ڈھاکہ ٹیسٹ کے چوتھے دن کا کھیل جاری، میچ بے نتیجہ رہنے کا قومی امکان

image

ڈھاکہ: پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کا کھیل جاری ہے۔

پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان ٹیسٹ سیریز جاری ہے جس کا دوسرا میچ ڈھاکہ کے شیر بنگلا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے جبکہ آج میچ کا چوتھا روز ہے اور میچ بے تیجہ رہنے کا قوی امکان نظر آرہا ہے۔

چوتھے روز کے کھیل کا آغاز بھی بوندا بادی کے باعث تاخیر کا شکار رہا اور گراؤنڈ اسٹاف نے اسٹیڈیم کی پچ اور اسکوائر کو ڈھانپ رکھا تھا تاہم اب پاکستان نے دوبارہ اپنی اننگ کا آغاز کردیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اننگ کا آغاز قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور اظہر علی نے کیا جبکہ بابر اعظم 76 رنز اسکور کرکے پویلین لوٹ گئے ہیں اور ان کے پیچھے ہی اظہر علی بھی 56 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

پاکستان ٹیم نے اپنی پہلی اننگ میں 4 وکٹوں کے نقصان پر اب تک 212 رنز اسکور کرلیے ہیں جبکہ فواد عالم 12 رنز بناکر اور محمد رضوان 3 بناکر کریز پر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی شکست، شاہینوں کا شاندار کلین سوئپ

اس سے قبل تیسرے دن کا کھیل بھی بارش کے باعث تعطل کا شکار رہا اور کھلاڑیوں کو دونوں ٹیموں کو مسلسل بارش کے باعث ہوٹل میں رہنے کی ہدایات کی گئی تھی تاہم بعد ازاں تیسرے دن کا کھیل منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

دوسرا دندوسرے روز کا کھیل بھی بارش کے باعث وقت سے پہلے ختم کردیا گیا تھا جبکہ دوسرے دن کے کھیل کے اختتام تک پاکستان نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 188 رنز بنالیے تھے۔

پہلا دنکھیل کے پہلے دن پاکستان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور اننگ کا آغاز اوپنرز عابد علی اور عبداللہ شفیق نے کیا۔ بعد ازاں 25 بناکر عبداللہ شفیق اور 39 رنز بناکر عابد علی پویلیں لوٹ گئے جبکہ بنگلادیش کی جانب سے دونوں کھلاڑی تیج الاسلام نے آوٹ کیے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کھیلی جارہی ہے جس کا پہلا میچ جیت کر پاکستان کو سیریز میں 1،0 کی برترتی حاصل ہے جبکہ سیریز میں شامل دونوں ٹیسٹ میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.