راستے میں ہم سفر ساتھ چھوڑ گئے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiراستے میں ہم سفر ساتھ چھوڑ گئے
وہ مجھے ہی دیکھ کر ساتھ چھوڑ گئے
میں اکیلے آیا ہوں وہ نہیں آئے
وہ چلے ہیں اپنے گھر ساتھ چھوڑ گئے
جن پہ تھا بھروسہ اپنے نہیں وہ رہے
میرے اپنے کاری گر ساتھ چھوڑ گئے
طنطنہ دکھا رہے ہیں وہ آئے نہیں
ہوگئے ہیں دربدر ساتھ چھوڑ گئے
کچھ نہیں رہا مرے پاس دینے کو
ہوگئے یوں منتشر ساتھ چھوڑ گئے
ساتھ میرے وہ رہے پھر ہوا ایسا
گھومے ہیں ادھر ادھر ساتھ چھوڑ گئے
چلتے ہیں کہیں یہاں دل نہیں لگتا
کرتے وہ اگر مگر ساتھ چھوڑ گئے
کہتے تھے یہی نہیں ساتھ چھوڑیں گے
ہم رہیں گے عمر بھر ساتھ چھوڑ گئے
زیست کا پیا چلے گا نہیں شہزاد
قیمتی تھے جو شجر ساتھ چھوڑ گئے
More Love / Romantic Poetry






