وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی
Poet: عابد جعفری By: مصدق رفیق, Karachiوہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی
بات پیشانی پہ لکھی ہوئی پیش آئی بھی
دل تو پہلے ہی تھا محصور غم تنہائی
اس پہ دھرنا دئے بیٹھی ہے یہ پروائی بھی
جس طرف رخ ہو ہوا کا یہ برستی ہے وہیں
ابر کی طرح سے ہوتی ہے شناسائی بھی
دل کو رہتی بھی ہے اب محفل یاراں کی تلاش
اور طبیعت ہے کہ اس بزم میں گھبرائی بھی
More Love / Romantic Poetry






