عالمی سطح پر تمباکو نوشی کرنےوالوں کی تعدادمیں ڈھائی کروڑ افراد کی کمی

image

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں آبادی بڑھنے کے باوجود عالمی سطح پر تمباکونوشی کرنے والوں کی تعداد میں ڈھائی کروڑ افراد کی کمی آئی ہے۔

منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں عالمی ادارے نے امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ آنے والے برسوں میں یہ رجحان جاری رہے گا۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 میں تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد 1.32 ارب تھی جو کم ہو کر 2021 میں 1.30 ارب ہوگئی۔ امید کی جارہی ہے 2025 تک یہ ہندسہ 1.27 ارب تک گِر جائے گا۔

60 ممالک 2010 سے 2025 کے درمیان تمباکو کی کھپت کو 30 فیصد تک کم کرنے عالمی ہدف پر گامزن ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گھیبریسس کا کہنا تھا ’ہر سال کم لوگوں کو تمباکو کا استعمال کرتے دیکھنا بہت حوصلہ افزا ہے، اور عالمی اہداف کو حاصل کرنے کےلئے مزید ممالک راہ پر گامزن ہیں۔‘

آفیشل بیان میں ان کا کہنا تھا ’ابھی ہمیں بہت دور جانا ہے اور تمباکو کی کمپنیاں اپنے وسیع منافعوں کو بچانے کےلئے ہر حربہ استعمال کریں گی۔ ہم لوگوں کو تمباکونوشی ترک کروانے اور زندگیاں بچانے پر ممالک کی حوصلہ افزائی کریں گے۔‘

ادارے کے ڈائریکٹر برائےہیلتھ پروموشن رُڈیگر ریچ نے کہا کہ پچھلی رپورٹس میں تمباکو کے استعمال میں کمی کے اہداف حاصل کرنے کےلیے صرف 32 ممالک تھے لیکن اس سال تعداد دُگنی ہوگئی۔

تمباکو استعمال کرنے والے افراد کے اعداد و شمار کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’2015 سے اب تک ڈھائی کروڑ افراد کم ہوئے ہیں یا پچھلے پانچ سالوں میں اندازاً 50 لاکھ افراد ہر سال کم ہوئے اور 2025 تک مزید دو کروڑ 80 لاکھ افراد کم ہونے توقع ہے۔‘

2020 میں عالمی آبادی کا 22.3 فیصد حصہ تمباکو استعمال کیا کرتا تھا جس میں تمام مردوں کا 36.7 فیصد اور تمام خواتین کا 7.8 فیصد حصہ تمباکو استعمال کرتا تھا۔

پانچ سال کے عرصے میں آبادی بڑھنے کے باوجود تمباکو کا استعمال کرنے والے مردوں میں تعداد 20 لاکھ کم ہونے کے بعد ایک ارب 67 لاکھ پر پہنچ گئی ہے جبکہ خواتین میں دو کروڑ 30 لاکھ کمی کے بعد تعداد 23 کروڑ 10 لاکھ تک گِر گئی ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.