آتی تو ھے بہار مگر ، اس طرح نہیں
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen , Kallar Syedanآتی تو ھے بہار مگر ، اس طرح نہیں
کھلتے ہین لالہ زار مگر ، اس طرح نہیں
یادوں کے آج بھی ھیں دریچےکھلے ھوئے
دل بھی ھے بیقرار مگر اس طرح نہیں
تکتے تو آج بھی ھیں وہ چلمن کی اوٹ سے
ھوتا تو ھے دیدار مگر اس طرح نہیں
کوچے میں ان کے بھیڑ ھے مں گتوں کی آج بھی
بٹتا ھے حسن یار مگر اس طرح نہیں
رکھے ھوئے ہیں برسوں سے سب بام و در کھلے
رہتا ھے انتظار مگر اس طرح نہیں
لوگ آج بھی تو ساقی و واعظ کے روپ میں
ملتے ھیں بیشمار مگر اس طرح نییں
زریں ان کے جھوٹے وعدوں پہ اب تلک
کرتا ھے اعتبار مگر اس طرح نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






