مجبور ہوں میں کچھ اِس قدر کہ رو نہیں ہوں پا رہا

Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL INAYAT GILL, Gujranwala

مجبور ہوں میں کچھ اِس قدر کہ رو نہیں ہوں پا رہا
دے رہی ہے زندگی تسلیاں مگر مرتا ہوں میں جا رہا

سردیوں کی رات ہے غم ہے مجھے ترے فراق کا
کانپ رہا ہے جسم سارا میرا میں تیلیاں ہوں جلا رہا

اپنے دیارِ عشق میں تنہا پھر رہا ہوں اِدھر اُدھر
بکھرے پڑے ہیں ارمان سبھی اور میں ہوں اُنکو اُٹھا رہا

حیران ہیں سب دیکھ کر میرے ہاتھوں میں شراب کی بوتلیں
اب سبھی کو کیا میں سمجھاؤں میں کسی کو ہو ں بھلا رہا

جی کرے میں سب کو کاٹ دُوں دیکھا جاتا نہیں منظر آج کا
بغاوت پہ نہ اُتروں تو کیا کروں میری جان کو ہے ستایا جا رہا

مجھے مان کیا ہے دعاؤں پہ ، مجھے ناز کیا ہے خدائی پہ
مجھ سے چھین رہے ہیں پیار کو اور خدا ہے میرا مسکرا رہا

گلشن سے میں ہوں نکالا گیا میرے تڑپ رہے ہیں خواب سبھی
نہالؔ بستر بناکے خاڑ کا میں خوابوں کو ہوں سُلا رہا

Rate it:
Views: 635
18 Jan, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL