ازل سے گونچتی آئی ہے صدا کربل کے پیچھے
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahازل سے گونجتی آئی صدا کربل کے پیچھے
خدا کی مصلحت تھی ہر ادا کربل کے پیچھے
جھکایا سر نہ باطل پر، کٹایا سر خوشی سے
یہی اک راز ہے زندہ بقا کربل کے پیچھے
زمینِ دشت پر سجدے نے ایسا رنگ بکھرا
نظر آتی ہے رب کی کبریا کربل کے پیچھے
نبیؐ کے دین کی خاطر لٹایا گھر کا گھر جس نے
وہی شبیرؑ ہیں، ساری وفا کربل کے پیچھے
ابھی تک اشک بہتے ہیں دلوں سے یاد میں اُن کی
چھپا ہے درد کا اک سلسلہ کربل کے پیچھے
یزیدی سوچ مٹ جاتی ہے اپنے آپ شہزاد
اگر سمجھو حسینؑ دینِ شہا کربل کے پیچھے
More Love / Romantic Poetry






