اِس قدر نہ ہمیں ستاؤ تم، بغاوت پہ ہم اُتر آئینگے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwalaاِس قدر نہ ہمیں ستاؤ تم، بغاوت پہ ہم اُتر آئینگے
تم ہماری جھوپڑیاں جلاؤگے ، ہم تمہارے آشیانے جلائینگے
اِس محبت کو تم آزماؤ نہ ، اِک آگ ہے اِسے بھڑکاؤ نہ
شعلہ بنے گر جہان کیا چیز ہے ہم خود کو نہ روک پائینگے
نہ لگاؤ صبر پہ ٹھوکریں اِس صبر کے پیچھے سیلاب ہیں
تمہاری ہستیاں ، تمہاری بستیاں سب کچھ بہا کے لے جائینگے
چھیڑو نہ ہم کو پاگلو ! ہم مصروفِ عبادتِ عشق ہیں
ٹوٹی اگر جو یہ بندگی ، تو زلزے یہاں سے اُٹھائینگے
جو بیٹھا ہے اُونچے تخت پہ سُنیگا وہ ہماری التجائیں سبھی
بادلوں کو چیڑتی جائینگی ، ہم صدائیں ایسی لگائینگے
ہمیں رائے وفا پہ جانا ہے ، ہمیں یار کو ہر حال پانا ہے
دیکھ لینا مر کے بھی اُسے قسمت میں اپنی لکھوائینگے
یہ محبتوں کے دستور ہیں ، دن رُخِ یار سے نور ہیں
نہالؔ خون نکال کے جگر کا ، نہالِ عشق وہاں اُگائینگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






