اسرائیل کا آئرن ڈوم کیا ہے

اسرائیل کا آئرن ڈوم میزائل شکن نظام ان دنوں خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہ ایک جدید میزائل شکن نظام ہے جو کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔

آئرن ڈوم جدید ریڈار کی مدد سے اپنے ہدف کو تلاش کرتا ہے اور محض 20 سے 45 سیکنڈ کے اندر ہدف (داغے گئے راکٹ) کو راستے میں روک کر اسے ناکارہ بنا دیتا ہے۔ آئرن ڈوم کے ذریعے داغے گئے میزائل کی رینج 2.5 میل سے 44 میل تک ہوتی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ نظام اسرائیلی رفال ایڈوانس ڈیفنس سسٹم اور اسرائیلی ایئرو اسپیس انڈسٹریز نے امریکی مالی وسائل اور تیکنیکی مدد سے تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد گنجان آباد اسرائیلی علاقوں اور اہم تنصیبات کو کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ حملوں سے بچانا ہے۔

اس کا استعمال سب سے پہلے سال 2011 میں کیا گیا تھا، جب غزہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کیلئے داغے گئے راکٹوں کو اسرائیل کے جنوبی شہر بیٔرشیبہ میں نصب آئرن ڈوم’ میزائل سسٹم کی بیٹری نے ناکارہ بنایا۔

یہ نظام ریڈار کے ذریعے ہدف کی درست نشان دہی، جدید کنٹرول سسٹم اور راکٹ لانچر پر مشتمل ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے پاس اس میزائل سسٹم کی 10 بیٹریز ہیں۔ ایک بیٹری میں تین یا چار راکٹ لانچرز ہوتے ہیں جب کہ ہر لانچر میں 20 میزائل نصب کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، اس جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کی ضرورت 2006 میں اسرائیل، لبنان جنگ کے دوران محسوس کی گئی تھی جب مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے گئے تھے۔ آئرن ڈوم میزائل سسٹم کی بیٹری ریڈار یونٹ اور کنٹرول سینٹر پر مشتمل ہوتی ہے جو کسی بھی سمت سے داغے گئے میزائل یا راکٹ کی نشان دہی، اس کی اُونچائی اور رفتار کا تخمینہ لگا کر سیکنڈز میں مذکورہ ہدف کو نشانہ بناتی ہے اور فضا میں ہی اسے ناکارہ بنا دیا جاتا ہے۔

آئرن ڈوم سے داغے گئے انٹر سیپٹر میزائل کا رُخ ہوا میں موڑا بھی جا سکتا ہے جب کہ یہ مخالف سمت سے آنے والے راکٹ یا میزائل سے ٹکرانے کے بجائے اس کے بالکل قریب جا کر پھٹ جاتا ہے۔

سرائیلی حکام کے مطابق، غزہ کی پٹی کے قریب آباد اسرائیلی آبادی کے رہائشیوں کے پاس راکٹ حملوں سے بچنے کے لیے 15 سے 90 سیکنڈز ہوتے ہیں۔ راکٹ حملوں سے آگاہ کرنے کے لیے سائرن بجائے جاتے ہیں۔ اس دوران ‘آئرن ڈوم’ میزائل سسٹم فوری متحرک ہو جاتا ہے۔ میزائل سسٹم میں نصب خود کار نظام صحرا یا کھلے مقام کی جانب گامزن راکٹ کو نشانہ نہیں بناتا۔

اسرائیلی رفال ایڈوانس ڈیفنس سسٹم کی ویب سائٹ کی جانب سے جنوری میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران اسرائیل پر داغے گئے 2500 راکٹوں کو ناکارہ بنانے کی شرح 90 فی صد رہی۔ اس ایک میزائل کی تیاری پر 80 ہزار ڈالرز کے لگ بھگ لاگت آتی ہے۔ اسی وجہ سے صرف ان راکٹوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن کے آبادی پر گرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

123