دل کے صحرا
Poet: فرید علوی By: Ghulam Farid, Karachiدل کے صحرا میں کوئی پھول کھلایا نہ گیا
درد ایسا تھا کہ ہنس کر بھی چھپایا نہ گیا
ہم نے ہر موڑ پہ چاہا تھا سہارا کوئی
اپنی قسمت سے مگر ہاتھ ملایا نہ گیا
رات آنکھوں میں کٹی، خواب بھی ٹوٹے سارے
دل کا ویران نگر پھر سے بسایا نہ گیا
جس کو اپنا سمجھا، وہی بیگانہ نکلا
زخم ایسا تھا کہ برسوں بھی بھلایا نہ گیا
ہم نے خاموشی کو سینے سے لگا رکھا تھا
حالِ دل پھر بھی زمانے سے چھپایا نہ گیا
وقت کے ساتھ سبھی لوگ بدل جاتے ہیں
دل کو یہ راز مگر پہلے بتایا نہ گیا
اب نا امیدی کے سائے ہیں ہر اک جانب علوی
کوئی امید کا جگنو بھی جلایا نہ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






