میرا نہیں رہا تو تمہارا نہیں رہا
Poet: محمود حسین عاکف By: محمود حسین عاکف , Lahoreمیرا نہیں رہا تو تمہارا نہیں رہا
اس شہر میں بھی کوئی ہمارا نہیں رہا
کمرے میں چند ایک کتابیں ہی رہ گئیں
دل کو جہان بھر کا سہارا نہیں رہا
برسوں کسی کی یاد منائی گئی مگر
اب ذکر تک بھی اس کا گوارہ نہیں رہا
اک عمر آنکھ رکھتی رہی دید کی امید
آنکھوں کا پھر وہ راج دلارا نہیں رہا
دکھ یہ نہیں ہماری وہ نظروں سے گر گیا
غم یہ بھی ہے وہ یار ہمارا نہیں رہا
عاکف محبتوں کے خسارے پہ بحث تھی
ہم ہنس دیے کہ ہم کو خسارہ نہیں رہا
More Love / Romantic Poetry






