Poetries by جاوید صدیقی
نریندر مودی عجب تماشا ہے یہ بھارتی سیاسی گردانوں کا
بیوقوف کو دے دیا،ریاست اب ڈھانے کا
ظالم و قاتل ہے، بھارت کے مسلمانوں کا
شراب اور پیشاب پیتا ہے اپنی گاؤ ماتاکا
ذہنیت ناپید، سوچ غلیظ،شیطانی دماغ ہے اس کا
بتوں کی پرستش،ماتھے پر لعنت ہے نشان اس کا
مکاری و عیاری، جھوٹ و افلاس پہچان ہے اس کی
جو بھی دیکھے لعنت بھیجے ، سوشل میڈیاپراس پے
کوئی اور نہیں یہ شیطان ہے وزیر اعظم بھارت کا
نہ شرم نہ حیابے غیرت نام ہے نریندر مودی اس کا جاوید صدیقی
بیوقوف کو دے دیا،ریاست اب ڈھانے کا
ظالم و قاتل ہے، بھارت کے مسلمانوں کا
شراب اور پیشاب پیتا ہے اپنی گاؤ ماتاکا
ذہنیت ناپید، سوچ غلیظ،شیطانی دماغ ہے اس کا
بتوں کی پرستش،ماتھے پر لعنت ہے نشان اس کا
مکاری و عیاری، جھوٹ و افلاس پہچان ہے اس کی
جو بھی دیکھے لعنت بھیجے ، سوشل میڈیاپراس پے
کوئی اور نہیں یہ شیطان ہے وزیر اعظم بھارت کا
نہ شرم نہ حیابے غیرت نام ہے نریندر مودی اس کا جاوید صدیقی
میاں صاحبان بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں میاں صاحبان
ہر دعوے سے پھر جاتے ہیں یہ میاں صاحبان
انہیں تو لت لگ گئی ہے ظلم و بربریت کرنےکی
پھر بھی خادم اعلیٰ کہلاتےہیں یہ میاں صاحبان
ان کی چالاکیوں ، مکاریوں ،منافقت کا کیا کہنا
چہرے سے ٹپکتی ہیں منحوسیت کچھ اس قدران پر
جھوٹ کے پلندےہیں یہ دونوں میاں صاحبان جاوید صدیقی
ہر دعوے سے پھر جاتے ہیں یہ میاں صاحبان
انہیں تو لت لگ گئی ہے ظلم و بربریت کرنےکی
پھر بھی خادم اعلیٰ کہلاتےہیں یہ میاں صاحبان
ان کی چالاکیوں ، مکاریوں ،منافقت کا کیا کہنا
چہرے سے ٹپکتی ہیں منحوسیت کچھ اس قدران پر
جھوٹ کے پلندےہیں یہ دونوں میاں صاحبان جاوید صدیقی
دیوانہ تیرے رخسار پے عجب یہ تل چمکتے ہیں
کہ جیسے آسمان پے کوئی تارہ ٹمٹماتے ہیں
تیرے تبسم پر پھول بھی کھل اٹھتے ہیں
موسم بہاروں میں خوشبو ورنگ پھیلتے ہیں
تیرے حسن کے جلوے مجھےجلا بخشتے ہیں
تیرے ہاتھوں کے نرم گوشے گرم لگتے ہیں
تیرے آنکھوںکی پلگوںجو چمک اٹھتی ہیں
مجھے تیر ا دیوانہ، پروانہ،عاشق بنادتی ہیں
تیرے رخسار کی باتیں محلے میں ہوتی ہیں
تیری یادیں ہر وقت میرے دل میں رہتی ہیں
اے ریاض ! یہ کوئی عشق و محبت تو نہیں
جو تجھے اس کا دیوانہ بنائے رکھتی ہیں جاوید صدیقی
کہ جیسے آسمان پے کوئی تارہ ٹمٹماتے ہیں
تیرے تبسم پر پھول بھی کھل اٹھتے ہیں
موسم بہاروں میں خوشبو ورنگ پھیلتے ہیں
تیرے حسن کے جلوے مجھےجلا بخشتے ہیں
تیرے ہاتھوں کے نرم گوشے گرم لگتے ہیں
تیرے آنکھوںکی پلگوںجو چمک اٹھتی ہیں
مجھے تیر ا دیوانہ، پروانہ،عاشق بنادتی ہیں
تیرے رخسار کی باتیں محلے میں ہوتی ہیں
تیری یادیں ہر وقت میرے دل میں رہتی ہیں
اے ریاض ! یہ کوئی عشق و محبت تو نہیں
جو تجھے اس کا دیوانہ بنائے رکھتی ہیں جاوید صدیقی
محبت کے پیاسے محبت کے پیاسے ہم نے بہت سے دیکھے
گلی کوچوں کے نکڑ پر تیز دھوپ میں دیکھے
باغوں، بازاروں میں آوارہ پھرتے دیکھے
نئے لباس اور نئے انداز سے مزین دیکھے
ہاتھوں میں موبائل، ہونٹوں پے سگریٹ کے کش
عجب عجب انداز میں انھیںحرکتیں کرتے دیکھے
انٹرنیٹ ، موبائل میں محو ہوتے ہوئے بہت دیکھے
ایک دوسرے کو فلڈ کرتے ہوئےہم نے دیکھے
ماں باپ بہن بھائی سے چھپ کرہم نے دیکھے
خود ساختہ عمل کرتے ہوئےہم نے بہت دیکھے
شہر ہو یا گاؤں سب جگہ محبت کے پیاسے دیکھے
اے ریاض ! سب کے ڈھنگ الگ الگ دیکھے
(نوٹ: شاعری میں ریاض نام استعمال کرتا ہوں۔۔جاوید صدیقی صحافی و کالم کار و نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز کراچی)
جاوید صدیقی
گلی کوچوں کے نکڑ پر تیز دھوپ میں دیکھے
باغوں، بازاروں میں آوارہ پھرتے دیکھے
نئے لباس اور نئے انداز سے مزین دیکھے
ہاتھوں میں موبائل، ہونٹوں پے سگریٹ کے کش
عجب عجب انداز میں انھیںحرکتیں کرتے دیکھے
انٹرنیٹ ، موبائل میں محو ہوتے ہوئے بہت دیکھے
ایک دوسرے کو فلڈ کرتے ہوئےہم نے دیکھے
ماں باپ بہن بھائی سے چھپ کرہم نے دیکھے
خود ساختہ عمل کرتے ہوئےہم نے بہت دیکھے
شہر ہو یا گاؤں سب جگہ محبت کے پیاسے دیکھے
اے ریاض ! سب کے ڈھنگ الگ الگ دیکھے
(نوٹ: شاعری میں ریاض نام استعمال کرتا ہوں۔۔جاوید صدیقی صحافی و کالم کار و نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز کراچی)
جاوید صدیقی
انتظار انتظار کی گھڑیاں ہیں تکلیف دہ بہت
ابھی مسافتیں بھی ہیں بہت دور تلگ
کبھی چلتے ہیں پیدل تو کبھی سواری پے مگر
فاصلے مٹ نہیں پاتے مسافت کے بغیر
صبح کا سماں اور شام کا اندھیراہے سفر میں
تھکاوٹ سے چور چور ہے بدن اور ذہن
آنکھیں ڈھونڈ رہی ہیں جنہیں وہ ہیں کدھر
بے منزل کی مسافت ہے یا پھرکوئی منزل
ہے کوئی کرتا ہے سفر لیکن شائد مجھ سا نہیں
اے ریاض ! تو سفر میں بھی کرتا ہے انتظار
(نوٹ: شاعری میں ریاض نام استعمال کرتا ہوں۔۔جاوید صدیقی صحافی و کالم کار و نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز کراچی) جاوید صدیقی
ابھی مسافتیں بھی ہیں بہت دور تلگ
کبھی چلتے ہیں پیدل تو کبھی سواری پے مگر
فاصلے مٹ نہیں پاتے مسافت کے بغیر
صبح کا سماں اور شام کا اندھیراہے سفر میں
تھکاوٹ سے چور چور ہے بدن اور ذہن
آنکھیں ڈھونڈ رہی ہیں جنہیں وہ ہیں کدھر
بے منزل کی مسافت ہے یا پھرکوئی منزل
ہے کوئی کرتا ہے سفر لیکن شائد مجھ سا نہیں
اے ریاض ! تو سفر میں بھی کرتا ہے انتظار
(نوٹ: شاعری میں ریاض نام استعمال کرتا ہوں۔۔جاوید صدیقی صحافی و کالم کار و نیوز پروڈیوسر، اے آر وائی نیوز کراچی) جاوید صدیقی
مجھے دیکھا پیاسی نگاہوں سے جب انہیں میں نے دیکھا
دل کی بیقراری سے جب انہیں اپنی محبت کہا
دیکھنے والوں نے ہمیں خوب جی بھر کے دیکھا
اپنے ہاتھوں سے ان کی زلفیں سنوارتے دیکھا
چاہت کے رنگ سنگ اورقوس و قزاح میں دیکھا
اس کی نیلی چمکتی آنکھوں نے چلمن سے مجھے دیکھا
پتلی انگلیاں،لمبی آنکھیں، شادابی چہرہ ہے اس کا
قدم نازک، چال نزاکت اور مسکراہٹ غضب کی
اے ریاض! وہ اس قدر حسین ہے جب بھی دیکھا
دیوانہ، پروانہ ،مستانہ ، بیگانہ سب نے مجھے دیکھا
(شاعری میں ریاض لکھتا ہوں ۔۔۔جاوید صدیقی ) جاوید صدیقی
دل کی بیقراری سے جب انہیں اپنی محبت کہا
دیکھنے والوں نے ہمیں خوب جی بھر کے دیکھا
اپنے ہاتھوں سے ان کی زلفیں سنوارتے دیکھا
چاہت کے رنگ سنگ اورقوس و قزاح میں دیکھا
اس کی نیلی چمکتی آنکھوں نے چلمن سے مجھے دیکھا
پتلی انگلیاں،لمبی آنکھیں، شادابی چہرہ ہے اس کا
قدم نازک، چال نزاکت اور مسکراہٹ غضب کی
اے ریاض! وہ اس قدر حسین ہے جب بھی دیکھا
دیوانہ، پروانہ ،مستانہ ، بیگانہ سب نے مجھے دیکھا
(شاعری میں ریاض لکھتا ہوں ۔۔۔جاوید صدیقی ) جاوید صدیقی
سمجھا ہے کیا سمجھا ہے کیا
غلامی میں جب رہتے تھے ہم
غلامی کی ذہنیت کو سمجھا ہے کیا
آزادی کی جب تھے فضا میں
وطن کوہم سب نے سمجھا ہے کیا
محبتوں کےجال بچھاتے ہیںوہ
دھوکے کو ہم نے سمجھا ہے کیا
سیاست،سازش اور کہیں مفاہمت
شطرنج کی چالوں کو سمجھا ہے کیا
ارض پاک کے دامن کو تار تار کرکے
خون نا حق کو انھوں نے سمجھا ہے کیا
اے ریاض ! ایمان یہاں ہے کیا
سنگدل حکمرانوں کو کبھی دیکھا ہے کیا
جاوید صدیقی
غلامی میں جب رہتے تھے ہم
غلامی کی ذہنیت کو سمجھا ہے کیا
آزادی کی جب تھے فضا میں
وطن کوہم سب نے سمجھا ہے کیا
محبتوں کےجال بچھاتے ہیںوہ
دھوکے کو ہم نے سمجھا ہے کیا
سیاست،سازش اور کہیں مفاہمت
شطرنج کی چالوں کو سمجھا ہے کیا
ارض پاک کے دامن کو تار تار کرکے
خون نا حق کو انھوں نے سمجھا ہے کیا
اے ریاض ! ایمان یہاں ہے کیا
سنگدل حکمرانوں کو کبھی دیکھا ہے کیا
جاوید صدیقی
۔۔۔بیٹھے ہیں ۔۔۔ عشق و محبتوں کے بت بنائے بیٹھے ہیں
اپنی جیتی جاگتی زندگی کو بھلائے بیٹھے ہیں
اُن کی یادوں، خیالوں کو اپنائے بیٹھے ہیں
ورق پر لکیروں سے تصویر بنائے بیٹھے ہیں
ان کی چاہت میں اسقدر دیوانے بیٹھے ہیں
اپنی چاہت کو پہلوؤں میں چھپائے بیٹھے ہیں
اپنی زلفوں کو پھیلاکر جب وہ آکر بیٹھتے ہیں
اپنےحسن کے نور کو مجھ سے چھپائےبیٹھے ہیں
اے ریاض !وہ لمحات ہرگز بھلائے نہیں بھولتے
جو ان کے ساتھ گزرے وہ ساتھ لیئے بیٹھے ہیں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں ))
جاوید صدیقی
اپنی جیتی جاگتی زندگی کو بھلائے بیٹھے ہیں
اُن کی یادوں، خیالوں کو اپنائے بیٹھے ہیں
ورق پر لکیروں سے تصویر بنائے بیٹھے ہیں
ان کی چاہت میں اسقدر دیوانے بیٹھے ہیں
اپنی چاہت کو پہلوؤں میں چھپائے بیٹھے ہیں
اپنی زلفوں کو پھیلاکر جب وہ آکر بیٹھتے ہیں
اپنےحسن کے نور کو مجھ سے چھپائےبیٹھے ہیں
اے ریاض !وہ لمحات ہرگز بھلائے نہیں بھولتے
جو ان کے ساتھ گزرے وہ ساتھ لیئے بیٹھے ہیں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں ))
جاوید صدیقی
تکلیف دہ یادیں وہ خود بنے بیٹھے ہیں خدا اپنی ہی سوچوں میں
کبھی جنرنیل تو کبھی سیاسی لیڈر کی شکلوں میں
غلط پالیسیوں کے سبب جھیلتی ہے تکلیفیں عوام
رہتے ہیں خودنمائی ،آرام و سہل کے محلوں میں
ایسی ہزاروں تاریخیں رقم ہوجائینگی یادوں میں
پر کسی امیر زادے کا بچہ نہ مرے گا اسکولوں میں
اس ملک میں طاقتور ہی اصل حقدر سمجھا جاتا ہے
غریب کی قسمت، امیر کےپاؤں کے تلوؤں میں
ریاست و حکومت جدا جدا چلتی ہیںاس ارض پاک میں
رخ بدل، سوچ بدل،احساس بدل ہےانکے ذہنوں میں
تقسیم کردیا ہے ریاست و حکومت کے ایوانوں نے
عوام بیچاری لاغر ہے ،قرض ا ور مہنگائی کے پہاڑوں میں
ہر کوئی لیئے پھرتا ہے لیڈر اپنے حسین و لاجواب منشور
نہ کیا کسی نےفلاح عوام اور نہ کریگا کوئی حقیقتوں میں
اے ریاض ! اسے میں بدقسمتی کہوں یا عوام کی بے حسی
کہ سب کے سب بنیں بیٹھے ہیں،عصبیت و تعصبوں میں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں )) جاوید صدیقی
کبھی جنرنیل تو کبھی سیاسی لیڈر کی شکلوں میں
غلط پالیسیوں کے سبب جھیلتی ہے تکلیفیں عوام
رہتے ہیں خودنمائی ،آرام و سہل کے محلوں میں
ایسی ہزاروں تاریخیں رقم ہوجائینگی یادوں میں
پر کسی امیر زادے کا بچہ نہ مرے گا اسکولوں میں
اس ملک میں طاقتور ہی اصل حقدر سمجھا جاتا ہے
غریب کی قسمت، امیر کےپاؤں کے تلوؤں میں
ریاست و حکومت جدا جدا چلتی ہیںاس ارض پاک میں
رخ بدل، سوچ بدل،احساس بدل ہےانکے ذہنوں میں
تقسیم کردیا ہے ریاست و حکومت کے ایوانوں نے
عوام بیچاری لاغر ہے ،قرض ا ور مہنگائی کے پہاڑوں میں
ہر کوئی لیئے پھرتا ہے لیڈر اپنے حسین و لاجواب منشور
نہ کیا کسی نےفلاح عوام اور نہ کریگا کوئی حقیقتوں میں
اے ریاض ! اسے میں بدقسمتی کہوں یا عوام کی بے حسی
کہ سب کے سب بنیں بیٹھے ہیں،عصبیت و تعصبوں میں
((نوٹ: شاعری میں اپنا نام ریاض استعمال کرتا ہوں )) جاوید صدیقی
مایوسی دل بھرتا رہا ، آنسو بہتے رہے
میری پلکھیں بھی نم ہوتی رہیں
لب خاموش ،زباں چپ رہی
دل کی دھڑکن ،خاموش نہ رہی
صبح کا تارا دیکھنے کی تمنا ہی رہی
شب تھی کہ ختم ہونے کو نہ تھی
اک امید تھی مجھے ان سے بہت
مایوسی کی چادر انھوں نے اڑادی
بڑا گمان تھا اور بڑا ارمان بھی
برسوں کی محبت خاک میں مٹادی
جس سے بھی ہاتھ بڑھایا میں نے
خنجر کی نوک اُس نے چبادی
اے ریاض اب الفت کا کیا کہنا
بے رخی اُس نے بھی مجھے دکھادی جاوید صدیقی
میری پلکھیں بھی نم ہوتی رہیں
لب خاموش ،زباں چپ رہی
دل کی دھڑکن ،خاموش نہ رہی
صبح کا تارا دیکھنے کی تمنا ہی رہی
شب تھی کہ ختم ہونے کو نہ تھی
اک امید تھی مجھے ان سے بہت
مایوسی کی چادر انھوں نے اڑادی
بڑا گمان تھا اور بڑا ارمان بھی
برسوں کی محبت خاک میں مٹادی
جس سے بھی ہاتھ بڑھایا میں نے
خنجر کی نوک اُس نے چبادی
اے ریاض اب الفت کا کیا کہنا
بے رخی اُس نے بھی مجھے دکھادی جاوید صدیقی
فقیر دنیا کی زندگی میں جب قدم رکھا تھا میں نے
ماں باپ کے عظیم رشتوں کو پایا تھا میں نے
ہزار باتیں سنیں اور ہزار قصے سنیں تھے میں نے
کبھی ماں ،کبھی باپ اور کبھی استاد سے میں نے
علم دنیا اور علم دین کو سیکھا تھا جب میں نے
نجانے کیوں خلش کو محسوس کیا تھا میں نے
اُس فقیر سے ملاقات کی تھی جب میں نے
اک لفظ میں ہی عیاں کردیا سب اُس نے
اے ریاض! زندگی کا مقصد سمجھا دیا ہے اُس نے
بند آنکھوں ہی میں حقیقت دکھا دیا ہے اُس نے
جاوید صدیقی
ماں باپ کے عظیم رشتوں کو پایا تھا میں نے
ہزار باتیں سنیں اور ہزار قصے سنیں تھے میں نے
کبھی ماں ،کبھی باپ اور کبھی استاد سے میں نے
علم دنیا اور علم دین کو سیکھا تھا جب میں نے
نجانے کیوں خلش کو محسوس کیا تھا میں نے
اُس فقیر سے ملاقات کی تھی جب میں نے
اک لفظ میں ہی عیاں کردیا سب اُس نے
اے ریاض! زندگی کا مقصد سمجھا دیا ہے اُس نے
بند آنکھوں ہی میں حقیقت دکھا دیا ہے اُس نے
جاوید صدیقی
آنکھیں ہزار چہرے دیکھے پرتم سا چہرہ نہ دیکھا
یوں برسوںسے مرجھا ہوا چہرہ نہ دیکھا
چہرے پر چمکتی دمکتی آنکھیں بہت بولتی ہیں
پلکھوں پرآنسوؤں کے قطرے چھوڑتی ہیں
بے چین نگاہیں عجیب سا پیغام دیتی ہیں
اک نگاہ دیکھ کر ہمیں بھی تڑپا دیتی ہیں
کسی کے بچھڑنے پر عجیب سی کیفیت رکھتی ہیں
کسی کے ملنے پر رنگ و نورکی روشنی بکھیرتی ہیں
اے ریاض! آنکھیں بھی بہت کچھ بولتی ہیں
پڑھنے والی نگاہیں آنکھ کی زبان سمجھ لیتی ہیں جاوید صدیقی
یوں برسوںسے مرجھا ہوا چہرہ نہ دیکھا
چہرے پر چمکتی دمکتی آنکھیں بہت بولتی ہیں
پلکھوں پرآنسوؤں کے قطرے چھوڑتی ہیں
بے چین نگاہیں عجیب سا پیغام دیتی ہیں
اک نگاہ دیکھ کر ہمیں بھی تڑپا دیتی ہیں
کسی کے بچھڑنے پر عجیب سی کیفیت رکھتی ہیں
کسی کے ملنے پر رنگ و نورکی روشنی بکھیرتی ہیں
اے ریاض! آنکھیں بھی بہت کچھ بولتی ہیں
پڑھنے والی نگاہیں آنکھ کی زبان سمجھ لیتی ہیں جاوید صدیقی
جاوید صدیقی کے کچھ قطعات میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں کسی کے دل کی دھڑکن تھا کبھی
میں کسی کے خوابوں کا راجہ تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں حسین بھی اور خوبصورت تھا کبھی
رنگ و روپ کا اک شہزادہ سا تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں صنف نازک کی پلکھوں میں سجاتھا کبھی
میں حسینوں کے ذکر اور سرگوشیوں میں تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں محبت و پیار کی داستان کا کردار تھا کبھی
میںجانوں،دلبر،محبوب کے نام سے تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں زندگی کے آخری لمحات سےگزر رہا ہوں
اے ریاض ماضی کے خیالوں سےگزر رہاہوں
جاوید صدیقی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں کسی کے دل کی دھڑکن تھا کبھی
میں کسی کے خوابوں کا راجہ تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں حسین بھی اور خوبصورت تھا کبھی
رنگ و روپ کا اک شہزادہ سا تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں صنف نازک کی پلکھوں میں سجاتھا کبھی
میں حسینوں کے ذکر اور سرگوشیوں میں تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں محبت و پیار کی داستان کا کردار تھا کبھی
میںجانوں،دلبر،محبوب کے نام سے تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں زندگی کے آخری لمحات سےگزر رہا ہوں
اے ریاض ماضی کے خیالوں سےگزر رہاہوں
جاوید صدیقی
قیامت اور پاکستانی سنا تھا کہ قیامت میں تباہی کاحال ہوگا
تحلیل، مسمار، بربادی اوراختتام ہوگا
اُس وقت کوئی نہیں صرف اللہ کاوجود ہوگا
اللہ اپنے حبیب کا ذکراُس دن بھی کریگا
درود و سلام پڑھتا ہے رب اپنے حبیب پر
حبیب ظاہری نہ ہوگا تو کیا ہوامحبوب تو ہوگا
قطاریں بندھی ہوئی ہونگی حضرت انسانوں کی
ہر ایک پریشان ، فکرمند اور گھبراہٹ میں ہوگا
ظالم اپنے ظلموں کے پہاڑ دیکھ رے ہونگے
حضرت انسان کے لمحہ بہ لمحہ کا حساب ہوگا
دنیاکے جھوٹے لیڈر اوندھے پڑے ہونگے
پاکستانی لیڈروں کاانتہائی برے حال میں ہوگا
پاکستانی لیڈروں کی شورش اس طرح ہوگی
ہر تصویر میں جانوروں سے بد تر اعمال ہوگا
قیامت میں رسوائیوں کا تمام حال ان لیڈران کا ہوگا
عکس دنیا میں ان لیڈرانوں نے دین و دنیاکا برا حال کیا ہوگا
کہ حصول دولت و ہوس میں ڈوبے تھے اس طرح
ظالم لیڈرانوں نے مظلموں پرظلم کرناچھوڑا نہ ہوگا
نہ بنیادی سہولتیں نہ انصاف و حق میسر کیا ہوگا
الیکشن کے دنوں میں خوبصورت خوابوں کا انبار ہوگا
روز قیامت پاکستانی عوام کا جو حال ہوگا وہ دیکھنے والا ہوگا
ہر شخص بد عنوانی، لوٹ کھسوٹ، دھوکہ دہی میں مجرم بنا ہوگا
اے جاوید سنبھل نہیں سکتی اُس وقت تک حالت پاکستان کی
کہ جب تک ہر شخص اپنا اپنا خود احتساب کرنانہ شروع کریگا
جاوید صدیقی
تحلیل، مسمار، بربادی اوراختتام ہوگا
اُس وقت کوئی نہیں صرف اللہ کاوجود ہوگا
اللہ اپنے حبیب کا ذکراُس دن بھی کریگا
درود و سلام پڑھتا ہے رب اپنے حبیب پر
حبیب ظاہری نہ ہوگا تو کیا ہوامحبوب تو ہوگا
قطاریں بندھی ہوئی ہونگی حضرت انسانوں کی
ہر ایک پریشان ، فکرمند اور گھبراہٹ میں ہوگا
ظالم اپنے ظلموں کے پہاڑ دیکھ رے ہونگے
حضرت انسان کے لمحہ بہ لمحہ کا حساب ہوگا
دنیاکے جھوٹے لیڈر اوندھے پڑے ہونگے
پاکستانی لیڈروں کاانتہائی برے حال میں ہوگا
پاکستانی لیڈروں کی شورش اس طرح ہوگی
ہر تصویر میں جانوروں سے بد تر اعمال ہوگا
قیامت میں رسوائیوں کا تمام حال ان لیڈران کا ہوگا
عکس دنیا میں ان لیڈرانوں نے دین و دنیاکا برا حال کیا ہوگا
کہ حصول دولت و ہوس میں ڈوبے تھے اس طرح
ظالم لیڈرانوں نے مظلموں پرظلم کرناچھوڑا نہ ہوگا
نہ بنیادی سہولتیں نہ انصاف و حق میسر کیا ہوگا
الیکشن کے دنوں میں خوبصورت خوابوں کا انبار ہوگا
روز قیامت پاکستانی عوام کا جو حال ہوگا وہ دیکھنے والا ہوگا
ہر شخص بد عنوانی، لوٹ کھسوٹ، دھوکہ دہی میں مجرم بنا ہوگا
اے جاوید سنبھل نہیں سکتی اُس وقت تک حالت پاکستان کی
کہ جب تک ہر شخص اپنا اپنا خود احتساب کرنانہ شروع کریگا
جاوید صدیقی
جاوید صدیقی کی لکھی کچھ رباعیاں رباعی
بدلتے ہیں جہاں کو وہ ، جو رکھتے ہیں امتیاز ذہن
تدبر و سوچ و افکار و حکمت کے ہیں وہ ذہن
جنہیں نہی آتا بے ربط سیاست کرنے کا طریقہ
وہی توپاتے ہیں سربلندی سیاست کے میدانوں میں
رباعی
رات کی تاریک ہو یا دِن کا اُجالا
ہر شخص تھا محفوظ اور مقام میں اعلیٰ
نہ کسی کو تھا ڈر نہ خوف نہ جان کا خطرہ
ہر طرف چھایا ہوا تھا علم و ادب کا گہوارہ
جاوید صدیقی
بدلتے ہیں جہاں کو وہ ، جو رکھتے ہیں امتیاز ذہن
تدبر و سوچ و افکار و حکمت کے ہیں وہ ذہن
جنہیں نہی آتا بے ربط سیاست کرنے کا طریقہ
وہی توپاتے ہیں سربلندی سیاست کے میدانوں میں
رباعی
رات کی تاریک ہو یا دِن کا اُجالا
ہر شخص تھا محفوظ اور مقام میں اعلیٰ
نہ کسی کو تھا ڈر نہ خوف نہ جان کا خطرہ
ہر طرف چھایا ہوا تھا علم و ادب کا گہوارہ
جاوید صدیقی
ہم نے بدلتے ہوئے زمانے کو دیکھا ہم نے بدلتے ہوئے زمانے کو دیکھا
چہروں میں چھپے ہوئے غموں کودیکھا
ہرپاکستانی کو الجھنوں میں الجھا ہوادیکھا
پریشانیوں میں سب کو ڈوبا ہوا دیکھا
عجیب کیفیت اور عجیب ماحول میں دیکھا
یہاں انسانیت کو لٹتا ہوا بہت دیکھا
عزت و عصمت کو تار تار ہوا دیکھا
بھوک و افلاس کو یہاں جلتا ہوا دیکھا
مرد و زن کو دین اسلام سے دور دیکھا
مولویوں اور ملاﺅں کو لڑتے ہوئے دیکھا
سیاست کو حد سے زیادہ پرگندہ یہاں دیکھا
لیڈرانوں کو لومڑی سے زیادہ چالاک دیکھا
پولیس و انتظامیہ کو مجرم بناتے ہوئے دیکھا
عدلیہ میں انصاف کو رقموں میں لپٹا ہوا دیکھا
قانون کو امراءو وزراءکا نچلا غلام بنتے ہوئے دیکھا
اس سر زمین پاک میں ہر اک کو روتے ہوئے دیکھا
محافظ سرحدوں کو دشمنوں کے آگے بے بس دیکھا
ایٹم ہوتے ہوئے بھی ترقی کو مرتے ہوئے دیکھا
اے جاوید تونے کسی کو سچ لکھتے ہوئے دیکھا
ہر قلم اور زبان میں قیمتوں کا نرخ دیکھا جاوید صدیقی
چہروں میں چھپے ہوئے غموں کودیکھا
ہرپاکستانی کو الجھنوں میں الجھا ہوادیکھا
پریشانیوں میں سب کو ڈوبا ہوا دیکھا
عجیب کیفیت اور عجیب ماحول میں دیکھا
یہاں انسانیت کو لٹتا ہوا بہت دیکھا
عزت و عصمت کو تار تار ہوا دیکھا
بھوک و افلاس کو یہاں جلتا ہوا دیکھا
مرد و زن کو دین اسلام سے دور دیکھا
مولویوں اور ملاﺅں کو لڑتے ہوئے دیکھا
سیاست کو حد سے زیادہ پرگندہ یہاں دیکھا
لیڈرانوں کو لومڑی سے زیادہ چالاک دیکھا
پولیس و انتظامیہ کو مجرم بناتے ہوئے دیکھا
عدلیہ میں انصاف کو رقموں میں لپٹا ہوا دیکھا
قانون کو امراءو وزراءکا نچلا غلام بنتے ہوئے دیکھا
اس سر زمین پاک میں ہر اک کو روتے ہوئے دیکھا
محافظ سرحدوں کو دشمنوں کے آگے بے بس دیکھا
ایٹم ہوتے ہوئے بھی ترقی کو مرتے ہوئے دیکھا
اے جاوید تونے کسی کو سچ لکھتے ہوئے دیکھا
ہر قلم اور زبان میں قیمتوں کا نرخ دیکھا جاوید صدیقی
یہ کون طائر سدرہ سے ہم کلام آیا یہ کون طائر سدرہ سے ہم کلام آیا
جہان خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبین بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
”زبان پہ بار خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
خط جبیں تو اُم الکتاب کی تفسیر
کہاں سے لاﺅں ترا مثل اور تیری نظیر
دکھاﺅں پیکر الفاظ میں تری تصویر
”مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے“
کہاں وہ پیکر نوری، کہاں قبائے غزل
کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
کہاں وہ جلوہ ¿ معنی، کہاں ردائے غزل
”بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے“
تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
”ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے“ Jawed Siddiqi
جہان خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبین بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
”زبان پہ بار خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
خط جبیں تو اُم الکتاب کی تفسیر
کہاں سے لاﺅں ترا مثل اور تیری نظیر
دکھاﺅں پیکر الفاظ میں تری تصویر
”مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے“
کہاں وہ پیکر نوری، کہاں قبائے غزل
کہاں وہ عرش مکیں اور کہاں نوائے غزل
کہاں وہ جلوہ ¿ معنی، کہاں ردائے غزل
”بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے“
تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
”ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے“ Jawed Siddiqi
حمد عزیز احسن (کراچی)
دل پہ مرے احساس نے جو حرف لکھا ہے
ہے تیرے سوا کون کہ جس نے وہ پڑھا ہے
تصویر تری کثرت جلوہ سے ہے معدوم
آئینہ حیرت ہے کہ آغوش کشا ہے
ہر آنکھ ہے رنگوں کی فراوانی سے خیرہ
وحدت کا تری بھید کھلا تھا نہ کھا ہے
تو نے ہی تو ہر مرحلہ شوق میں یارب!
اس چشم تماشا کو نیا عزم دیا ہے
جو تو نہیں چاہے وہ کبھی ہو نہیں سکتا
ہر کام فقط تیرے ارادے سے ہوا ہے
ہر جاں کو تسلی کہ حفاظت میں ہے تیری
ہر زخم تری چشم عنایت سے بھرا ہے
ایماں ترے ہونے کا، مری جاں کا اثاثہ
ایماں ترے قرب کا اس دل کی جلا ہے
تو نے ہی مجھے نطق کی دولت سے نوازا
تو نے مرے احساس کو اظہار دیا ہے
احسن پہ عنایات کے در باز ہوں یارب
یہ دشت تحیر میں تجھے ڈھونڈ رہا ہے
صبیح رحمانی
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاﺅں میں تھا
زباں خموش تھی دل محو التجاﺅں میں تھا
در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداﺅں میں تھا
غلاف خانہ ¿ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
خدا سے عرض و گزارش کی انتہاﺅں میں تھا
حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاﺅں میں تھا
طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
جہان ارض و سما جیسے میرے پاﺅں میں تھا
فضائے معرفت آثار میں تھا دل سرشار
مرا وجود خدا کے کرم کی چھاﺅں میں تھا
دھڑک رہا ہے مرے ساز روح پر اب بھی
وہ ایک نغمہ جو ”لبیک“ کی صداﺅں میں تھا
مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاﺅں گا
کہ یہ سوال بھی شامل مری دعاﺅں میں تھا Jawed Siddiqi
دل پہ مرے احساس نے جو حرف لکھا ہے
ہے تیرے سوا کون کہ جس نے وہ پڑھا ہے
تصویر تری کثرت جلوہ سے ہے معدوم
آئینہ حیرت ہے کہ آغوش کشا ہے
ہر آنکھ ہے رنگوں کی فراوانی سے خیرہ
وحدت کا تری بھید کھلا تھا نہ کھا ہے
تو نے ہی تو ہر مرحلہ شوق میں یارب!
اس چشم تماشا کو نیا عزم دیا ہے
جو تو نہیں چاہے وہ کبھی ہو نہیں سکتا
ہر کام فقط تیرے ارادے سے ہوا ہے
ہر جاں کو تسلی کہ حفاظت میں ہے تیری
ہر زخم تری چشم عنایت سے بھرا ہے
ایماں ترے ہونے کا، مری جاں کا اثاثہ
ایماں ترے قرب کا اس دل کی جلا ہے
تو نے ہی مجھے نطق کی دولت سے نوازا
تو نے مرے احساس کو اظہار دیا ہے
احسن پہ عنایات کے در باز ہوں یارب
یہ دشت تحیر میں تجھے ڈھونڈ رہا ہے
صبیح رحمانی
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاﺅں میں تھا
زباں خموش تھی دل محو التجاﺅں میں تھا
در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداﺅں میں تھا
غلاف خانہ ¿ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
خدا سے عرض و گزارش کی انتہاﺅں میں تھا
حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاﺅں میں تھا
طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
جہان ارض و سما جیسے میرے پاﺅں میں تھا
فضائے معرفت آثار میں تھا دل سرشار
مرا وجود خدا کے کرم کی چھاﺅں میں تھا
دھڑک رہا ہے مرے ساز روح پر اب بھی
وہ ایک نغمہ جو ”لبیک“ کی صداﺅں میں تھا
مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاﺅں گا
کہ یہ سوال بھی شامل مری دعاﺅں میں تھا Jawed Siddiqi
ُپاکستان کوئی دُودھ سے دُھلا نہیں یہاں پر
سیاست لپٹی ہوئی ہے جرم میں یہاں پر
دوسروں پر الزام لگانا ہے آسان لیکن
اپنے گریباں میں جھانکنا مشکل یہاں پر
ہاتھ ہیں ڈوبے ہوئے ناخون حق میں
مقتل گاہ ہیں سیاسی تنظیمیں یہاں پر
بن گیا ہے شب و روز فیشن یہاں سیاست کا
کہ لاشوں پہ چلتی ہے سیاست یہاں پر
قوموں میں انتشار در انتشارہے پھیلا
غدار وطن کا ہوا راستہ ہموار یہاں پر
ظالم و قاتل ہےں آزاد ہماری صفوں میں
کس سے کرے گا فریاد اب آدمی یہاں پر
ضمیر بکتا ہے یہاں چند کوڑیوں پر
انسانیت کو قتل کرتا ہے انساںیہاں پر
یہ کیسی جمہوریت ہے میرے پاک وطن میں
ابلاغ کو بھی زنجیر میں پنہاں کیا ہے یہاں پر
ہر ایک نے اوڑھ لی ہے چادرِ فرعونی
ہے کوئی جاوید اب وارثِ ا بن قاسم یہاں پر جاوید صدیقی
سیاست لپٹی ہوئی ہے جرم میں یہاں پر
دوسروں پر الزام لگانا ہے آسان لیکن
اپنے گریباں میں جھانکنا مشکل یہاں پر
ہاتھ ہیں ڈوبے ہوئے ناخون حق میں
مقتل گاہ ہیں سیاسی تنظیمیں یہاں پر
بن گیا ہے شب و روز فیشن یہاں سیاست کا
کہ لاشوں پہ چلتی ہے سیاست یہاں پر
قوموں میں انتشار در انتشارہے پھیلا
غدار وطن کا ہوا راستہ ہموار یہاں پر
ظالم و قاتل ہےں آزاد ہماری صفوں میں
کس سے کرے گا فریاد اب آدمی یہاں پر
ضمیر بکتا ہے یہاں چند کوڑیوں پر
انسانیت کو قتل کرتا ہے انساںیہاں پر
یہ کیسی جمہوریت ہے میرے پاک وطن میں
ابلاغ کو بھی زنجیر میں پنہاں کیا ہے یہاں پر
ہر ایک نے اوڑھ لی ہے چادرِ فرعونی
ہے کوئی جاوید اب وارثِ ا بن قاسم یہاں پر جاوید صدیقی