مقابلے کی خواہش
Poet: Ibrahim Khushboo By: Muhammad Ibrahim Chohan, Lahoreتھی ان سے مقابلے کی بڑی خواہش مجھ کو
نینوں نے ان کےمار دیا،ورنہ کمزور نہ تھے ہم
نہ جانے کیسے ہو گیا نینوں کے ان کا وار ہم پر
عصاب بھی تھے مضبوط، دل کے بھی اتنے موم نہ تھے ہم
اب جیت کر دکھائیں یہ مقابلہ ہم سے
ڈٹ تو جاتے وار سے پہلے ان کے باخبر نہ تھے ہم
محبت سے نکل کر کر لیں یہ مقابلہ ہم سے
ویران نہ کر دیا ان کو تو کہنا خوشبو نہ تھے ہم
More Love / Romantic Poetry






