امریکا میں احمدی رہنماء کو ریپ کے الزامات کا سامنا

image

امریکی ریاست ٹیکساس میں جماعت احمدیہ کے ایک سابق رہنماء کو دو سال سے کمیونٹی کے ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کے متعدد چارجز اور الزامات کا سامنا ہے۔

امریکی خیراتی ادارے فیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن جرائم کا الزام لگایا جا رہا ہے، وہ مشتبہ طور پر مارچ 2018 اور مارچ 2020 کے درمیان ہوئے۔ 38 سالہ منیب الرحمان ایک مذہبی تنظیم کی جانب سے ڈلاس میں احمدی بیت الاکرم مسجد میں سات سے پندرہ سال کے بچوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ نگرانی کرنے کا مقصد مذہبی اور سماجی قیادت کا احتساب کر کے محفوظ سماجی ماحول کو فروغ دینا تھا۔

منیب احمد کو 11 مارچ 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ایک لاکھ ڈالر کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ منیب احمد کو کم از کم چھ الزامات کا سامنا ہے، جن میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے تین الزامات اور جنسی رابطے کے ذریعے بچے کے ساتھ بے حیائی کے تین الزامات شامل ہیں۔

یہ چارجز دو مختلف کاؤنٹیوں ڈینٹن اور کولن میں ہیں۔  ہیرس کاؤنٹی میں منیب پر اسی نوعیت کے دو اور الزامات ہیں جبکہ اس کا ٹرائل ابھی ختم ہونا ہے۔ اس کا تعلق کینیڈا سے ہے لیکن عدالت کی جانب سے اس کا پاسپورٹ ضبط کیے جانے کی وجہ سے وہ امریکا چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔

فیس کی رپورٹ کے مطابق، ملزم نے 14 سالہ لڑکے کو اپنی نگہداشت میں رکھا۔ کم از کم 11 دستاویزی ملاقاتوں کے دوران ملزم نے لڑکے کے ساتھ اس کے اپارٹمنٹ میں، اس کی کار میں، اور کمیونٹی کی تقریبات کے دوران اور نوجوانوں کے گروپ کے دوروں کے دوران جنسی زیادتی کی۔

ملزم کو 21 جولائی 2019 کو ناظم اطفال (سات سے 15 سال کی عمر کے لڑکوں کا سربراہ) کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کی درخواست پر متاثرہ اور اس کے خاندان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

جنسی تشدد کے الزامات کا پتہ لگنے پر متاثرہ بچے کے خاندان نے پولیس کے پاس گئے اور منیب احمد کو 11 مئی 2020 کو گرفتار کرلیا گیا۔ اسے فوری طور پر معتمد خدام کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔

متاثرہ بچے کے والد نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے جماعت کے دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے منیب کے سپروائزر وقاص حسین کو بھی ہٹانے کا کہا جو حرارکی میں قائد (سربراہ) تھا تاہم جماعت نے اس کے ساتھ تعاون کیا اور نہ ہی متعدد بار وقاص حسین (جس کی شای منیب کی بہن سے ہونی ہے) کو ہٹانے کیلئے کی گئی درخواست پر توجہ دی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وقاص حسین کو ہٹوانے کیلئے جون 2020ء میں پاکستان میں غیر احمدی بیوروکریٹک رابطے بھی استعمال کئے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بچے کے ساتھ ہمدردی کے بجائے لیڈر شپ نے اسے ناظم اطفال کے عہدے سے ہٹادیا۔

متاثرہ بچے کے والدہ کا کہنا ہے کہ اب ہم جماعت کے فعال اراکین نہیں ہیں، اور بیت الاکرام بھی نہیں جاتے۔

فیس کو دیئے گئے انٹرویو میں ایک متاثرہ بچے کا کہنا تھا کہ ’’انہوں نے مجھے اس وقت چھوڑ دیا جب مجھے ان کی زیادہ ضرورت تھی، میں اپنی کمیوٹی سے چاہتا ہوں کہ بہتر کام کرے۔  یہ ایسا معاملہ نہیں جسے بند دروازوں کے پیچھے رکھ کر یا لڑکیوں کو پردہ کرنے کا کہہ کر طے کیا جاسکتا ہے، یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہماری کمیونٹی میں ایسا کوئی ہے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو، برائے مہربانی آگے آئیں۔ اب آپ کیلئے وقت ہے۔

اس وقت تک کچھ بھی نہیں بدلے گا جب تک ہم ایک کمیونٹی کے طور پر محفوظ ماحول کو فروغ نہیں دیں گے، جہاں ان جیسے اہم سماجی مسائل پر کھل کر بات کی جاسکے اور شفاف طریقے سے نمٹا جا سکے۔

متاثرہ بچے کے والد کی جانب سے فیس کو دیئے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے خاندان کے دھوکہ دہی، غصے اور نقصان کے انتہائی گہرے احساسات رکھتا ہے، کوئی بھی چیز اب کمیونٹی میں حفاظت اور اعتماد واپس نہیں لاسکتی۔

سماء ڈیجیٹل نے ملزم منیب اور جماعت کے ڈلاس کے صدر حامد شیخ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ انہیں واٹس ایپ کے ذریعے اپنا ردعمل دینے کیلئے پیغامات بھیجے گئے تھے۔ پیغامات کے کئی گھنٹے بعد سماء نے حامد شیخ کو کال کی تاہم دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔

منیب کا کیس کے بعد سامنے آرہا ہے، جن میں ڈاکٹر محمد افضل اُپل اور 36 سالہ ندا الناصر شامل ہیں، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ بچپن سے لے کر 25 سال کی عمر تک انہیں اس کے والد اور کمیونٹی کے عالمی رہنماء کے قریبی خاندان کے افراد کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، جو سنگین الزامات کے باوجود اب بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

برطانیہ کی پولیس ندا کے کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ڈاکٹر اُپل، جو کہ یونیورسٹی آف وسکونسن پلیٹ وِل کے کمپیوٹر سائنس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں نے گزشتہ ہفتے الزام لگایا تھا کہ ان کے ایک مرد رشتہ دار نے ان کے ساتھ اس وقت جنسی زیادتی کی تھی جب وہ پاکستان میں جماعت کے روحانی ہیڈ کوارٹر ربوہ میں چھ سال کی تھیں۔ ڈاکٹر اپل نے ابھی تک پولیس کو رپورٹ نہیں کی ہے۔ جب سے ندا اور اپل کے الزامات سامنے آئے ہیں، ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’’ہیش احمدی می ٹو‘‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.