جانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتی
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiجانے کیوں محبت میں دل کشی نہیں ملتی
دوست روز ملتے ہیں دوستی نہیں ملتی
زندگی اگر چاہو فاقہ مست بن جاؤ
روغنی نوالوں سے زندگی نہیں ملتی
مسلک فقیری میں جو خوشی میسر ہے
تخت بادشاہی پر وہ خوشی نہیں ملتی
ادھ کھلی کلی شاید باغباں نے پھر توڑی
کیوں گلوں کے چہروں پر تازگی نہیں ملتی
ان کو کوئی سمجھائے اپنا جائزہ لے لیں
جن کو اپنے سجدوں میں چاشنی نہیں ملتی
دل مرا اندھیرے میں آج بھی بھٹکتا ہے
روشنی کی دنیا میں روشنی نہیں ملتی
زرد زرد چہرے ہیں خوف مرگ سے عالمؔ
اب تو کوئی بھی صورت چاند سی نہیں ملتی
More Love / Romantic Poetry






