Poetries by Wamiq Kakakhel
اک ذرا زحمت کبھی فرمائیے اک ذرا زحمت کبھی فرمائیے
اپنی طرز ناز تو سمجھائیے
ہم کو اپنا ضبط تو معلوم ہے
آپ بھی حد ستم بتلائیے
ساز دل اک دن ذرا پھر چھیڑئیے
بھولا نغمہ پیار کا پھر گائیے
ہم یقیں کر ہی چکے لیکن ذرا
بات اپنی آپ پھر دہرائیے
آپ کو آنا نہیں نہ ہی سہی
بندہ پرور ہم کو ہی فرمائیے
دل کا سودا زندگی کا سودا ہے
لیجیئے دل درد دیتے جائیے
کھوج میں وامق ہوا گم آپ کی
ہو سکے تو گھر کبھی لے جائیے Wamiq Kakakhel
اپنی طرز ناز تو سمجھائیے
ہم کو اپنا ضبط تو معلوم ہے
آپ بھی حد ستم بتلائیے
ساز دل اک دن ذرا پھر چھیڑئیے
بھولا نغمہ پیار کا پھر گائیے
ہم یقیں کر ہی چکے لیکن ذرا
بات اپنی آپ پھر دہرائیے
آپ کو آنا نہیں نہ ہی سہی
بندہ پرور ہم کو ہی فرمائیے
دل کا سودا زندگی کا سودا ہے
لیجیئے دل درد دیتے جائیے
کھوج میں وامق ہوا گم آپ کی
ہو سکے تو گھر کبھی لے جائیے Wamiq Kakakhel
ادھورا پن میرے ادھورے پن
اے میری راہ زیست کے ساتھی
کبھی تو مجھ کو اکیلا بھی چھوڑ دے آخر
کبھی تو دور بھی جا
میری تنہائیوں سے اکتا کر
میں چاہتا ہوں اکیلا پھروں
میں تنہا رہوں
کہ راہ زیست کے کانٹوں کو میں اکیلا چنوں
یوں زندگی سے کسی کو مفر نہیں لیکن
میں چاہتا ہوں
کہ اس زندگی کو دھوکہ دوں
مگر میرے ادھورے پن
تیری تکمیل کی خواہش ہے جب تلک باقی
یہ ہو نہیں سکتا میں ایسا کر نہیں سکتا
میری حیات کا مقصد تو میری نظروں میں
بس اس قدر ہے
کہ تجھ کو میں پورا کر جاؤں
پھر اس کے بعد میں زندہ رہوں یا مر جاؤں Wamiq Kakakhel
اے میری راہ زیست کے ساتھی
کبھی تو مجھ کو اکیلا بھی چھوڑ دے آخر
کبھی تو دور بھی جا
میری تنہائیوں سے اکتا کر
میں چاہتا ہوں اکیلا پھروں
میں تنہا رہوں
کہ راہ زیست کے کانٹوں کو میں اکیلا چنوں
یوں زندگی سے کسی کو مفر نہیں لیکن
میں چاہتا ہوں
کہ اس زندگی کو دھوکہ دوں
مگر میرے ادھورے پن
تیری تکمیل کی خواہش ہے جب تلک باقی
یہ ہو نہیں سکتا میں ایسا کر نہیں سکتا
میری حیات کا مقصد تو میری نظروں میں
بس اس قدر ہے
کہ تجھ کو میں پورا کر جاؤں
پھر اس کے بعد میں زندہ رہوں یا مر جاؤں Wamiq Kakakhel
برہن جلتی رت جوانی جس کی
ٹھنڈی چھایا روپ
زلفیں بادل کالے کالے
مکھڑا جیسے دھوپ
سندر سندر کومل کومل
اک البیلی ناری
بن بن گھومے پھرے اکیلی
پی کے درسن ماری
چھب دکھلا کے چھپ جائے ساجن
بدلے سو بہروپ
پنڈے ماس رہا نہ باقی
سینہ چھلنی اس کا
ساجن تو کیا ملتے اس کو
اپنا آپ ہی بسرا
تن پر دھول جگر ہے زخمی
سر پر بدنامی کی دھوپ
خاک بسر پھرتا ہے جو تھا
اک دن روپ انوپ Wamiq Kakakhel
ٹھنڈی چھایا روپ
زلفیں بادل کالے کالے
مکھڑا جیسے دھوپ
سندر سندر کومل کومل
اک البیلی ناری
بن بن گھومے پھرے اکیلی
پی کے درسن ماری
چھب دکھلا کے چھپ جائے ساجن
بدلے سو بہروپ
پنڈے ماس رہا نہ باقی
سینہ چھلنی اس کا
ساجن تو کیا ملتے اس کو
اپنا آپ ہی بسرا
تن پر دھول جگر ہے زخمی
سر پر بدنامی کی دھوپ
خاک بسر پھرتا ہے جو تھا
اک دن روپ انوپ Wamiq Kakakhel
مردہ ہیں دل ہر آنکھ میں برسوں کے رت جگے مردہ ہیں دل ہر آنکھ میں برسوں کے رت جگے
اس شہر خواب کش میں کوئی کس طرح جیئے
برسوں سے انتظار کبھی اس چمن میں بھی
آئے کبھی بہار کبھی پھول بھی کھلے
ہے عشق بھوگ جھیلتے رہنے کا نام ہے
کیسی نوازشیں بھلا کس بات کے صلے
اک خواب کہ سمایا رگ جاں میں آج بھی
گم گشتہ راستوں پہ میرے ساتھ وہ چلے
دیکھا جو ہم نے عشق مجسم یہ حال تھا
تن کا لباس اترا ہوا، ہونٹ تھے سلے
ترک تعلقات کا اک فائدہ ہوا
اب وہ شکائتیں رہیں نہ ہی رہے گلے
رہیے تو ساتھ ساتھ مگر دل نہ مل سکیں
وامق ہم ایسے قرب سے تو دور ہی بھلے Wamiq Kakakhel
اس شہر خواب کش میں کوئی کس طرح جیئے
برسوں سے انتظار کبھی اس چمن میں بھی
آئے کبھی بہار کبھی پھول بھی کھلے
ہے عشق بھوگ جھیلتے رہنے کا نام ہے
کیسی نوازشیں بھلا کس بات کے صلے
اک خواب کہ سمایا رگ جاں میں آج بھی
گم گشتہ راستوں پہ میرے ساتھ وہ چلے
دیکھا جو ہم نے عشق مجسم یہ حال تھا
تن کا لباس اترا ہوا، ہونٹ تھے سلے
ترک تعلقات کا اک فائدہ ہوا
اب وہ شکائتیں رہیں نہ ہی رہے گلے
رہیے تو ساتھ ساتھ مگر دل نہ مل سکیں
وامق ہم ایسے قرب سے تو دور ہی بھلے Wamiq Kakakhel
وہ حرف جنکو حرف دعا مانتا رہا وہ حرف جنکو حرف دعا مانتا رہا
جانا وہ جھوٹ تھے تو برا سا مجھے لگا
ناآگہی رہی تو سبھی کچھ بھلا سا تھا
یہ آگہی کا روگ میری جاں کو کھا گیا
پیروں تلے زمین ہی باقی نہیں رہی
میں آسماں کی سمت نگاہیں کئے رہا
جس راستے سے دل میں سمایا کبھی کوئی
پلکوں میں وہ دریچہ کھلا ہی رہا سدا
وہ چاند یا چراغ تھا دونوں بجھے رہے
کٹیا کے تو غریب کا یہ ہی نصیب تھا
اونچی اڑان لینے جو نکلا پرندہ وہ
بے دم ہوا یا باز کی خوراک بن گیا
وامق ہمارے شہر کے لوگوں کی خو رہی
زندوں کو مار ڈالنا مردوں کو پوجنا Wamiq Kakakhel
جانا وہ جھوٹ تھے تو برا سا مجھے لگا
ناآگہی رہی تو سبھی کچھ بھلا سا تھا
یہ آگہی کا روگ میری جاں کو کھا گیا
پیروں تلے زمین ہی باقی نہیں رہی
میں آسماں کی سمت نگاہیں کئے رہا
جس راستے سے دل میں سمایا کبھی کوئی
پلکوں میں وہ دریچہ کھلا ہی رہا سدا
وہ چاند یا چراغ تھا دونوں بجھے رہے
کٹیا کے تو غریب کا یہ ہی نصیب تھا
اونچی اڑان لینے جو نکلا پرندہ وہ
بے دم ہوا یا باز کی خوراک بن گیا
وامق ہمارے شہر کے لوگوں کی خو رہی
زندوں کو مار ڈالنا مردوں کو پوجنا Wamiq Kakakhel
میرے آذر میرے ہمدم میرے آذر
پھول کی لالی چرا کر
زعفراں کی زردی لے کر
آسمانی رنگ تھوڑا
سادگی لینا کنول سے
حسن نرگس اس کو دینا
کچھ جنوں چکور سے
جذب کچھ فرید کا
پیار کا انداز لینا
ماھو اور حسین سے
سرمد و منصور کے
عشق ایسا بانکپن
بندگی کاکا صاحب کی
اور دہن سرمست کا
بلھے شاہ کی بے نیازی
حنبلی نیاز لے کر
مجھ کو تم اک بت بنا دو
پوجنا چاہوں اسے میں
پیار کرنا چاہتا ہوں Wamiq Kakakhel
پھول کی لالی چرا کر
زعفراں کی زردی لے کر
آسمانی رنگ تھوڑا
سادگی لینا کنول سے
حسن نرگس اس کو دینا
کچھ جنوں چکور سے
جذب کچھ فرید کا
پیار کا انداز لینا
ماھو اور حسین سے
سرمد و منصور کے
عشق ایسا بانکپن
بندگی کاکا صاحب کی
اور دہن سرمست کا
بلھے شاہ کی بے نیازی
حنبلی نیاز لے کر
مجھ کو تم اک بت بنا دو
پوجنا چاہوں اسے میں
پیار کرنا چاہتا ہوں Wamiq Kakakhel
عوام کے نام تم عام آدمی ہو وطن کی تم آن ہو
تم معتبر ہو تم ہی وطن تم ہی قوم ہو
آگے بڑھو اور ان کو مٹا دو فنا کرو
جو ننگ دیں ہو ننگ وطن ننگ قوم ہو
گدی سے کھینچو اس کی زباں جھوٹ بولے تو
بے حس ہو رہنما تو سر دار کھینچ دو
وعدے نبھانے والوں کو سر پہ بٹھا رکھو
وعدہ خلاف ہو تو حکومت کا حق نہ دو
فرمان کوتوال شہر آج کا یہ ہے
دنیا سے ہر غریب کی ہستی مٹا ہی دو
رسم کہن تغیر اوقات ہی تو ہے
بدلے گا وقت چہروں کو اک بار بدلو جو
کاغذ کا ایک پرزہ جو طاقت تمہاری ہے
یہ گڑگڑائیں بھی تو انہیں بھیک میں نہ دو
ان سے حساب لو جو انہیں دے چکے ہو تم
چھینو تمہارے نام سے لوٹا انہوں نے جو
جو رہبروں کے بھیس میں رہزن تمہیں ملے
اس کی قبائے قیمتی کی دھجیاں کرو
افلاس و بھوک تم کو جو دیتا ہے رہنما
پیروں تلے سے اس کے زمیں اپنی کھینچ لو
آئین کی محافظت کے نام پہ اگر
آئین توڑے کوئی تو زنداں میں ڈال دو
مذہب کے نام نفرتیں جو بانٹتے پھریں
ان غار پیٹ والوں کی منطق کو مت سنو
سرمایہ دار کب ہوا ساتھی غریب کا
نہ منتخب کرو نہ حکومت ہی اس کو دو
حاکم یہ سارے جھوٹ کے حرفوں سے ہیں بنے
سب اہل اقتدار تمہارے دروغ گو
دو گز زمیں دفن کو تمہیں دے نہیں رہے
ان کے سروں سے محلوں کی چھت تم بھی چھین لو
اغیار کے نمائندے جو حکمران ہیں
کھینچو سڑک پہ ان کو وطن سے نکال دو
مل مالکوں وڈیروں کے بے رحم راج کا
اب خاتمہ قریب ہے ہمت جو تم کرو Wamiq Kakakhel
تم معتبر ہو تم ہی وطن تم ہی قوم ہو
آگے بڑھو اور ان کو مٹا دو فنا کرو
جو ننگ دیں ہو ننگ وطن ننگ قوم ہو
گدی سے کھینچو اس کی زباں جھوٹ بولے تو
بے حس ہو رہنما تو سر دار کھینچ دو
وعدے نبھانے والوں کو سر پہ بٹھا رکھو
وعدہ خلاف ہو تو حکومت کا حق نہ دو
فرمان کوتوال شہر آج کا یہ ہے
دنیا سے ہر غریب کی ہستی مٹا ہی دو
رسم کہن تغیر اوقات ہی تو ہے
بدلے گا وقت چہروں کو اک بار بدلو جو
کاغذ کا ایک پرزہ جو طاقت تمہاری ہے
یہ گڑگڑائیں بھی تو انہیں بھیک میں نہ دو
ان سے حساب لو جو انہیں دے چکے ہو تم
چھینو تمہارے نام سے لوٹا انہوں نے جو
جو رہبروں کے بھیس میں رہزن تمہیں ملے
اس کی قبائے قیمتی کی دھجیاں کرو
افلاس و بھوک تم کو جو دیتا ہے رہنما
پیروں تلے سے اس کے زمیں اپنی کھینچ لو
آئین کی محافظت کے نام پہ اگر
آئین توڑے کوئی تو زنداں میں ڈال دو
مذہب کے نام نفرتیں جو بانٹتے پھریں
ان غار پیٹ والوں کی منطق کو مت سنو
سرمایہ دار کب ہوا ساتھی غریب کا
نہ منتخب کرو نہ حکومت ہی اس کو دو
حاکم یہ سارے جھوٹ کے حرفوں سے ہیں بنے
سب اہل اقتدار تمہارے دروغ گو
دو گز زمیں دفن کو تمہیں دے نہیں رہے
ان کے سروں سے محلوں کی چھت تم بھی چھین لو
اغیار کے نمائندے جو حکمران ہیں
کھینچو سڑک پہ ان کو وطن سے نکال دو
مل مالکوں وڈیروں کے بے رحم راج کا
اب خاتمہ قریب ہے ہمت جو تم کرو Wamiq Kakakhel
جینا یہ ہمارے لئے آسان نہیں تھا جینا یہ ہمارے لئے آسان نہیں تھا
اک آگ کے دریا سے تھا ہر روز گزرنا
کہتے بھی حکایات جنوں کس سے بھلا ہم
ہر شخص کا سینہ ہی تو زخموں سے بھرا تھا
بے مہر تھا حاکم تو جفاکار کارندے
خلقت کو تو ہر ایک یہاں لوٹ رہا تھا
مسجد جو لٹی میری، وہ مندر جو لٹا میرا
ان لوٹنے والوں کا بھی اپنا تھا بھلا کیا
ان سب کا تو پیغام محبت ہی رہا ہے
وہ جین یا عیسیٰ تھا وہ بدھا یا کرشنا
اس دنیا میں اک آگ لگا بیٹھا ہے انساں
اب چاند پہ پہنچا ہے تو دیکھیں یہ کرے کیا
پھیکیں گے زباں کاٹ کے سچ بولا اگر تو
اک یہ ہی صلہ ہے تجھے وامق جو ملے گا Wamiq Kakakhel
اک آگ کے دریا سے تھا ہر روز گزرنا
کہتے بھی حکایات جنوں کس سے بھلا ہم
ہر شخص کا سینہ ہی تو زخموں سے بھرا تھا
بے مہر تھا حاکم تو جفاکار کارندے
خلقت کو تو ہر ایک یہاں لوٹ رہا تھا
مسجد جو لٹی میری، وہ مندر جو لٹا میرا
ان لوٹنے والوں کا بھی اپنا تھا بھلا کیا
ان سب کا تو پیغام محبت ہی رہا ہے
وہ جین یا عیسیٰ تھا وہ بدھا یا کرشنا
اس دنیا میں اک آگ لگا بیٹھا ہے انساں
اب چاند پہ پہنچا ہے تو دیکھیں یہ کرے کیا
پھیکیں گے زباں کاٹ کے سچ بولا اگر تو
اک یہ ہی صلہ ہے تجھے وامق جو ملے گا Wamiq Kakakhel
خود وہ آتا نہیں تو کیا غم ہے خود وہ آتا نہیں تو کیا غم ہے
یاد آتا ہے یہ ہی کیا کم ہے
سانس بھرنا عذاب لگتا ہے
دل سلگتا ہے آنکھ بھی نم ہے
چاہتوں کے سفر میں لٹ جانا
احترام مزاج جانم ہے
یاد کے بے کراں سمندر میں
پانیوں کا مزاج برہم ہے
آنکھ میں اترے موسموں کی قسم
موسم چشم آج نم نم ہے
زندگی چاہتی ہے ملنا ہمیں
اور فرصت ہمیں ذرا کم ہے
وامق ان سے گلہ تو کیا ہوگا
ہم سے اپنا نصیب برہم ہے Wamiq Kakakhel
یاد آتا ہے یہ ہی کیا کم ہے
سانس بھرنا عذاب لگتا ہے
دل سلگتا ہے آنکھ بھی نم ہے
چاہتوں کے سفر میں لٹ جانا
احترام مزاج جانم ہے
یاد کے بے کراں سمندر میں
پانیوں کا مزاج برہم ہے
آنکھ میں اترے موسموں کی قسم
موسم چشم آج نم نم ہے
زندگی چاہتی ہے ملنا ہمیں
اور فرصت ہمیں ذرا کم ہے
وامق ان سے گلہ تو کیا ہوگا
ہم سے اپنا نصیب برہم ہے Wamiq Kakakhel
بات زباں سے کیا نکلے بات زباں سے کیا نکلے اور چہرے کیا سمجھائیں یارو
کب تک جھوٹ یوں بولتے رہیے آؤ جدا ہو جائیں یارو
دیواروں پہ شیشے سجا کر خود کو ہر سو دیکھنا چاہو
پستی کا احساس ہے یہ بھی کس کس کو سمجھائیں یارو
چادر اوڑھو آگہی کی اور اپنے اندر جھانک کے دیکھو
ہم پاگل ہیں سودائی ہیں تم کو کیا سمجھائیں یارو
کیا کیا ساماں تم نے کئے ہیں کایا کےاس جال میں پھنس کے
دل کے شیشے بھی تو سنبھالو دیکھو ٹوٹ نہ یارو
خود بینی و خود آرائی چاٹ رہی ہے گھن کی مانند
ذات کے خول سے باہر نکلو تم کو لوگ بلائیں یارو
جی چاہے بے حس ہو جائیں آنکھیں اپنی اندھی کرلیں
کب تک سوچیں کب تک بولیں کب تک جان جلائیں یارو
وامق کو تو خون رلادے بے توقیری انساں کی
جیتی جانیں بھوکی ننگی مردے لوگ سجائیں یارو Wamiq Kakakhel
کب تک جھوٹ یوں بولتے رہیے آؤ جدا ہو جائیں یارو
دیواروں پہ شیشے سجا کر خود کو ہر سو دیکھنا چاہو
پستی کا احساس ہے یہ بھی کس کس کو سمجھائیں یارو
چادر اوڑھو آگہی کی اور اپنے اندر جھانک کے دیکھو
ہم پاگل ہیں سودائی ہیں تم کو کیا سمجھائیں یارو
کیا کیا ساماں تم نے کئے ہیں کایا کےاس جال میں پھنس کے
دل کے شیشے بھی تو سنبھالو دیکھو ٹوٹ نہ یارو
خود بینی و خود آرائی چاٹ رہی ہے گھن کی مانند
ذات کے خول سے باہر نکلو تم کو لوگ بلائیں یارو
جی چاہے بے حس ہو جائیں آنکھیں اپنی اندھی کرلیں
کب تک سوچیں کب تک بولیں کب تک جان جلائیں یارو
وامق کو تو خون رلادے بے توقیری انساں کی
جیتی جانیں بھوکی ننگی مردے لوگ سجائیں یارو Wamiq Kakakhel
ہر دن کا یہ عذاب سہا جائے گا نہ اب ہر دن کا یہ عذاب سہا جائے گا نہ اب
یوں شہر بے مہر میں رہا جائے گا نہ اب
پھولوں کو جس کے باغباں خود روندتا رہے
ایسا چمن آباد کیا جائے گا نہ اب
خلقت کو لوٹتا ہے امیر شہر یہاں
ہم سے خراج خون دیا جائے گا نہ اب
اپنے لہو سے لکھیں گے تقدیر اپنی ہم
یہ ہاتھ ان کے ہاتھ دیا جائے گا نہ اب
سر کو جھکا دیں پوچھے بنا وجہ قتل کیوں
کہتے ہو تم جو ہم سے کیا جائے گا نہ اب
تم سے وفا نبھائیں گے ہر حال میں امیر
یہ عہد استوار دیا جائے گا نہ اب
وامق وہ جن کے نام سے دنیا دہلتی ہے
سن پائیں گے وہ ایک بھی حرف دعا نہ اب Wamiq Kakakhel
یوں شہر بے مہر میں رہا جائے گا نہ اب
پھولوں کو جس کے باغباں خود روندتا رہے
ایسا چمن آباد کیا جائے گا نہ اب
خلقت کو لوٹتا ہے امیر شہر یہاں
ہم سے خراج خون دیا جائے گا نہ اب
اپنے لہو سے لکھیں گے تقدیر اپنی ہم
یہ ہاتھ ان کے ہاتھ دیا جائے گا نہ اب
سر کو جھکا دیں پوچھے بنا وجہ قتل کیوں
کہتے ہو تم جو ہم سے کیا جائے گا نہ اب
تم سے وفا نبھائیں گے ہر حال میں امیر
یہ عہد استوار دیا جائے گا نہ اب
وامق وہ جن کے نام سے دنیا دہلتی ہے
سن پائیں گے وہ ایک بھی حرف دعا نہ اب Wamiq Kakakhel
بیتا ہوا اک لمحہ دکھ دین ہے اس اک لمحے کی
جب کھیل محبت کا کھیلا
جب تم سے ہم کو پیار ہوا
جب تم نے دل میں ڈیرہ کیا
وہ اک لمحہ جو بن کے خوشبو
موسم جاں میں پھیل گیا
اب پہروں آنکھیں بند کئے
ان آتے جاتے لمحوں کو
ہم اکثر گنتے رہتے ہیں
دم سادھے تکتے رہتے ہیں
بس ایک ہی خواہش کے مارے
اے کاش کوئی تو لمحہ ہو
ان آتے جاتے لمحوں میں
اس بیتے لمحے کے جیسا
اس لمحے کو ہم قید کریں
اور واپس تم کو لوٹا دیں
پھر اپنے آپ میں کھو جائیں
پھر پہلے جیسے ہو جائیں Wamiq Kakakhel
جب کھیل محبت کا کھیلا
جب تم سے ہم کو پیار ہوا
جب تم نے دل میں ڈیرہ کیا
وہ اک لمحہ جو بن کے خوشبو
موسم جاں میں پھیل گیا
اب پہروں آنکھیں بند کئے
ان آتے جاتے لمحوں کو
ہم اکثر گنتے رہتے ہیں
دم سادھے تکتے رہتے ہیں
بس ایک ہی خواہش کے مارے
اے کاش کوئی تو لمحہ ہو
ان آتے جاتے لمحوں میں
اس بیتے لمحے کے جیسا
اس لمحے کو ہم قید کریں
اور واپس تم کو لوٹا دیں
پھر اپنے آپ میں کھو جائیں
پھر پہلے جیسے ہو جائیں Wamiq Kakakhel
سنگ تراش درد کی پتھریلی زمیں میں
خواہشوں کے پھول اگانے والے
لاکھ سینچے تو اپنے لہو سے ان کو
کوئی غنچہ نہیں کھلنے والا
پتھروں میں تو مٹی کی خو نہیں ہوتی
پھول سنگم ہے رنگ خوشبو اور نزاکت کا
رنگ تو دو گے اپنی خواہش کے
خوشبو اور نازکی کہاں سے لاؤ گے
پتھروں سے بنائے غنچوں میں
رنگ ہوتے ہیں بو نہیں ہوتی
میں بھی یہ خواب دیکھا کرتا تھا
جو تیری آنکھ میں نظر آئے
میں تو ان کوششوں سے ہار گیا
چھوڑ دے تو بھی لاحاصل سعی
زندگی اب صلہ نہیں دیتی
خواب ایسے تھے میری آنکھوں میں
پھول میں بھی بنایا کرتا تھا
رنگ ان کے بھی خوبصورت تھے
پر نزاکت کہاں سے لاتا میں
خوشبو ان میں مجھے کبھی نہ ملی
تھک گیا میں تو یہ سمجھ پایا
لوچ رنگ و نزاکت و خوشبو
یہ تو شامل ہیں میری مٹی میں
پتھروں سے میں سر کو پھوڑا کیا
یہ تو اپنی ہی بھول تھی میری
میری کوشش کو اک مثال سمجھ
پتھروں سے تو کھیل سکتا ہے
ان میں جذبات بھر نہیں سکتا
اپنی مٹی سے دل لگا جاناں
مجھ کو بھی اس میں ہی پناہ ملی Wamiq Kakakhel
خواہشوں کے پھول اگانے والے
لاکھ سینچے تو اپنے لہو سے ان کو
کوئی غنچہ نہیں کھلنے والا
پتھروں میں تو مٹی کی خو نہیں ہوتی
پھول سنگم ہے رنگ خوشبو اور نزاکت کا
رنگ تو دو گے اپنی خواہش کے
خوشبو اور نازکی کہاں سے لاؤ گے
پتھروں سے بنائے غنچوں میں
رنگ ہوتے ہیں بو نہیں ہوتی
میں بھی یہ خواب دیکھا کرتا تھا
جو تیری آنکھ میں نظر آئے
میں تو ان کوششوں سے ہار گیا
چھوڑ دے تو بھی لاحاصل سعی
زندگی اب صلہ نہیں دیتی
خواب ایسے تھے میری آنکھوں میں
پھول میں بھی بنایا کرتا تھا
رنگ ان کے بھی خوبصورت تھے
پر نزاکت کہاں سے لاتا میں
خوشبو ان میں مجھے کبھی نہ ملی
تھک گیا میں تو یہ سمجھ پایا
لوچ رنگ و نزاکت و خوشبو
یہ تو شامل ہیں میری مٹی میں
پتھروں سے میں سر کو پھوڑا کیا
یہ تو اپنی ہی بھول تھی میری
میری کوشش کو اک مثال سمجھ
پتھروں سے تو کھیل سکتا ہے
ان میں جذبات بھر نہیں سکتا
اپنی مٹی سے دل لگا جاناں
مجھ کو بھی اس میں ہی پناہ ملی Wamiq Kakakhel
ہر سمت انتشار ہے ہر سمت بے دلی ہر سمت انتشار ہے ہر سمت بے دلی
بستی یہ ایسی ہو گی نہ سوچا تھا یوں کبھی
خدشوں میں لپٹے ذہن تو فکروں میں لپٹے چہرے
ہر سینہ فگار میں اک آگ ہے بھری
ہر سو دکھائی دیتے ہیں غارت گری کے منظر
بجھنے لگی ہے آنکھ یہ حیرت سے دیکھتی
پھٹتے ہیں کان خامشی کی گونج سے یہاں
سہما ہے بے زبان ہے ہر ایک آدمی
ہر سمت آگ بھوک کی دہکی ہوئی یہاں
خلقت شہر کی ساری جہنم میں جل رہی
دریا تمام نہریں سبھی خشک ہو گئیں
چشمے اگلتی مٹی ہی بے فیض ہو گئی
وامق دعا کا دور ہے سجدوں کی ساعتیں
شاید ہی سمجھے قوم یہ مرتی ہوئی میری Wamiq Kakakhel
بستی یہ ایسی ہو گی نہ سوچا تھا یوں کبھی
خدشوں میں لپٹے ذہن تو فکروں میں لپٹے چہرے
ہر سینہ فگار میں اک آگ ہے بھری
ہر سو دکھائی دیتے ہیں غارت گری کے منظر
بجھنے لگی ہے آنکھ یہ حیرت سے دیکھتی
پھٹتے ہیں کان خامشی کی گونج سے یہاں
سہما ہے بے زبان ہے ہر ایک آدمی
ہر سمت آگ بھوک کی دہکی ہوئی یہاں
خلقت شہر کی ساری جہنم میں جل رہی
دریا تمام نہریں سبھی خشک ہو گئیں
چشمے اگلتی مٹی ہی بے فیض ہو گئی
وامق دعا کا دور ہے سجدوں کی ساعتیں
شاید ہی سمجھے قوم یہ مرتی ہوئی میری Wamiq Kakakhel
صحرائے ذات میں پھرے تنہا ہی تنہا ہم صحرائے ذات میں پھرے تنہا ہی تنہا ہم
گنجان شہر میں رہے تنہا ہی تنہا ہم
صوت و صدا سے خالی تھا ماحول چار سو
حیرت سے دیکھتے رہے تنہا ہی تنہا ہم
اب کس سے جا کہیں کہ یہ زنجیر کھول دے
کس سے کہیں کہ تھک گئے تنہا ہی تنہا ہم
وہ داستاں جو ہم سے کسی نے نہیں سنی
خود سے ہی کہہ کے سنتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
آزردگی کے رنگ سجا کر نہیں پھرے
غم سہتے ضبط کرتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
تلقین و وعظ اوروں کو ہم نے بہت کئے
میخانے روز جاتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
وامق جنوں کا دور ہے سرمایہ حیات
یک طرفہ عشق کرتے تھے تنہا ہی تنہا ہم Wamiq Kakakhel
گنجان شہر میں رہے تنہا ہی تنہا ہم
صوت و صدا سے خالی تھا ماحول چار سو
حیرت سے دیکھتے رہے تنہا ہی تنہا ہم
اب کس سے جا کہیں کہ یہ زنجیر کھول دے
کس سے کہیں کہ تھک گئے تنہا ہی تنہا ہم
وہ داستاں جو ہم سے کسی نے نہیں سنی
خود سے ہی کہہ کے سنتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
آزردگی کے رنگ سجا کر نہیں پھرے
غم سہتے ضبط کرتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
تلقین و وعظ اوروں کو ہم نے بہت کئے
میخانے روز جاتے تھے تنہا ہی تنہا ہم
وامق جنوں کا دور ہے سرمایہ حیات
یک طرفہ عشق کرتے تھے تنہا ہی تنہا ہم Wamiq Kakakhel
بد گمانی کا یہ موسم بے یقینی کی فضا بد گمانی کا یہ موسم بے یقینی کی فضا
تنہا تنہا آدمی اور بھیڑ سے دم گھٹ رہا
میری آنکھوں میں سمندر سا بسا رہتا جو تھا
ساتھ اپنے ریت کے سارے گھروندے لے گیا
نرگسیت کا لق و دق صحرا ہر اک رہنما
خود پرستی اور قید ذات کا مارا ہوا
بزدلی کو خوبصورت نام دے کر ضبط کا
گنگ ہے سارا شہر کس خوف میں ہے مبتلا
شیشے کی تحریر سے نظریں چراتے ہیں سبھی
آگہی کا آئینہ بھی ایسا پتھر بن گیا
میں ہوا کی نبض پر رکھتا کہاں تک انگلیاں
ایک لمحہ چوکا اور طوفاں اڑا کر لے گیا
موت کے سائے ہیں رقصاں وامق ان دیواروں پر
سچ کے پیغمبر نے جن پر نام اپنا لکھ دیا Wamiq Kakakhel
تنہا تنہا آدمی اور بھیڑ سے دم گھٹ رہا
میری آنکھوں میں سمندر سا بسا رہتا جو تھا
ساتھ اپنے ریت کے سارے گھروندے لے گیا
نرگسیت کا لق و دق صحرا ہر اک رہنما
خود پرستی اور قید ذات کا مارا ہوا
بزدلی کو خوبصورت نام دے کر ضبط کا
گنگ ہے سارا شہر کس خوف میں ہے مبتلا
شیشے کی تحریر سے نظریں چراتے ہیں سبھی
آگہی کا آئینہ بھی ایسا پتھر بن گیا
میں ہوا کی نبض پر رکھتا کہاں تک انگلیاں
ایک لمحہ چوکا اور طوفاں اڑا کر لے گیا
موت کے سائے ہیں رقصاں وامق ان دیواروں پر
سچ کے پیغمبر نے جن پر نام اپنا لکھ دیا Wamiq Kakakhel
جس روشنی کو ہم نے منزل سمجھ لیا جس روشنی کو ہم نے منزل سمجھ لیا
جلتا ہوا جہنم تھا خواہشات کا
کیا سچ ہے ایک بار بتا دیجیئے ہمیں
یہ سچ ہے یہ تو آپ سے ہم نے بہت سنا
ہر راہ اس کے واسطے آسان ہو گئی
جس نے بھی اپنی ذات سے آگے سفر کیا
بارش گرا گئی میرے پکے مکان کو
سیلاب نے صحن میرا پانی سے بھر دیا
تھی کیفیت سراب کی ہر منزل یقیں
میں پر یقیں رہا مجھے دھوکہ نہیں ہوا
تھا التفات غیر یا اغماض دوستاں
ہر جذبہ میرے واسطے انمول جذبہ تھا
درویش صفتی نے ہمیں بکنے نہیں دیا
انسانیت کے نام کا کچھ تو بھرم رہا Wamiq Kakakhel
جلتا ہوا جہنم تھا خواہشات کا
کیا سچ ہے ایک بار بتا دیجیئے ہمیں
یہ سچ ہے یہ تو آپ سے ہم نے بہت سنا
ہر راہ اس کے واسطے آسان ہو گئی
جس نے بھی اپنی ذات سے آگے سفر کیا
بارش گرا گئی میرے پکے مکان کو
سیلاب نے صحن میرا پانی سے بھر دیا
تھی کیفیت سراب کی ہر منزل یقیں
میں پر یقیں رہا مجھے دھوکہ نہیں ہوا
تھا التفات غیر یا اغماض دوستاں
ہر جذبہ میرے واسطے انمول جذبہ تھا
درویش صفتی نے ہمیں بکنے نہیں دیا
انسانیت کے نام کا کچھ تو بھرم رہا Wamiq Kakakhel
آزاد ہے میرا وطن آزاد ہے میرا وطن آزاد میری قوم بھی
حکام غرق عیش و مستی قوم بھوکی مر رہی
ہر گزرتا پل ہمیں کنگال کرتا جا رہا
ننگا کرتی جا رہی ہے جو گزرتی ہے گھڑی
امید کا سراب ہے اور صبر میری قوم کا
صبح کوئی خیر کی نہ شام کوئی خیر کی
قرض کی سولی پہ لٹکے باپ گھر میں جاں بلب
ننگے سر بیٹھی سڑک پہ مائیں بچے بیچتی
شہر سارا جل رہا انبار لاشوں کے لگے
گھر بنے ماتم کدے فاقے سے خلقت مر رہی
عیاش ہیں حکام کھایا بیچ کر میرا وطن
مٹی میری، بیج میرا، فصل غیروں کو ملی
کیا ہوئی غیرت ہماری مقتدر ان کو کیا
جن کا ناطہ مٹی سے نہ قوم سے ناطہ کوئی
سلسلے دارورسن کے ہم سجائیں کس قدر
سولیاں ہر کوچے میں ہر اک گلی مقتل بنی
ہر سمت ہی تو کربلا ہے ہر طرف اندلس کوئی
چھن چکے ہیں پر ہمارے طاقت پرواز بھی
روٹی کپڑے اور مکاں کو میں نہیں روتا مگر
پھر وہی عظمت مجھے لوٹا دو میری قوم کی Wamiq Kakakhel
حکام غرق عیش و مستی قوم بھوکی مر رہی
ہر گزرتا پل ہمیں کنگال کرتا جا رہا
ننگا کرتی جا رہی ہے جو گزرتی ہے گھڑی
امید کا سراب ہے اور صبر میری قوم کا
صبح کوئی خیر کی نہ شام کوئی خیر کی
قرض کی سولی پہ لٹکے باپ گھر میں جاں بلب
ننگے سر بیٹھی سڑک پہ مائیں بچے بیچتی
شہر سارا جل رہا انبار لاشوں کے لگے
گھر بنے ماتم کدے فاقے سے خلقت مر رہی
عیاش ہیں حکام کھایا بیچ کر میرا وطن
مٹی میری، بیج میرا، فصل غیروں کو ملی
کیا ہوئی غیرت ہماری مقتدر ان کو کیا
جن کا ناطہ مٹی سے نہ قوم سے ناطہ کوئی
سلسلے دارورسن کے ہم سجائیں کس قدر
سولیاں ہر کوچے میں ہر اک گلی مقتل بنی
ہر سمت ہی تو کربلا ہے ہر طرف اندلس کوئی
چھن چکے ہیں پر ہمارے طاقت پرواز بھی
روٹی کپڑے اور مکاں کو میں نہیں روتا مگر
پھر وہی عظمت مجھے لوٹا دو میری قوم کی Wamiq Kakakhel
بھوکے کوے ہم کہ بے آب جلتے ہوئے صحرا میں
بیج کر جو طلب گار گندم کے ہیں
یہ تو صحرا ہے جھلسا ہی دے گا اسے
ہم نے جو بویا ہے گر نہ سینچا ابھی
اس کی خو کا بدلنا تو ممکن نہیں
یہ سرابوں کو پانی میں نہ ڈھالے گا
ریت اس کی نہ مٹی بنی ہے کبھی
نہ ہی خوشبو کے پھولوں کو دے گی جنم
تیز آندھی ہے صحراؤں کی اک ادا
نہ بنے گی کبھی وہ نسیم سحر
یاد رکھنا اگر اب بھی سنبھلے نہ ہم
وقت کا گدھ کہ بیٹھا ہوا منتظر
اندہ لاشیں ہماری وہ نوچے گا جب
اس کے ہم ذات چھوٹے سے چھوٹے کوے
جو ابھی ڈر کے بیٹھے ہیں منڈیر پر
منتظر ہیں کہ کب ان کو موقع ملے
چن کے ہر بیج بویا کبھی ہم نے جو
صرف دوزخ بھریں گے نہیں پیٹ کا
دہرتی کے سوتوں سے چوس لیں گے نمو
فصل دیتی زمیں بانجھ کر ڈالیں گے
کشت ہی سارا ویران کر جائیں گے Wamiq Kakakhel
بیج کر جو طلب گار گندم کے ہیں
یہ تو صحرا ہے جھلسا ہی دے گا اسے
ہم نے جو بویا ہے گر نہ سینچا ابھی
اس کی خو کا بدلنا تو ممکن نہیں
یہ سرابوں کو پانی میں نہ ڈھالے گا
ریت اس کی نہ مٹی بنی ہے کبھی
نہ ہی خوشبو کے پھولوں کو دے گی جنم
تیز آندھی ہے صحراؤں کی اک ادا
نہ بنے گی کبھی وہ نسیم سحر
یاد رکھنا اگر اب بھی سنبھلے نہ ہم
وقت کا گدھ کہ بیٹھا ہوا منتظر
اندہ لاشیں ہماری وہ نوچے گا جب
اس کے ہم ذات چھوٹے سے چھوٹے کوے
جو ابھی ڈر کے بیٹھے ہیں منڈیر پر
منتظر ہیں کہ کب ان کو موقع ملے
چن کے ہر بیج بویا کبھی ہم نے جو
صرف دوزخ بھریں گے نہیں پیٹ کا
دہرتی کے سوتوں سے چوس لیں گے نمو
فصل دیتی زمیں بانجھ کر ڈالیں گے
کشت ہی سارا ویران کر جائیں گے Wamiq Kakakhel