درد میری زندگی کا ترجما بنتا گیا
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آباددرد میری زندگی کا ترجماں بنتا گیا
دل کو گھائل کر گیا آہ و فغاں بنتا گیا
ایک آنسو کیا بہا پھر کارواں بنتا گیا
واقعہ سمجھے جسے وہ داستاں بنتا گیا
دل کی باتیں جس سے ہم کرتے تھے اپنا جان کر
رفتہ رفتہ دشمنوں کا رازداں بنتا گیا
اس کی یادوں سے مرے دل کی زمیں روشن رہی
جو تخیل کے فلک پر کہکشاں بنتا گیا
نفرتیں اپنا مقدر سوچنا کیوںکر ہوئیں
کیوں دلوں میں بدگمانی کا جہاں بنتا گیا
عکس جس کا ذہن و دل پر مستقل چھایا رہا
وصل اس کا دن بہ دن وہم و گماں بنتا گیا
دشتِ فرقت میں بھٹکتا ہی رہا میں عمر بھر
ہجر میرے واسطے آزارِ جاں بنتا گیا
غم کا لاوا پھوٹ نکلا دل سے آخر ایک دن
جس جگہ پہنچا وہیں آتش فشاں بنتا گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






