاہ سے آٹھ کر
دور اپنی نظریں ڈالنا
اگر کوئی چراغ جلتا ہوا دکھائی دے
تو جان لینا وہ میرا دل ہے
تمہاری نظر پڑتے ہی وہ آئے گا
اگر نہ آئے
مگر ایسا ہو ہی نہیں سکتا
کہ تم کسی پر نظر ڈالو
تو وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
جب کبھی میری یاد آئے تو
آواز کرتی ہوئی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں مہکتی ہوئی فضاؤں میں تمہیں ملوں گا
اپنے آنگن کے پھولوں میں مجھے ڈھونڈنا
میں صدف جیسے اوس قطروں میں تمہیں ملوں گا
اگر فضاؤں میں خوشبوؤں میں آسمانوں میں نہ پاو مجھے
تو اپنے قدموں کے نیچے دیکھنا
میں اسی جا خاک میں تمہیں ملوں گا
اگر کہیں پہ جلتا ہوا چراغ دیکھو
تو جانا کہ میں بھی اسی چراغ سے جل کر راکھ ہوا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اس راکھ کو دریا میں ڈال دینا
میں خاک ہو کر سمندروں میں جا ملوں گا
کسی سنسان کنارے پہ ٹھہر کے تمہارا انتظار کروں گا
اگر تم کبھی سفر کے دوران وہاں سے گزرو گے
تو آواز دے دینا میں تم سے ملر کر پھر
اسی نہ ختم ہونے والے سفر پہ چلا جاوں گا Mohammed Masood
تو نیم شب میں اپنی آرام گاہ سے آٹھ کر
دور اپنی نظریں ڈالنا
اگر کوئی چراغ جلتا ہوا دکھائی دے
تو جان لینا وہ میرا دل ہے
تمہاری نظر پڑتے ہی وہ آئے گا
اگر نہ آئے
مگر ایسا ہو ہی نہیں سکتا
کہ تم کسی پر نظر ڈالو
تو وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
جب کبھی میری یاد آئے تو
آواز کرتی ہوئی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں مہکتی ہوئی فضاؤں میں تمہیں ملوں گا
اپنے آنگن کے پھولوں میں مجھے ڈھونڈنا
میں صدف جیسے اوس قطروں میں تمہیں ملوں گا
اگر فضاؤں میں خوشبوؤں میں آسمانوں میں نہ پاو مجھے
تو اپنے قدموں کے نیچے دیکھنا
میں اسی جا خاک میں تمہیں ملوں گا
اگر کہیں پہ جلتا ہوا چراغ دیکھو
تو جانا کہ میں بھی اسی چراغ سے جل کر راکھ ہوا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اس راکھ کو دریا میں ڈال دینا
میں خاک ہو کر سمندروں میں جا ملوں گا
کسی سنسان کنارے پہ ٹھہر کے تمہارا انتظار کروں گا
اگر تم کبھی سفر کے دوران وہاں سے گزرو گے
تو آواز دے دینا میں تم سے ملر کر پھر
اسی نہ ختم ہونے والے سفر پہ چلا جاوں گا Mohammed Masood
نہ آیا دل کو ہمارے قرار برسوں تک نہ آیا دل کو ہمارے قرار برسوں تک
کسی کا ہم کو انتظار برسوں تک
اسی نے آج محبت میں ڈے دیا دھوکا
ہمارا جس پہ رہا اعتبار برسوں تک
کسی سے دل لگانے کی یہ سزا پائی
ہماری آنکھ رہی اشک بار برسوں تک
نہ جانے توڑ کے دل کو کہاں گیا میرے
جو میرا بن کے رہا غمگسار برسوں تک
بچھڑ کے ہو گیا ویران وہ بھی اگر ہم سے
نہ دیکھی ہم نے بھی فصل بہار برسوں تک
محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
کسی کا ہم کو انتظار برسوں تک
اسی نے آج محبت میں ڈے دیا دھوکا
ہمارا جس پہ رہا اعتبار برسوں تک
کسی سے دل لگانے کی یہ سزا پائی
ہماری آنکھ رہی اشک بار برسوں تک
نہ جانے توڑ کے دل کو کہاں گیا میرے
جو میرا بن کے رہا غمگسار برسوں تک
بچھڑ کے ہو گیا ویران وہ بھی اگر ہم سے
نہ دیکھی ہم نے بھی فصل بہار برسوں تک
محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
راہ میں جب بھی چلنے لگتے ہیں راہ میں جب بھی چلنے لگتے ہیں
عشق کے منظر بدلنے لگتے ہیں
یاد آتی ہے مجھے جب آپ کی
اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں
مفلسوں کو دیکھ کر اکثر یہاں
لوگ اپنا رخ بدلنے لگتے ہیں
دشمن جاں سن کے میری گفتگو
موم کے جیسے پگھلنے لگتے ہیں
دیکھ کر معراج پہیم عشق کی
حسن کے تیور بدلنے لگتے ہیں
بارشیں ہوتی ہیں جب بھی یہاں
گلستان میں پھول کھلنے لگتے ہیں محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
عشق کے منظر بدلنے لگتے ہیں
یاد آتی ہے مجھے جب آپ کی
اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں
مفلسوں کو دیکھ کر اکثر یہاں
لوگ اپنا رخ بدلنے لگتے ہیں
دشمن جاں سن کے میری گفتگو
موم کے جیسے پگھلنے لگتے ہیں
دیکھ کر معراج پہیم عشق کی
حسن کے تیور بدلنے لگتے ہیں
بارشیں ہوتی ہیں جب بھی یہاں
گلستان میں پھول کھلنے لگتے ہیں محمد مسعود نوٹنگھم یو کے
عشق کے منظر راہ میں جب بھی چلنے لگتے ہیں
عشق کے منظر بدلنے لگتے ہیں
یاد آتی ہے مجھے جب آپ کی
اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں
مفلسوں کو دیکھ کر اکثر یہاں
لوگ اپنا رخ بدلنے لگتے ہیں
دشمن جاں سن کے میری گفتگو
موم کے جیسے پگھلنے لگتے ہیں
دیکھ کر معراج پہیم عشق کی
حسن کے تیور بدلنے لگتے ہیں
بارشیں ہوتی ہیں جب بھی یہاں
گلستان میں پھول کھلنے لگتے ہیں Mohammed Masood
عشق کے منظر بدلنے لگتے ہیں
یاد آتی ہے مجھے جب آپ کی
اشک آنکھوں سے چھلکنے لگتے ہیں
مفلسوں کو دیکھ کر اکثر یہاں
لوگ اپنا رخ بدلنے لگتے ہیں
دشمن جاں سن کے میری گفتگو
موم کے جیسے پگھلنے لگتے ہیں
دیکھ کر معراج پہیم عشق کی
حسن کے تیور بدلنے لگتے ہیں
بارشیں ہوتی ہیں جب بھی یہاں
گلستان میں پھول کھلنے لگتے ہیں Mohammed Masood