ترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaترے جمال سے بڑھ کر جمال کیا ہو گا
ترا جواب نہیں ہے، سوال کیا ہو گا
قرار چھین گیا ہے ترا تصور ہی
حضور حسن میں جانے یہ حال کی ہو گا
ترے خیال کا ہجراں میں لطف اتنا ہے
میں سوچتا ہوں کہ آخر وصال کیا ہو گا
کمال اُس کا بنایا ہے تُجھ کو فرصت سے
غرور جس پہ اُسے ہو، کمال کیا ہو گا
وہ آ گئے ہیں عیادت کو اور کیا مانگوں
مریض اس سے زیادہ نہال کیا ہو گا
شریک خوشیوں میں میری وہ جب نہیں ہوتے
مجھے ہے رنج، تو اُن کو ملال کیا ہو گا
سرور، قرب سے بڑھتا ہے، اور بڑھ جائے
ذرا بھی خود کو نہ اظہر سنبھال، کیا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






