یوں تو ہر مسافر کو تھا اپنے نقصان کا دکھ

Poet: ڈاکٹر عباداللہ ساجد By: ڈاکٹر عباداللہ ساجد, Rawalpindi

یوں تو ہر مسافر کو تھا اپنے نقصان کا دکھ
مگر میر کارواں کو تھا پورے کارواں کا دکھ

خرید لایا ہوں میں روٹی انا بیچ کے اپنی
کاش کہ کوئی سمجھے میرے نقصان کا دکھ

کوئی سمجھ سکتا ہی نہیں کسی اور کا دکھ
کسی طوائف سے پوچھ بدن پر نشان کا دکھ

اک شریف زادی جھول گئی ہے پنکھے سے
لاش اس کی سنا رہی تھی بہتان کا دکھ

خدا اتنا بھی نہ بخشے کمینے کو عروج
کہ نظر آئے نہ اسے کسی انسان کا دکھ

دکھ تو دکھ ہے مگر خدا کبھی نہ دکھائے
ماں کو بچوں کا اور بچوں کو ماں کا دکھ

Rate it:
Views: 113
13 Mar, 2025